افضل احسن رندھاوا اور غیر پنجابیوں کا آشوب – محمد عامر حسینی

سن راہیا کرماں آلیا
میں بے کرمی دی بات
میرا چڑھدا سورج ڈوبیا
میرے دن نوں کھاگئی رات

( نیک بخت والے راہی سن-مجھ بدبخت کی بات-میرا خوب طلوع سورج ڈوب گیا اور میرے دن کو رات کھاگئی )

حسین پورہ امرتسر کے افضل احسن رندھاوا نے پنجابی شعر و ادب میں بھی ایک ‘حسین پورہ’ ہی آباد کردیا تھا۔پنجاب کی کربلاء کا آشوب انھوں نے شعر اور فکشن میں کئی بار رقم کیا اور ایسے رقم کیا کہ پڑھنے والی ہر آنکھ نم ہوگئی۔1984ء میں جب بھارتی فوج گولڈن ٹیمپل پہ چڑھ دوڑی اور مشرقی پنجاب میں پنجابیوں کی خون کی ندیاں بہادی گئیں تو یہ افضل احسن رندھاوا تھے جنھوں نے اس المیے پہ ایسی نظم لکھی جس کا شمار امرتا پریتم کی 47ء میں پنجاب کی تقسیم پہ لکھی گئی شہرہ آفاق نظم’اج آکھاں وارث شاہ نوں میں’ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

میں نے افضل حسن رندھاوا کا سورج گرہن،دوابہ، شنوا ایشبی کا ناول کا پنجابی ترجمہ ‘ٹٹ بھج’ اور ان کی کچھ غزلیں اور کچھ نظمیں ہی پڑھ رکھی ہیں۔میں ان کی بڑائی کا قائل ہوں۔پنجاب اور انقلابی و مزاحمتی پنجابیت کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

میں جب ان کے لئے چند حرف ہائے خراج عقیدت لکھنے بیٹھا تو مجھے اسی دوران ایک بزرگ دوست کا فون آگیا۔سلام دعا کے بعد وہ پوچھنے لگے کہ کیا کررہے تھے۔تو میں نے بتایا کہ افضل احسن رندھاوا پہ مضمون لکھ رہا تھا۔وہ یہ سنکر تھوڑی دیر کے لئے چپ ہوگئے اور پھر کہنے لگے تم افضل حسن رندھاوا کی 1984ء گولڈن ٹیمپل پہ بھارتی فوج کے دھاوے اور اس سے ابھرنے والے المیہ پہ لکھی نظم کا اپنے مضمون میں ذکر کروگے؟ میں نے کہا کہ آغاز ہی اس سے کررہا ہوں۔تو کہنے لگے

‘ افضل احسن رندھاوا نے اس کے بعد جتنے افسانے، کہانیاں، نظمیں ، غزلیں کہیں اور جتنے بھی انٹرویو دئے ان میں کہیں اپنے ملک اندر مذہبی اور نسلی اقلیتوں پہ ڈھائے گئے مظالم اور ان کی کالونائزیشن، ان کو نوآباددیائے جاںے،ان کی گھیٹوائزیشن بارے کوئی ذکر ہے؟’

تھوڑی دیرکو سانس لینے کو رکے اور پھر کہا’

‘گورے کا اسکول، گرجا، اس کی عدالتیں، اس کی جانب سے سڑکیں، پل بنانے،نہریں نکالنے اور مقامی زبانوں کو ملیامیٹ کرنے کی ٹھیک تصویر کشی کرنے والا، برہمن واد کی محافظ ہندوستانی ریاست کے گولڈن ٹیمپل پہ چڑھ دوڑنے جیسے المیہ پہ منظوم آشوب لکھنے والا بڑا ادیب آخر اس ملک کے احمدیوں، شیعہ، زکری ، ہزارہ شیعہ ، بلوچ ، سندھی ، گلگتی بلتی،سرائیکیوں (بلکہ اس لفظ سے تو رندھاوا جی کو چڑ تھی اور وہ اس شناخت کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے) بارے کوئی المیاتی آشوب منظوم نہ کرسکا۔افریقہ میں کالوں کی نسل کشی پہ تڑپ جانے والے رندھاوا جی یہاں ہورہی مذہبی و نسلی صفائی کے مشن پہ مامور ریاستی و غیر ریاستی بدمعاشوں کی خبر لینے سے معذور کیوں رہے؟ کیا بلوچ قبیلوں کا آشوب اوبی قبیلوں سے الگ اور مختلف ہے؟ کیا اسلام آباد والوں کے بلوچستان میں سڑک،پلوں، نہریں نکالنے،چھاؤنی بنانے اور سپاہ صحابہ ،جماعت اسلامی،جماعت دعوہ کے مدرسے،نام نہاد سماجی فلاح و بہبود کے کام،پاکستان پروٹیکشن ایکٹ ،فوجی عدالتیں،نجی عقوبت خانے،یہ سب کے سب غلام بنانے کا زریعہ نہیں ہیں؟اگر افریقہ اور پنجاب میں گورے کا اسکول،گرجا اور اس کی عدالتیں یہاں کے قبیلوں کو غلام بنانے کا زریعہ بنے تو کیا اسلام آباد کا ترقی پروجیکٹ اور گورننس کا سسٹم ویسا ہی کردار بلوچستان میں نہیں ادا کررہا؟یہ افضل احسن رندھاوا جیسے پنجابی قوم پرست شاعروں اور ادیبوں کو کیوں نظر نہیں آتا؟

