الیکشن این اے 120: لڑائی اور بڑھے گی – محمد عامر حسینی

‘عوام نے فیصلے پہ فیصلہ دے دیا، نظر نہ آنے والی قوتوں سے مقابلہ تھا ، نواز شریف کے گرد گھیرا ڈالنے والی غیر جمہوری قوتیں ناکام ہوگئیں۔مریم نواز شریف ‘

https://youtu.be/nITIXKfmxXE

مریم نواز کی این اے 120 میں جیت کے بعد تقریر

ستمبر 17 ،2017ء کو لاہور کے حلقے این اے 120 میں نواز شریف کی نااہلی سے خالی ہونے والی نشست پہ ہوئے ضمنی انتخاب میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز تقریبا 13 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئیں۔

مسلم لیگ نواز کی بیگم کلثوم نواز نے 61054 جبکہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 47066، ملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب نے4174 اور پی پی پی کے فیصل میر نے 2520 ووٹ حاصل کئے جبکہ لبیک یارسول اللہ پارٹی اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیدوار چند سو ووٹوں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

لاہور کے حلقہ این 120 میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 321633 ہے جبکہ اس ضمنی الیکشن میں ٹرن اوور 40 فیصد رہا۔مسلم لیگ نواز کو گزشتہ انتخابات سے 30 ہزار ووٹ کم پڑے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار کو گزشتہ انتخابات سے 4 ہزار ووٹ کم پڑے۔

عام طور پہ ضمنی انتخابات میں ووٹ ٹرن اوور بہت ہی کم رہتا ہے لیکن 40 فیصد ٹرن اوور اور وہ بھی اتوار کے دن لاہور جیسے شہر میں الیکشن کروائے جانے پہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخاب میں حصّہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی پوری توانائی این اے 120 سے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں کی۔اور اس ضمنی الیکشن کی کمپئن کم از کم پاکستان مسسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف نے مارو /مر جاؤ کی بنیاد پہ کی۔

ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نواز کو گزشتہ انتخابات سے جو 30 ہزار ووٹ کم پڑے ہیں ان کو ضمنی الیکشن کہہ کر نظر انداز کردینا ٹھیک نہیں ہوگا۔پاکستان مسلم لیگ نواز نے یہ ضمنی الیکشن ایک ایسے موقعہ پہ لڑا جب وفاق اور پنجاب میں خود ان کی اپنی حکومت ہے اور اس کے ساتھ اس ضمنی الیکشن سے پہلے میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور تک اپنی نااہلی کے خلاف بھرپور سیاسی ریلی بھی نکالی تھی۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا میڈیا سیل جس کی سربراہی خود مریم نواز کررہی تھیں نے بھرپور قسم کی مہم بھی چلائی جس میں اپنے والد نواز شریف کی نااہلی کو سازش، اپنی والدہ کی بیماری، شریف خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنسز وغیرہ وغیرہ کا تذکرہ کرکے حلقے کے لوگوں کی ہمدردیوں کو حاصل کرنے کے لئے پورا زور لگانا بھی تھا۔

مسلم لیگ نواز کو میڈیا محاذ پہ ایک برتری یہ بھی حاصل رہی کہ ملک میں عام طور پہ بااثر لبرل ڈیموکریٹ اور لبرل لیفٹ سمجھے جانے والے صحافی، تجزیہ نگار،کالم نگار،اینکرز اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کئی بھاری بھرکم نام بھی نواز شریف کی نااہلی کو محلاتی سازش اور اس سازش میں ملٹری اسٹبلشمنٹ اور عدالتی اسٹبلشمنٹ کو شریک بتاتے رہے اور ان کی جانب سے اس تاثر کو گہرا کیا گیا کہ این اے 120 میں مسلم لیگ نواز کو ہروانے کی کوشش میں نادیدہ ہاتھ سرگرم ہیں۔اس تاثر کو اس وقت زیادہ تقویت حاصل ہوئی جب کالعدم تنظیم جماعت دعوہ کی کور تنظیم ملی مسلم لیگ نے اپنا امیدوار شیخ یعقوب کو میدان میں اتار دیا اور دوسری جانب بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی نئی سیاسی جماعت لبیک یارسول اللہ نے اپنا امیدوار شیخ اظہر رضوی کو میدان میں اتارا۔جبکہ جماعت اسلامی پاکستان نے ضیاء الدین انصاری ایڈوکیٹ کو اتارا۔

