شہید آم اور گدھ نما جرنیل ۔ گل زہرا

ضیاء الحق کی برسی پر آموں کی کافی بے حرمتی ہو گئی اب کچھ سنجیدہ حقائق انکے لئے جو اپنے فکری مغالطوں میں مبتلا ضیاء الحق کو شہید ، مرد_مومن ، پاسبان_شریعت اور نجانے کیا کیا سمجھتے ہیں ۔ ذرا سے غیر جانبدار مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آ جائےگی کہ ہمارے آجکے گھمبیر معاشرتی مسائل کی بنیاد ضیاء الحق کے دور میں رکھی گئی ۔ ہمارے آج پر کل کی “ضیاء پاشیوں” کا اندھیرا ، جبر اور نحس چھایا ہوا ہے ۔

ضیاء الحق کو اپنے سوا کوئی قانونی ، آئینی ، عقلی ، سماجی و اخلاقی حمایت حاصل نہیں تھی ۔ حمایت حاصل کرنے کےلئے انہوں نے ایک ایک حمایتی کو آمادہ کیا ۔ کسی کو نوازا ، کسی کو لتاڑا ، کسی کو مروا دیا ۔ ایکطرف مذہبی گروہوں کو ایکدوسرے کے مد مقابل کیا ، دوسری طرف لسانی و علاقائی قوتوں کو ایکدوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ایک کو نیچا کرنے کےلئے دوسرے کو مسلح کر دیا ۔ وہ تمام کالعدم و غیر کالعدم گروہ (بالخصوص کالعدم تکفیری وہابی دیوبندی گروہ) جو آج ملک کی بقا کےلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں ، ان سبکی تشکیل ضیاء الحق کے دور میں دی گئی ۔

صحابہ گروہ ، امیر المومنین گروہ ، مراقبہ گروہ ، ناموس رسالت گروہ ، تحفظ پاکستان گروہ، اسلام گروہ ، مومن گروہ ، حقیقی گروہ ، مصنوعی گروہ ، دینی مدرسہ گروہ ، جہاد گروہ ، بہشتی گروہ ، یہ گروہ وہ گروہ یہ سب گروہ کبھی بھی پیارے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان میں نہیں تھے اور نہ ہی پاکستان کے سیدھے سادھے عوام ان گروہ بندیوں سے واقف تھے۔ یہ سب گروہ وہ حمایتی طبقات تھے جو ضیاء الحق اپنے اقتدار کی اساس مضبوط کرنے کو تیار کئے ۔ یہ گروہ آج ملک و قوم کا خون پی پی کر خون آشام بلا بن چکے ہیں ۔ ضیاء الحق نے ملک میں وہ کیا جو کسی نے نہ کیا تھا یعنی ملک میں مسلک و عقیدے کی بناء پر نظریاتی افراط پیدا کی ۔ ملی وحدت کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ۔ پختہ عمر کی رجھائی ہوئی رنڈیوں سے فارغ ہو کرضیاء الحق نے اپنا اقتدار بچانے کو “مذہب” کو اساس بنایا ، وہ اسلام نافذ کرنے کے “وہم” میں مبتلا رہے اور معاشرے کو نفاذ اسلام کے نام پر خجل خوار کر دیا ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضیاء الحق ذاتی طور پر ایک منافق اور دوغلے انسان تھے ۔ منافقت انکا طریقہ اور ریاکاری انکا وطیرہ رھا ۔ وہ جس سے گردن جھکا کر ملتے اسی کو سولی چڑھا دیتے، جسکی ایک زبان زد عام مثال ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ہے ۔ انکی سولیوں کا پھیلائو ڈسٹرکٹ جیل پنڈی سے لیکر جلال آباد افغانستان تک تھا ۔ انکے غاصب مشیر نماز باجماعت کے بعد قوم کو بھی باجماعت کھاتے ۔ انکے منافقانہ طرز_عمل کا گواہ زمانہ ہے ۔ سرکاری خزانے سے عمروں پر عمرے کرنے والے ضیاء الحق کے عمرے حمایتی جمع کرنے کا حیلہ اور مذہبی دھاک بٹھانے کا ذریعہ تھے ۔

ضیاء الحق وہ گدھ نما جرنیل ہیں جنہوں نے گیارہ سال تک قوم کو جبرو اذیت میں مبتلا رکھا اور انکے بوئے ہوئے ناسور کا زہر اب پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے ۔اللہ کی حکمت ہے کہ آج اس جرنیلی گدھ کی قبر بلیوں کتوں کی آماجگاہ اور شام میں یزید کی قبر کیطرح عبرت کا مقام ہے ۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. Ahmed
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*