کہنے لگے کہ

‘ اردو بولنے والی مہاجر اشرافیہ پہ وہ خوب برسے حالانکہ جیسے پنجابیوں میں انقلابی روایت تھی ایسے اردو بولنے والی آبادی کے اندر بھی کئی بڑے بڑے نام مزاحمت کی علامت تھے جو اردو میں ترقی پسند روایت کا جھومر ہیں مگر وہ اس تقسیم کو کبھی بھی اردو والوں پہ تنقید کرتے ہوئے درمیان میں نہ لائے۔آج جبری گمشدگیوں،ماورائے عدالت قتل و غارت گری،اور نسل کشی کی حد تک جاپہنچنے والی جو صورت حال اس ملک کے شیعہ، بلوچ کو درپیش ہے اور جس آشوب کا سامنا پشتون اور سندھی حرف انکار کی صورت بھگت رہے ہیں اس پہ پنجابی ادیب اور دانشور اور شاعروں کی بھاری اکثریت کی خاموشی کا مطلب کیا ہے؟افضل احسن رندھاوا سے یہ سوال کسی نے ان کی زندگی میں نہیں پوچھا جب کبھی ان کا انٹرویو کیا گیا۔اور جو باقی بچ گئے ہیں ان سے کوئی پوچھے گا؟ نجم حسین سید سے یا ان جیسے کسی اور بڑے ادیب سے؟’

میں نے یہ سب سنکر ان سے کہا

‘ افضل احسن رندھاوا نے جو کچھ نیا کہنا تھا وہ 70ء اور 80ء کی دہائیوں میں کہہ ڈالا تھا اور اس کے بعد ان کے ہاں اس کہے گئے ‘نئے پن’ کی بار بار تکرار کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ اس زمان سے آگے گئے ہی نہیں۔اور جو انہوں نے کہہ دیا اس سے ہی پنجابی نوجوان سیکھ لیں تو ‘نسل کشی ‘ اور ‘نسلی-مذہبی صفائی’ پہ پنجاب کے اندر پائی جانے والی موت جیسی خاموشی ٹوٹ سکتی ہے۔’

‘ اور ہاں یاد آیا کہ ایک نظم انہوں نے کراچی کے نام لکھی تو تھی جس سے یہ اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس آشوب سے راضی نہیں تھے۔’ ،میں نے نظم پڑھ دی۔

یہ سنکر انہوں نے لمبی سی ‘ہممممممم’ کہی۔اور کہا،’ اس میں کسی مظلوم کی شناخت ویسے نہیں ہے جیسے پنجابیوں کے لئے وہ بطور خاص ذکر کرتے ہیں چاہے یہاں کے ہوں یا سرحد کے اس پار ہوں’، اور پھر بات کو پلٹ گئے اور کہا،

‘پنجابی شاعری میں افضل احسن رندھاوا کی غزلیں چھوٹی بحر میں سہل ممتنع کی شاعری کا بہترین نمونہ ہیں۔’

کھولینگا کوئی اندر وڑ آؤگا،
اکھاں والے دوویں بوہے ڈھوئی رکھ ۔

کھولوگے تو کوئی اندر آجائے گا
آنکھوں کے دونوں در بند رکھو

کجھ تے بھکھ دا بھرم وی رہنا چاہیدے،
ہانڈی اتے ڈھکن تے وچّ ڈوئی رکھ ۔

کچھ تو بھوک کا بھرم بھی رکھا جائے
ہنڈیا پہ ڈھکن اور اندر کفگیر رکھ

اور لائن کاٹ دی ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*