پروفیسر کو کافر کیوں کہا جارہا ہے ؟

ادارتی نوٹ : فزکس کے مایہ ناز سائنس دان پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی معروف سماجی سائنس ڈاکٹر اقبال احمد کی یاد میں منعقدہ سیمنار میں ایک تقریر کو بنیاد بناکر جماعت اسلامی سمیت پاکستان میں تھیوکریسی کے حامی حلقوں نے ان کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے۔جبکہ ان کو “کافر” تک کہا جارہا ہے۔ادارہ تعمیر پاکستان ان کے خلاف چلنے والی شدت پسند مہم کی شدید مذمت کرتا ہے۔اس موقعہ پہ ان کے ایک مقالے

Could Pakistan Have Remained Pluralistic?

کا ایک اقتباس صحافی ،تجزیہ کار عامر حسینی کے شکریہ کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے جنھوں نے ان کے مقالے کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ مقالہ تحقیقی مقالات کے مجموعہ

Faith Based Violence and Deobandi Militancy in Pakistan

میں موجود ہے جو لندن سے شایع ہوئی

پروفیسر کا جرم ہے کہ وہ پاکستان میں سعودائزیشن کے خلاف ہے۔ملاخطہ ہو اس کے ایک ریسرچ پیپر سے لئے گئے خیالات پہ مبنی کچھ عبارات کی نقل :
پاکستان میں پیٹرو ڈالر/سعودی اسلام کی قبولیت جب 1973ء میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے پابندیاں لگائیں تو اس عمل نے سعودی عرب اور دیگر خلیج ملکوں کو بہت زیادہ دولت اکٹھی کرنے کا موقعہ فراہم کردیا۔ان ممالک نے جہاں یہ دولت اپنی عیاشیوں پہ اڑانے میں خرچ کی وہیں پہ اس پیسے کو سعودی عرب نے اپنی آئیڈیالوجی کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے بھی خرچ کرنا شروع کیا۔آئیڈیالوجی کیا ہے ہے ؟ یعنی وہابیت ۔سعودی عرب نے ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مذاہب کی تبلیغ پہ خرچ ہونے والی کل دولت کا 90 فیصد خرچ کیا۔پاکستان سعودی عرب کی وہابیت کا سب سے بڑا وصول کنندہ ملک ہے۔

وہابی ازم کی ابتداء شیعہ اور تصوف کے خلاف ایک رجعتی جنونی تحریک کے طور پہ ہوئی۔آٹھویں صدی میں اس تحریک کی بنیادیں رکھی گئیں۔وہابیوں نے دیگر اسلام کی دیگر تمام اشکال کو منحرف اور شرک و بدعت سے آلودہ قرار دیا۔وہ جزیرۃ العرب میں قریب قریب اسلامی تاریخ کے ابتدائی تمام آثار کو مٹاڈالنے، تمام مزارات کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔1925ء میں ابن سعود کے حامیوں نے مدینہ میں جنت البقیع اور مکّہ میں جنت معلی میں بنے سبھی مزارات کو منہدم کردیا۔وہابی ازم سخت گیر حنبلیت، ابن تیمیہ،ابن وہاب، شاہ ولی اللہ ،مودودی ،سید قطب اور دوسروں سے متاثر ہے۔وہابی اسلام کو صرف پینل کوڈ کے زریعے سے ہی دیکھتے ہیں۔

ان کے لئے مذہبی تکثریت ناقابل قبول ہے۔وہابی ازم براہ راست زیادہ صلح کل صوفیاء اور شاعروں کے اسلام سے متصادم ہے جیسے شاہ عبدالطیف بھٹائی،سچل سرمست،بابا فرید ،حافظ شیرازی ، مولانا رومی اور سمش تبریزی تھے۔تاریخی اعتبار سے ساتویں اور آٹھویں صدی کی ابتدائی فوجی فتوحات کے بعد سے یہ صوفی تھے جنھوں نے اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔عراقی کرد،ایران اور ترکی اسی صوفی طریقے سے اسلام میں داخل ہوئے اور ان کے ہاں ابتک مقامی اسلام موجود ہے۔وہابی ازم خوفناک طریقے سے پاپولر اسلام پہ حملہ آور ہوئی اور اس اسلام کو اس نے جہالت سے تعبیر کیا۔جبکہ ہندوستان میں وہابی اسلام کا ایک برانڈ تو اہلحدیث کے ہاں پایا جاتا ہے۔یہ بھی مزارات پہ حاضری کے سخت مخالف ہيں اور ان کو یہ بت پرستوں کے مماثل قرار دیتے ہیں۔سعودی عرب اتنے بڑے خیراتی اداروں،مبلغوں اور استادوں کے عالمی نیٹ ورک کا مقصد دنیا بھر میں اپنے اتحادی تلاش کرنے اور لوکل اور بیرونی دنیا میں اسلامی دنیا کا قائد ہونے کا جواز میسر آسکے۔

