ڈاکٹر شکیل اوج کی شہادت – از حسان اوج

ڈاکٹر شکیل اوج کو 18 ستمبر 2014کوشہید کردیا گیا،تقریباً صبح10:30بجے۔۔ اس وقت جبکہ وہ خانہ فرہنگ ایران جارہے تھے، جہاں ان کے اعزاز میں تقریب رکھی گئی تھی،ڈاکٹر شکیل اوج کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا تھااور یہ اعزاز بھی انہی کے نام رہاکہ وہ برصغیر میں واحد شخصیت تھے جنہیں شعبہ علوم اسلامی میں ڈی لٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔

ان کے قاتل کون تھے؟ ان کے مقاصد کیا تھے؟ اوران کو قتل کرکے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟ان سب سوالات کا جواب یہ ہے کہ ڈاکٹر اوج قدیم و جدید، روایت و جدیدیت،مغرب و مشرق، اسلام اور عصر حاضر میں پل تعمیر کرنا چاہتے تھے،وہ قدیم و جدید کے مابین حائل خلیج کو پاٹنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے،اس اہم اور بہت بڑے کام کا آغازسر سید احمد خان،چراغ علی،سیدامیر علی، خدا بخش،مفتی عبدہُ، جمال الدین افغانی، شبلی نعمانی، ابوالکلام آزاد اور علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے کیا تھا۔اس کام میں شدت وحدت کے بجائے وحدت کا رنگ غالب تھا۔ جدیدو قدیم کو ایک سنگم پر لانااور ان کے مابین نفرت،مخاصمت،حقارت،مبارزت کوکم کرکے ان کو مجتمع کردینا ان کی کوشش تھی، سر سید کی اس علمی میراث کی راہ میں عہد حاضرکے پاس شدت پسند، جدیدیت پسندمسلم مفکرین نے مشکلات پیدا کردی ہیں ۔

لہذا جدید و قدیم میں مکالمے میں روایت جو ڈاکٹر اوج کے ذریعے ایک نئے رنگ اور ڈھنگ سے سامنے آرہی تھی ان کی شہادت نے اس روایت کو منقطع کردیا۔ روایتی دینی حلقوں سے ہمارے جدید حلقوں کا کوئی مکالمہ نہیں ہورہا،یہ بہت بڑی کمزوری اور خلا ء ہے کیوں کہ معاشرے میں فکری تبدیلی علما، مدارس، مساجد،خانقاہوں کے بغیر ممکن نہیں اور یہ تمام ادارے جدیدیت پسند مسلم مفکرین کے حلقہ ء اثرسے باہر ہیں، میرے والد محترم کا کمال یہ رہاہے کہ وہ اپنے تفردات، روشن خیالی، آزاد خیالی کے باوجود روایتی فکری علمی حلقوں کے لیے قابل قبول تھے۔حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جیسے روایت پسندراسخ العقیدہ سنی عالم نے ان کو اپنے حلقہ بیعت میں قبول کیا۔دیوبندی،بریلوی اور شیعہ دینی مدارس ان کو تقاریراور مذاکرے کے لیے بلاتے تھے۔جامعہ بنوریہ کے مفتی نعیم صاحب نے والد صاحب کے ڈین بننے کے بعدان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی اوراس میں ڈاکٹر اوج کے تفردات کو تمام علما نے توجہ سے سنا۔

الجامعۃالعلیمیہ الاسلامیہ جو حضرت مولانا عبدالعلیم قادری کا مرکز انوارہے اوراہل سنت کا قدیم روایتی علمی ادارہ ہے، اس مرکزکے تحت والد صاحب کو اجازۃحدیث و اجازۃ التفسیرکی سند عطاکی گئی،الجامعۃالعلیمیہ الاسلامیہ نے والدصاحب کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی اور شیخ الحدیث حضرت مفتی انواراللہ صاحب نے اپنے دست مبارک سے والد محترم کو چادر پہنائی اور سند عطا کی۔ ممکن ہے بعض لوگوں کا خیال ہو کہ جامعہ کراچی کے اعلیٰ عہدوں ”ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیزاور ڈائریکٹر سیرت چیئر“ پر والد صاحب کے فائزہونے کے باعث یہ تقریب منعقد کی گئی ہو جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جامعات کے متوسلین سے بعض انتظامی فوائد کے حصول کے لیے ایسے تعلقات استوار کیے جاتے ہیں لیکن اس جامعہ نے (جہاں والد محترم کی کئی تقاریر ہوئیں) ان کی شہادت کے بعد بھی انہیں یاد رکھا۔ اگرڈاکٹر اوج کے تفردات، اجتہادات اسلام کی مسلم علمی روایات کے خلاف ہوتے تو الجامعۃالعلیمیہ الاسلامیہ کبھی والد محترم کو اعزاز سے نہ نوازتے۔