اگرچہ مسلم لیگ نواز نے این اے 120 میں دائیں بازو کے مذہبی ووٹ جن میں اکثریت تاجروں کے ووٹ کی تھی کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے متبادل حکمت عملی تیار کرلی تھی۔اس حلقے میں ڈاکٹر راغب نعیمی کے مدرسے جامعہ نعیمہ کا بہت اثر ہے اور پھر جامعہ نظامیہ بھاٹی گیٹ لاہور کا بھی اثر بہت ہے جہاں پہ مفتی عبدالستار سعیدی مہتم ہیں۔ان دونوں مدارس کی قیادت کے لبیک یارسول اللہ پارٹی کے سربراہ خادم رضوی سے سخت اختلافات ہیں۔ان دونوں احباب نے مسلم لیگ نواز کی امیدوار کلثوم نواز کی حمایت کی۔

جبکہ این اے 120 میں شرقپور کے سجادگان میں بھی اختلاف دیکھنے کو ملا، ایک صاحبزادے نے نواز لیگ اور ایک نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا۔اسی حلقے میں جماعت اہلسنت پاکستان کے ناظم اعلی پیر ریاض حسین شاہ جو اتفاق مسجد ماڈل ٹاؤن کے خطیب بھی ہیں نے کلثوم نواز کی خاموشی سے حمایت کی۔جے یوپی پاکستان کے ایک دھڑے جس کے صدر پیر اعجاز ہاشمی ہیں نے بھی مسلم لیگ نواز کی حمایت کی۔

بریلوی مکتبہ فکر کے علماء اور مشائح کے زیر اثر ووٹ جو تھا مسلم لیگ نواز کی حکمت عملی سے اس میں نواز شریف مخالفت میں ووٹ بہت کم تعداد میں ٹوٹا جس کا ثبوت لبیک یارسول اللہ کے امیدوار کو پڑنے والا ووٹ ہے۔

جبکہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر سمیت کئی اہلحدیث علماء اور ان کے زیراہتمام مدارس کے مہتم حضرات نے بھی مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی حمایت کی۔اس حلقے میں 30 ہزار سے زیادہ اہلحدیث جن میں زیادہ تر تاجر کمیونٹی کے لوگ تھے ووٹ بتائے جاتے ہیں۔اور یہ تاثر عام تھا کہ ملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب جو خود بھی تاجر اور پنجابی شیخ ہیں اہلحدیث ، شیخ برادری، جماعت دعوہ کے ویلفئیر نیٹ ورک کے سبب 20 ہزار کے قریب ووٹ لیجاسکتے ہیں لیکن وہ چار ہزار ووٹ لے سکے جو بہرحال اتنی بری کارکردگی نہیں ہے لیکن اس نے اہلحدیث ووٹرز کی بڑی تعداد کو نواز لیگ کے کیمپ میں جانے سے نہیں روکا۔

اس حلقے میں دیوبندی فرقے کا ووٹ بھی کافی ہے اور کئی اہم دیوبندی مدارس اس حلقے کی حدود میں قائم ہیں۔جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف ، اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کا حلقہ اثر بھی یہاں موجود ہے۔اور لاہور میں دیوبند مدرسہ جامعہ اشرفیہ کے شریف خاندان سے ویسے ہی تعلقات ہیں جیسے تعلقات بریلوی مکتبہ فکر کے جامعہ نعیمیہ کے شریف فیملی سے ہیں۔جبکہ تبلیغی جماعت کے کئی بااثر لوگ بھی شریف فیملی کے بہت قریب خیال کئے جاتے ہیں۔ان میں مولانا طارق جمیل کے بھائی ڈاکٹر طاہر جو کہ لاہور ہی ایک معروف پرائیویٹ ہسپتال میں شریک مالک ہیں بیگم کلثوم نواز شریف کے حق میں کمپئن چلاتے رہے۔

مسلم لیگ نواز نے حیرت انگیز طور پہ شیعہ کمیونٹی کے ووٹ کو یک طرفہ طور پہ اپنے خلاف جانے سے روکنے میں بھی کامیاب حکمت عملی اختیار کی۔اس حلقے میں کرشن نگر /اسلام پورہ میں مسلم لیگ نواز نے اپنی برتری قائم رکھی۔اور شیعہ مذہبی جماعت مجلس وحدت المسلمین زیادہ ووٹ پی ٹی آئی کو نہیں دلاپائی۔