خادمین حرمین شریفین کہلانے کے سبب وہ کمیونل اسلامی تنظیموں کو پبلک لائف،تعلیم،علم اور رواج پہ اثرانداز ہونے کے لئے فنڈنگ کرتے ہیں۔اسلامی برادریاں جہاں داخلی یا بیرونی وجوہات کی وجہ سے دباؤ بہت ہے جیسے فلسطین،کشمیر،بوسینیا،چیچینیا ،سنٹرل ایشیا اور مصر ان کا خاص ہدف ہیں۔پوری دنیا میں وہابی ازم کو پھیلانے سعودی وہابی مذہبی اسٹبلشمنٹ نے مقدس فریضہ قرار دیا ہوا ہے جیسے شیخ عبدالعزیز بن باز مفتی اعظم سعودی عرب نے اس مشن کو پھیلانے کا سب سے زیادہ ٹھیکہ اٹھائے رکھا جس کی موت 1999ء میں ہوئی۔پوری دنیا میں شیخ ابن باز کے فتوے اور لکھی کتابیں سعودی فنڈڈ مدرسوں،اسلامی تعلیمی مراکز و مساجد و تنظیمی دفاتر میں موجود ہیں۔اور کئی جگہوں پہ یہ دینی نصاب کا حصّہ بھی ہیں۔ابن باز نے غیر سلفی مسلمانوں کو بدنام کیا اور ان کے افکار کے اخراج کا مطالبہ بھی کیا۔

اس نے عالمی دعوت کے قیام کا مطالبہ کیا اور افغان جہاد کے لئے ویلتھ ٹیکس لگانے کو بھی کہا اور اس نے گردش زمین کے تصور کو کفریہ اور خلاف اسلام قرار دے ڈالا۔شیخ ابن باز اور سعودی وہابی علماء میں سے ایک ہے جس نے پوری دنیا میں ریڈیکل مسلم (سلفی۔دیوبندی) اداروں کی سعودی مالی امداد کی حمایت کی۔اس طرح کی فنڈنگ ان تنظیموں کے لٹریچر کے مواد پہ اثر ڈالتی اور ان کو سلفی وہابی فکر کے قرب کرڈالتی ہے۔مقامی علماء کو حج اور عمرے کے لئے بلایا جاتا ہے جس کے سب اخراجات سعودی حکومت برداشت کرتی ہے۔جب وہ اپنے اداروں میں واپس آتے ہیں تو ان کو سستی کتب،آڈیو وڈیو اور سی ڈیز پہ مبنی وہابی لٹریچر دیا جاتا ہے۔بہت سی اسلامی خیراتی تنظیمیں اور ادارے خود اپنی ویب سائٹ چلاتی ہیں۔

ان کا مقصد ایک طرف تو مغرب پہ حملہ کرنا اور دوسری جانب سعودی عرب کے وہابی نظریات کو نہ خریدنے والے مسلم گروپوں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔مقامی عقیدوں اور رواجوں کو سختی سے رد کیا جاتا ہے۔اپنے سے اتفاق نہ کرنے والے سنّی اور شیعہ کے عقائد اور رسوم ورواج کو غیر اسلامی اور مشرکانہ قرار دیکر ان کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،افراد کے زاتی اور اجتماعی مذہبی رویوں اور ثقافتی چلن کو نشانے پہ رکھ لیا جاتا ہے۔