ا ن کی شہادت کے بعدالجامعۃالعلیمیہ الاسلامیہ نے سیرت انسائیکلوپیڈیا شائع کیا تو اس کی تقریب افتتاح میں راقم کو تقریر و شرکت کے لیے مدعو کیاگیااور اس تقریب میں والدمحترم کا ذکر خیر ہوا کہ انہی کی تحریک پر یہ کام شروع کیاگیاتھا۔ الجامعۃالعلیمیہ الاسلامیہ کی جانب سے والد صاحب کے کام و نام کاذکر اس بات کاثبوت ہے کہ ان کے تفردات اہل سنت کے دائرہ علمی میں قابل قبول تھے، کاش کہ آج والد محترم حیات ہوتے تو جدید قدیم کے درمیان مکالمے کی روایت زندہ رہتی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا۔

ڈاکٹر اوج اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ”حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ یعنی جب آپ بقید حیات تھے اس زمانے میں جن لوگوں نے آ پ کو دیکھا، سنااور پھر آپ کا انکارکیا، وہ یقیناً کافر تھے لیکن رحلت نبویﷺ کے بعد جو لوگ آپ کا انکارکرتے ہیں تو وہ کافر نہیں کیوں اب تو رسول کو نہیں رسول کے ماننے والوں کو دیکھ کر مسلمان ہونا ہے تو جو موجودہ مسلما نوں کی حالت ہے اسے دیکھ کر اگر کوئی اسلام قبول نہیں کرتا ہے تو اس کو کافر کے مصداق قرار نہیں دیاجاسکتا“البتہ والد محترم خدا تک پہنچنے کہ متعدد راستوں کے قائل نظرآتے ہیں اور اس میں مسلمانو ں کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی نجات کی گنجائش نکل آتی ہے۔

قرآن کی سورۃ 3کی آیت 3 کی تفسیر کرتے ہوئے ڈاکٹر اوج کہتے ہیں ”اس مقام پر اسلام بمعنیٰ سپردگی کے ہیں، وہ ہر مذہب میں ہوسکتا ہے، وہ تمام لو گ جو اپنے مذہب کے ماننے والے ہیں، وہ اپنے مذہب کے مسلم ہیں۔خدا نے کہاکہ ”دین صرف ایک ہے تو اس کا یہی مفہوم ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیمات اس دین کے مصادیق ہیں۔اس طرح جتنے بھی الہامی مذاہب کے ماننے والے ہیں وہ دین کے اس آفاقی تصور کاحصہ قرار پاتے ہیں، البتہ الہامی تعلیمات میں یقیناً ترامیم ہوچکی ہیں جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔اس تناظر میں الہامی مذاہب سے مربوط لوگوں کو اہل جہنم کہنا مناسب نہیں، قرآن نے انہیں کافر سے نہیں پکارا، بلکہ اہل کتاب کی اصطلاح استعمال کی ہے، مسلمانوں کو اب پوری دنیا میں ایک نئے اندازفکر اور طرزعمل کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اوربالخصوص تمام مذاہب کے پیرو کاروں کو اپنا دشمن سمجھنے کی ضرورت نہیں۔

نیزاب مسلمانوں کو بہت واضح طور پر کافروں اور غیر مسلموں میں بھی فرق کرناپڑے گا، بلکہ شاید کہیں کہیں غیر مسلموں کو خود ان کے اپنے تناظر میں مسلمان بھی سمجھنا ہوگا“۔ یہ اقتباسات ڈاکٹر سجاد رئیسی کے انٹرویو سے مستعار لیے گئے ہیں۔ علمی دنیامیں والد محترم شہدکی مکھی کی طرح ہرپھول، ہر مکتبہ فکر سے رس لیتے اور اجتہاد کی نئی دنیااور دین کی منفرد تعبیر بیان کرتے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*