نیویارک میں محرم کا جلوس – محمد حسین

نیویارک کی سب بڑی یونی ورسٹی ’’نیویارک یونی ورسٹی‘‘ سمیت نیویارک اور نیوجرسی (پچاس میں سے صرف دو ریاستیں) کے جڑواں شہروں میں انگریزی، اردو، عربی، فارسی سمیت مختلف زبانوں میں مختلف اقوام کے لوگوں کی جانب سے تقریبا تیس عشرہ مجالس جاری ہیں،

گزشتہ اتوار کو نیویارک شہر کے مرکزی شاہراہ پر محرم کا اکتیس سالوں سے جاری روایتی جلوس بھی نکالا گیا۔ سڑکیں ایک سائڈ سے بند تھیں مگر دوسری طرف سے ٹریفک کے لیے کھلی تھیں، جلوس میں کہیں سے بھی داخل ہو سکتا تھا، چھتوں پر پولیس دیکھی گئی اور نہ ہی جلوس میں داخل ہونے کے لیے کوئی جامہ تلاشی کا سلسلہ تھا۔ جلوس میں کوئی بھی بندہ شریک ہو سکتا تھا،

میں حیران تھا کہ راہگیر لوگ جلوس کے قریب آ کر کچھ دیر رکتے تھے پھر آگے نکل جاتے، کچھ لوگ قریب آ کر جلوس میں شریک کسی سے پوچھ لیتے تھے کہ اس پروگرام کے بارے میں ان کو بتائیں، دلگیر انداز میں پڑھے جانے والے نوحے، شرکاء کے آنسو بہاتی آنکھیں، اور خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد اور غم کے آثار ہر قلب سلیم کو متاثر کر رہے تھے

میرے درجنوں غیر مسلم دوست ان دنوں جب سوالات کرتے ہیں تو میں جواب میں ان کو دنیا کے مشاہیر کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کو پیش کیے گئے خراج تحسین کے کلمات پیش کر دیتا ہوں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہمیں تو اس بات کا بالکل علم نہیں تھا۔

مختلف گفت و شنید کے دوران مجھے ان کے چہرے سے محسوس ہونے لگا کہ واقعہ کربلا کے بارے میں جان کر ان کے لیے اسلام سے متعلق ایک ایسا دریچہ وا ہو جاتا ہے، جو اسلام کے بارے میں میڈیا میں پیش کیے گئے خوفزدگی پر مبنی تاثر سے مختلف ہے بلکہ یہاں نواسہ رسول ظلم و جبر کے خلاف بے مثال قربانیاں دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تو وہ مزید جاننے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔

صرف دو فیصد پر مشتمل مسلمان آبادی کے لیے ’’نظام زندگی‘‘ مفلوج ہونے پر کوئی بھی شکوہ کناں نہیں دیکھا گیا، یہاں سڑکیں بند ہونے کا غوغا سنا گیا اور نہ ہی مذہبی اجتماع کو چار دیواری کے اندر بند کرنے کا مطالبہ کسی نے کیا۔ذکر حسین سے فرقہ واریت پھیلنے کا شور بھی نہیں سنا گیا۔ نیویارک یونی ورسٹی والوں کو بھی ’’تعلیمی ماحول‘‘ خراب ہونے کی فکر نہیں ہے بلکہ وہ ان کے انتظام و اہتمام میں بھرپور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے اسی طرح یہاں ہر مکتب فکر اور رنگ و نسل اور زبان و علاقہ سے تعلق رکھنے والوں کے روزانہ کوئی نہ کوئی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔

اس ’’کافر‘‘ ملک کے برعکس ’’قلعہ اسلام‘‘ سے متعلق سوشل میڈیا پر ہمارے مذہبی و لبرل دانشوروں کا مزاج دیکھ لیں، ملک میں کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف ان کے قلم خاموش رہے بلکہ فرقہ وارانہ تنظیموں، اور دہشت گردوں کا دفاع کرتے رہے ہیں مگرمحرم کے مجالس و جلوسوں میں سینکڑوں دھماکوں اور حملوں کے باوجود اسی دہشت و خوف کو شکست دے کر میدان میں نکلنے والوں پر معترض ہیں کہ ان کی وجہ سے سڑکیں بند، نیٹ ورک پند اور کاروبار بند ہیں، ارے اللہ کے بندو یہ سارے دہشت گردوں کی وجہ سے بند ہونے لگے ہیں ورنہ یہ جلوس تو صدیوں سے نکل رہے ہیں۔ یہ ہمارا مشترکہ تہذیببی ورثہ ہے کسی مکتب فکر کی جاگیر نہیں ہے ہر طبقہ فکر اس میں شریک ہوتے ہیں، آپ بھی شریک ہو جائیں، اپنے پہلے سے قائم کردہ مفروضات کو معطل کر کے قریب جا کر دیکھ لیجیے کہ کیا مجالس و جلوس کے شرکاء کیوں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے ہیں، کیا وہ صرف کسی دوسرے فرقے کے ضد میں سڑک بند کروانے کے لیے جلوس نکالتے ہیں یا ان کے نقطہ نظر اور جذبات کیا ہیں۔

سالانہ تبلیغی اجتماع کے وقت لاہور تا اسلام آباد موٹر وے بند کیا جاتا ہے، ملک بھر میں منعقد ہونے والے سیاسی و مذہبی پروگرامات کے دوران لوگوں کی تعداد کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر سڑکیں بند کی جاتی ہیں، وی آئی پیز کے نقل و حرکت کے دوران شاہراہیں بند اور نیٹ ورک بند کیے جاتے ہیں، قومی تقریبات کے وقت بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ دھرنوں، سیاسی ریلیوں اور الیکشن کے دوران بڑے سیاسی جلسوں کے وقت بھی نامطلوب پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

ان سب پر مجھے تکلیف ہوتی ہے، مگر میرا اصولی موقف یہ ہے کہ ہر شہری کو اس کے انسانی و آئینی حقوق حاصل ہیں اس کے مطابق اس کو جینے اور اپنے مذہبی و سیاسی فکر پر عمل پیرا رہنے کا یکساں موقع ملنا چاہیے،

کرسمس، ہولی، گرونانک کا جنم دن، ایسٹر، مدح صحابہ ریلی، تبلیغی اجتماع، عشق رسول ریلی، میلاد کاجلوس، دعوت اسلامی کا اجتماع یا محرم کے جلوس اسی طرح پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی پی پی، مسلم لیگ ن، ق۔ جمعیت علمائے اسلام ف، س ، جعمیت علمائے پاکستان سمیت کوئی بھی مذہبی و سیاسی تنظیم کوئی اجتماع کرنا چاہے تو یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے، آئین پاکستان اس کی ضمانت دیتا ہے۔

سکیورٹی کا معاملہ پوری ریاست کا معاملہ ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے جس بے پوری قوم کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اسے مذہبی اجتماعات کو چار دیواری میں بند کرنے نہیں ختم کیا جا سکتا بلکہ اس کی نظریاتی اساس کی بیخ کنی اور انتظامی سہولت کاروں اور اس کے متاثرین کو راہ راست پر لانے کے لییے قومی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں کاٹنے والے پاگل کتوں کو بند رکھنے چاہیں نہ کہ لوگوں کو گھروں میں محصور کیے جائیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*