سعودی عرب اپنے ہمسایہ ملکوں کے مسلمانوں کی مشکلات سے لاتعلق رہتا ہے لیکن اپنے مالی وسائل دور پار ملکوں میں وہابی آئیڈیالوجی کے پھیلاؤ کے لئے خرچ کرتا رہتا ہے۔تیل کے سستے ہونے کی وجہ سے سعودی معشیت پہ برے اثرات پڑے ہیں لیکن سعودی عرب وہابی ازم کے لئے رقوم کی ترسیل میں کمی نہیں لارہا جبکہ سعودی عرب میں اس وقت ہر قسم کے نئے ترقیاتی کام بند پڑے اور لاکھوں غیر ملکی مزدور کیمپوں میں پڑے ہیں جن کے پاس واپس جانے کے پیسے نہیں ہیں۔شام اور عراق سے لاکھوں پناہ گزینوں نے یورپی ملکوں کا رخ کیا ہوا ہے اور یمن کے لوگوں کی نسل کشی سعودی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں میں جاری ہے اس سب کے باوجود انھوں نے دہشت گردی کی جڑ وہابیت اور اس کی دوست فکر کو سپورٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ان کی عیاشیوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔فرانسیسی ریوریا نامی ساحل کو ایک ہزار لوگوں کی پارٹی کے لئے بند کیا گیا جو کہ 79 سالہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی چھٹیاں گزارنے کے دوران بک کروایا گیا تھا۔واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے ایک دورے کے دوران شہر میں تمام فور سٹار ہوٹل بک کروائے گئے۔یہ سب ایک ایسے موقعہ پہ کیا گیا پوری دنیا ساحل سمندر پہ ایک شامی مہاجر خاندان کے بچّے کی لاش کی تصویر دیکھ کر ہل گئی تھی۔اگرچہ سعودی عرب نے شامی مہاجرین کے لئے اپنے ملک کی سرحدیں نہیں کھلیں لیکن اس نے جرمنی میں ان کے لئے 200 مساجد بنوانے کی پیشکش ضرور کی۔سلفی وہابی اسلام کو پھیلانے کے لئے سعودی عرب نے مختلف میکنزم اختیار کئے ہیں۔23بعض فنڈنگ براہ راست حکومتی خزانے سے آتی ہے۔لیکن دولت مند سعودی شہزادے،بزنس مین اور علماء پوری دنیا میں اپنے منظور نظر گروپوں کو بڑی بڑی رقوم فراہم کرتے ہیں۔

اس چینل کے زریعے سے سٹیلائٹ ٹی وی چینلز ،طلباء کے جامعات اور مدارس میں تعلیمی وظائف اور کئی بااثر علماء اور سیاسی رہنماؤں کو سعودی عرب میں مختصر مدت کے قیام کے لئے رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔انڈویشیا میں سعودی عرب نے ایل آئی پی آئی اے کالج جکارتہ جیسے ادارے قائم کئے ہیں۔یہ سلفی ازم اور وہابی ازم کے سرچشمے ہیں اور ایسے ماحول میں قائم ہیں جہاں تکثریت پسندانہ ،نرم مذہبی فضاء ہے اور یہ اسے بگاڑ رہے ہیں۔بنگلہ دیش میں سعودی اور قطری فنڈنگ سے مالا مال ہونے والی جماعت اسلامی بنگلہ دیش جیسے سیکولر ملک کو مذہبی پیشوائیت کے ملک میں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔

شیخ مجیب الرحمان بانی بنگلہ دیش کے قتل کے بعد سعودی این جی اوز کے زریعے سے جماعت اسلامی کو آل سعود کا تعاون ملا۔وہاں کے مالیاتی اداروں میں مضبوط سعودی موجودگی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔اسلامی بینک آف بنگلہ دیش لمیٹڈ (آئی بی بی ایل) 1975ء میں فواد عبداللہ الخطیب سعودی سفیر برائے بنگلہ دیش کے کہنے پہ قائم ہوا۔24اس کے ایک ڈائریکٹر میر قاسم علی کو 2014ء میں 1971ء میں کئے گئے جنگی جرائم بشمول قتل و اذیت رسانی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