این اے 120 کا ضمنی الیکشن کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انتخابی مہم کے شروع میں دائیں بازو کے مذہبی ووٹ کے نواز شریف کے خلاف جانے اور تقسیم بارے جو خیالات ظاہر کئے جارہے تھے وہ کافی حد تک غلط ثابت ہوئے ہیں اور مسلم لیگ نواز نے اس حلقے میں مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پہ ووٹ تقسیم ہونے نہیں دیا۔اور بریلوی ، اہلحدیث ، شیعہ ووٹرز کی اکثریت نے اپنے فرقوں کی انتہائی ریڈیکل اور فار رائٹ جماعتوں کی جانب یکسر توجہ نہیں کی۔

اگر ہم دائیں بازو کے ووٹ کی تقسیم کا کوئی پیمانہ بنائیں تو وہ اس حلقے میں مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی نے ہیڈالے گئے ووٹوں کی زیادہ تعداد کو اپنی جانب کھینچا ہے۔

پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو کزشتہ انتخابات سے چار ہزار ووٹ کم پڑے ہیں۔لیکن اصل میں ان کے ووٹوں کی تعداد میں خاصی کمی دیکھنے کو ملی ہے کیونکہ گزشتہ انتخابات میں ان کو مسلم لیگ ق، ایم ڈبلیو ایم، سنّی اتحاد کونسل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور نہ ان جماعتوں کی قیادت نے ان کے لئے کوئی کمپئن چلائی تھی۔اس مرتبہ پھر پاکستان عوامی تحریک نے بھی اپنی پوری قوت لگائی یاسمین راشد کے حق میں۔ایسے میں ان کے ووٹوں میں اضافہ ہونا چاہئیے تھا ناکہ ان میں مزید کمی ہونی چاہئیے تھی۔یہ پی ٹی آئی کی سیاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔بلکہ این اے 120 میں اس مرتبہ اندرون لاہور شہر کے کئی پولنگ اسٹیشنوں پہ پی ٹی آئی کا ووٹ حیرت انگیز طور پہ کم نظر آیا ہے اور وہیں پہ ان کی شکست کا مارجن بڑھا ہے۔

این اے 120 کے انتخاب کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف جو ہندوستانی ایجنٹ، امریکی مفادات کے محافظ، نریندر مودی سے دوستی ، سیکولر ، لبرل کی سرپرستی اور ممتاز قادری کی پھانسی کو بنیاد بناکر جو مہم چلائی جارہی تھی اس نے مسلم لیگ نواز کے حامی دائیں بازو کے ووٹر کو کچھ زیادہ قائل نہیں کیا اور اس کا کوئی بہت بڑا فائدہ ان کے سیاسی مخالفوں کو نہیں ہوا۔

انتخابی کمپئن اور جیت کے بعد اس کمپئن کی انچارج مریم نواز شریف کی تقاریر اور ان کے بیانات نے ایک بات تو واضح کردی ہے کہ مسلم لیگ نواز کے اندر جو مزاحمت اور مصلحت کی بنیاد پہ جو ایک مبینہ تقسیم نظر آرہی ہے اس جیت نے مزاحمت کے حامی کیمپ کو مضبوط کردیا ہے اور یہ کیمپ مریم نواز کی قیادت پہ متفق نظر آرہا ہے۔آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز کا کنٹرول بھی مریم نواز کی سمت جاتا نظر آرہا ہے۔اور یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اگر نواز شریف بیگم کلثوم نواز و مریم نواز جیسی شریف خاندان کی عورتوں کے زریعے اگر پارٹی پہ اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو اس راستے سے اختلاف رکھنے والے چودھری نثار سمیت دیگر مسلم لیگی رہنماء کیا راستا اختیار کریں گے؟غالب امکان یہ ہے کہ شہباز شریف کا خاندان شاید اس صورت حال میں نیم دلی سے شریک سفر رہے گا جبکہ کچھ اور لوگوں کے راستے شاید نواز شریف سے الگ ہوجائیں۔

اس ضمنی انتخاب سے ایک اور تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اگلے انتخابات میں جی ٹی روڈ کے کنارے بسے بڑے شہری مراکز میں مقابلہ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہوگا۔اور جو لوگ پنجاب کے شہری علاقوں میں مسلم لیگ نواز کو شکست دینے کا اگر کوئی منصوبہ رکھتی ہیں تو ان کو دائیں بازو کے مذہبی ووٹ کے بڑے حصّے کو نواز کیمپ میں جانے سے روکنے کے لئے نواز مخالف کوئی بڑا مذہبی الائنس بنانا ہوگا تب جاکر مسلم لیگ نواز کے امیدوار کو شکست دینا ممکن ہوگا۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. Bilal
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*