قلندر کی دھرتی پر تکفیریت کی تبلیغ

کائونٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فرقہ وارانہ دہشتگردی میں ملوث افراد اور اداروں کی فہرست تیار کی گئی ہے، سی ٹی ڈی جی جانب سے یہ فہرست خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی رہنمائی کیلئے تیار کی گئی ہے، اس لسٹ میں ان افراد کے نام شامل کئے گئے ہیں جو افغانستان یا بلوچستان سے دہشتگردی کی ٹریننگ لیکر واپس آئے ہیں، اس لسٹ میں ایسے دیوبندی مدارس کو بھی شامل کیا گیا ہے جو مشکوک افراد کو پناہ دیتے رہے ہیں یا کسی بھی طرح ان کے سہولتکار بنے ہیں، اس لسٹ کے مطابق ضلع سکھر کے 33 افراد ایسے ہیں جنہوں نے افغانستان یا بلوچستان کے دورے کئے ہیں اور ایسے دورہ جات کا مقصد عسکری ٹریننگ حاصل کرنا تھا، ضلع سکھر کے ان مشکوک افراد میں سے 9 القائدہ سے وابستہ ہیں جبکہ 11 تحریکِ غلبہ اسلام اور الاثر ٹرسٹ کے، 7 جیشِ محمد کے اور 6 دیوبندی لشکرِ جھنگوی سے منسلک ہیں، سی ٹی ڈی کی دستاویز کے مطابق ضلع خیرپور میں لشکرِ جھنگوی اور تحریکِ طالبان کے 4 اور حرکۃ المجاہدین کے 3 افراد شامل ہیں،

اسی طرح جیکب آباد کے 14 ایسے افراد شامل ہیں جو کالعدمدیوبندی تنظیموں سے وابستہ ہیں، جیکب آباد کی لسٹ میں وہ اے سی ٹیکنیشن بھی شامل ہے جس پر پولیس کی جانب سے مختلف بم دھماکوں میں سہولتکاری کا شک ظاہر کیا جا چکا ہے، سی ٹی ڈی کی اس لسٹ میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے 33 مشکوک افراد کو شامل کیا گیا ہے جن میں سے 13 کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے جبکہ دیگر کالعدم جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس لسٹ میں شامل ہیں، اس لسٹ میں شکارپور کے ایک مشہور دیوبندی ڈاکٹر کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے کہ جو کئی ماہ شہر سے غائب رہتا ہے اور پولیس کو شک ہے کہ وہ عسکری تربیت اور رابطوں کے سلسلے میں افغانستان یا بلوچستان جاتا ہے۔

دوسری جانب اس لسٹ میں ایسے دیوبندی مدارس کو بھی شامل کیا گیا ہے جو نوجوانوں کو عسکری تربیت کیلئے افغانستان یا بلوچستان بھیجتے رہے ہیں، اس لسٹ کے مطابق ضلع سکھر کے 9, ضلع خیرپور کے 2 اور ضلع شکارپور کے 8 دیوبندی مدارس شامل ہیں، سی ٹی ڈی از سرِ نو بننے والی اس لسٹ کے مطابق ایسے مدارس سکھر کے والس روڈ، بندر روڈ، قریشی گوٹھ، نصرت قالونی اور ٹی بی وارڈ ایوب گیٹ کے علاقوں میں قائم ہیں، جبکہ خیرپور میں جیلانی محلہ اور لقمان کے علاقوں میں اور شکارپور میں پرانہ پاور ہائوس، خانپور روڈ، کندھکوٹ روڈ، بائی پاس، دینپور محلہ اور جیکب آباد روڈ پر ایسے مدارس قائم ہیں جو نوجوانوں کو دہشتگردی کی تربیت کیلئے افغانستان اور بلوچستان بھیجنے میں سرِ فہرست رہے ہیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*