عراقی عوام کی نسل کشی کرنے والی تکفیری عفریت اور عالمی برادری – عامر حسینی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک آئس کریم پارلر پہ ہوئے خودکش بم دھماکے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔دھماکے کی ذمہ داری سلفی تکفیری تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔دھماکہ اس وقت ہوا جب بہت سارے خاندان روزہ افطار کرنے کے لئے پارلر میں موجود تھے۔مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد شیعہ کمیونٹی کی تھی جبکہ کچھ سنّی خاندان بھی متاثرہ لوگوں میں شامل ہیں۔لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا دھماکہ نہیں تھا۔الجزیرہ ٹی وی کی آفشیل ویب سائٹ پہ ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے جس میں نقشے کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ 2004ء سے 2009ء تک عراق میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔قطر کا یہ سرکاری ٹیلی ويژن نیوز نیٹ ورک بتاتا ہے کہ صرف گزشتہ تین دنوں میں داعش کے حملوں میں 110 عراقی لوگ ہلاک ہوئے لیکن بین الاقوامی سطح پہ عراقیوں کی ہلاکتوں کو شمار کرنے کا رجحان ہی موجود نہیں ہے۔

جو لوگ میری اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں وہ اپنی جملہ فرینڈ لسٹ اور جہاں جہاں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں وہاں وہاں اپنے روابط کے سوشل کھاتے کھول کر ضرور دیکھ لیں کہ پاکستان کے اندر کتنے لوگ ہیں جو عراق سمیت دنیا بھر میں تکفیری فاشسٹ قوتوں کے انسانیت سوز جرائم پہ آواز اٹھاتے ہیں اور ایسے واقعات کو فالو کرتے ہوئے اپنا نکتہ نظر بناتے ہیں۔میں جماعت اسلامی،حزب التحریر،اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ وغیرہ جو واضح سعودی کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں کے ےسوشل پیجز،اکاؤنٹس کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ میں ایک کامن ٹرینڈ کی بات کررہا ہوں۔عراق میں عراقی لوگ سب مکاتب فکر کے جو تکفیری جہادی گروپوں سے اتفاق نہیں کرتے اور سعودی غلبہ کو نہیں مانتے ان کی نسل کشی ایک بڑی حقیقت ہے۔یہی معاملہ شام میں ہے۔یہی صورت حال یمن میں ہے۔لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار تکفیری فاشزم ہے اور ان کی 99 فیصد حمایت سعودی عرب کرتا ہے۔اس کے باوجود ہمارے ہاں ایک عمومی رجحان غلط بائنری بناکر چیزوں کو دیکھنے کا ہے۔پاکستان میں مین سٹریم میڈیا میں صرف دائیں بازو کے دیوبندی،اہلحدیث اور جماعت اسلامی کے تجزیہ نگار ہی تکفیری فاشزم کی جڑوں کو چھپانے کا کام نہیں کرتے بلکہ لبرل سیکشن میں ایک بڑا حصّہ سعودی عرب کی جانب امریکی مائی باپ کے رویہ کی وجہ سے تکفیری فاشزم کے خلاف ابہام پسندی کا رویہ اپناتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ عراق،شام،لبنان سمیت مڈل ایسٹ میں جہاں جہاں سلفی تکفیری و جہادی فاشزم عام لوگوں کو مارتا ہے تو پاکستانی نژاد سوشل میڈیا پہ زیادہ تر مذمت اور صاف صاف موقف یا تو شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کی جانب سے اختیار کیا جاتا ہے یا پھر اہلسنت میں سے صوفی سنّی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اس پہ کوئی بات کرتے ہیں۔لیکن اکثر مسلم آئی ڈیز سعودی۔ایران بائنری سے ہٹ کر اسے دیکھنے دکھانے کو تیار نہیں ہیں ۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک قطری سرکار کا ٹیلی ویژن نیٹ ورک ہے۔اس کلپ میں وہ کہتا ہے کہ عالمی برادری عراق میں مارے جانے والے لوگوں کا غم ویسے نہیں مناتی جیسے یورپ و امریکہ میں مرنے والوں کا مناتی ہے۔مغربی مین سٹریم میڈیا عراق میں مارے جانے والے لوگوں کو ویسے کوریج نہیں دیتا جیسے وہ یورپ و امریکہ میں ہوئے دہشت گردی کے واقعات کو کور کرتا ہے۔اس نیوز نیٹ ورک کا خیال یہ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارے جانے والے عراقی مسلمان ہیں۔یہ وجہ سنکر مجھے یہ یقین ہوگیا کہ الجزیرہ نیوز نیٹ ورک ایسی ویڈیوز کے زریعے سے عراقی عوام کے لئے عالمی برادری سے ہمدردی لینا نہیں چاہتا بلکہ وہ ‘تہذیبوں کے تصادم’ جیسے گھٹیا سازشی مفروضوں کو تقویت دینا چاہتا ہے۔وار آن ٹیرر کیا واقعی مغرب و اسلام کے مابین ایک تہذیبی تصادم کا عکس ہے؟ کیا داعش ،القاعدہ سمیت تکفیری فاشزم کی علمبردار تنظیمیں خود قطر، سعودی عرب، یو اے ای ، اور ساتھ ساتھ امریکہ و برطانیہ کی بدمعاش پالسیوں اور پراکسیز کی بائی پروڈکٹ نہیں ہیں ؟
اب یہ سوال تواتر سے اٹھایا جانے لگا کہ اگر یورپ و امریکہ میں کوئی بم بلاسٹ ہو اور چند یا چند درجن افراد مارے جائیں تو مغربی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک بہت بڑی کمپئن راتوں رات سامنے آجاتی ہے۔ڈی پی تبدیل ہوتی ہیں،عارضی پروفائل کور فوٹو بدل جاتے ہیں۔اور بڑے پیمانے پہ کینڈل ویجل پروگرام ہوتے ہیں۔بڑے پیمانے پہ مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔لیکن یورپ و امریکہ سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پہ لوگ مڈل ایسٹ،شمالی افریقہ ،جنوبی ایشیاء میں مارے جاتے ہیں۔جیسے عراق میں لوگ مارے جارہے ہیں لیکن انٹرنیشنل کمیونٹی کا وہ ردعمل سامنے نہیں آتا۔کیوں؟

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے فیس بک آفیشل پیج پہ جہاں مذکورہ بالا ویڈیو لنک شئیر کیا گیا وہاں نیچے ہزاروں کمنٹس موجود ہیں اور اس کی 90 فیصد تعداد کے نزدیک عراق،پاکستان،شام،یمن،فلسطین،الجیریا،صومالیہ،ایتھوپیا،لبنان،ترکی، لیبیا میں لوگوں کے مارے جانے پہ عالمی برادری کا سست ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور مین سٹریم میڈیا کو کنٹرول کرنے والوں کے نزدیک تیسری دنیا کے ممالک کے لوگوں کی جان وہ قدر وقیمت نہیں ہے جو وائٹ سکن کی ہے۔اس کا ایک اور مطلب بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کی تشہیر ہونے اور ان کو پڑے پیمانے پہ اہمیت ملنے کے سبب دنیا بھر میں خاص طور پہ امریکہ و یورپ میں “دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ” پہ سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے۔اور لوگوں کی اکثریت کو یہ بھی پتا چلے گا کہ مڈل ایسٹ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کی حکومتوں کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پروجیکٹ کس ناکامی سے دوچار ہوا ہے اور کیوں؟ یہ داعش آئی کہاں سے ہے؟کون سی طاقتوں نے ان کی پیدائش کو ممکن بنایا ہے؟ کس آئیڈیالوجی نے ان کے اندر درندگی کو جنم دیا ہے؟اور ایسے سوالات جب اٹھ کھڑے ہوں گے تو پھر صدر ٹرمپ کے سعودی عرب، اسرائیل جانے پہ سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے؟ امریکی کیمپ کی مڈل ایسٹ،شمالی افریقہ اور مشرق بعید میں مداخلت کار پالیسیوں کے زریعے سے رجیم بدلو پروجیکٹ پہ آوازیں اٹھیں گی اور آج یہ طاقتیں شام و یمن میں جو کھیل کھیل رہی ہیں اس کو عوامی حمایت کہاں سے ملے گی؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*