وہ سعودی عرب کے بنگلہ دیش میں پیسے کا نگران اور سعودی عرب کی پراکسی تنظیم رابطہ عالم الاسلامی کا رکن بھی تھا۔جماعت اسلامی کے زیر کنٹرول 14 اور بھی بینک ہیں جن میں آئی بی بی ایل سب سے بڑا اور جنوبی ایشیا کے تین بڑے بینکوں میں سے ایک بینک ہے۔آئی بی بی ایل کے 60 فیصد شئیر سعودی افراد اور اداروں کے پاس ہیں۔جماعت اسلامی نے حال ہی میں انشورنس سیکٹر میں بھی جگہ بنائی ہے اور یہ فار ایسٹرن اسلامی انشورنس کارپوریشن کے ساتھ ایک جوائنٹ وینچر میں داخل ہوگئی ہے۔

پاکستان میں بھی سعودی عرب کا اثر بہت واضح ہے۔سابق سعودی انٹیلی جنس پرنس ترکی بن سلطان نے پاکستان اور سعودی عرب بارے بات کرتے ہوئے کہا تھا : دنیا میں دو ملکوں کے درمیان اسقدر گہرے اور قریبی تعلقات کی شاید کوئی اور مثال موجود نہیں ہے۔دونوں ملک سنّی ،قدامت پرست اور دونوں ملکوں کی حکمران اشرافیہ ہے اگرچہ ایک فوجی جبکہ دوسری ملوکانہ ہے۔دونوں نے افغانستان میں سب سے پہلے طالبان حکومت کو تسلیم کیا۔دونوں ملکوں کے امریکہ سے دوستی کی کہانی ایک سی ہے۔

دونوں ملکوں کی عوام کی اکثریت اپنی ملک کی حکمران اشرافیہ کو امریکی حکومتوں کا غلام خیال کرتی ہے۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد وہابی ازم کا گڑھ ہے۔اس کا صدر ایک سعودی باشندہ ہے جسے سعودی حکام نے تعنیات کیا ہے اور وہ نہ اردو بول سکتا ہے اور نہ ہی انگریزی بول سکتا ہے۔سعودی عرب نے اس یونیورسٹی کے پہلے موجود ایک صوفی سنّی ترقی پسند لبرل وائس چانسلر پروفیسر فتح محمد ملک کو ہٹانے اور اس کی جگہ اپنا آدمی لگانے کے لئے دباؤ ڈالا اور آصف علی زرداری کو اسے لگانے پہ مجبور ہونا پڑا۔

کئی بدنام زمانہ معروف دہشت گرد اس یونیورسٹی کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اگرچہ سعودی عرب کشمیر میں براہ راست جہادی گروپوں کو فنڈنگ سے انکار کری ہے لیکن یہ اس بات سے انکار نہیں کرسکتی کہ جماعت دعوہ جیسی تنظیموں کو یہ فنڈنگ کرتی ہے۔نیشنل اور انٹرنیشنل پریس میں تواتر سے سعودی خیراتی تنظیموں کی جانب سے کشمیر میں جہاد کاز کے لئے پیسوں کی منتقلی کی رپورٹیں شایع ہوتی رہی ہیں اور کئی جہادی لیڈروں کو سعودی عرب بلایا بھی جاتا رہا ہے۔مدارس اور مساجد کو سعودی پیٹرو ڈالر نے آہستہ آہستہ آل سعود کے دوست سخت گیر وہابی ازم سے مماثل دیوبندی ازم کو پھیلنے کے لئے سازگار فضا بنانے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔بظاہر ایک غیر سیاسی دیوبندی تبلیغی جماعت جس کا مرکز رائے ونڈ ہے اب اس کے سالانہ اجتماعات میں شریک لوگوں کی تعداد کو حج کے بعد دوسرے بڑے اجتماعات کہا جاتا ہے۔

دیوبندی ازم کے پیروکاروں کی تعداد 70 سے 80 ملین بتائی جاتی ہے جوکہ جنوبی ایشیا،ایشیاء،افریقہ،یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے۔فرانس میں ان کے ایک لاکھ پیروکار تھے جبکہ 2007ء میں برطانیہ کی 1350 مساجد میں سے باقی کی قریب قریب 600 مساجد تبلیغی جماعت کے پاس تھیں۔

تبلیغی جماعت صوفی اسلام کا رد کرتی ہے اور اسے بت پرستی اور بزرگان دین کو پوجنے سے تعبیر کرتی ہے۔تبلیغی جماعت تو مذہبی تودے کا صرف پانی سے باہر نظر آنے والا حصّہ ہے۔مذہبیت اور اس سے جڑا اکثر اینٹی کلچر جگہ جگہ نظر آتا ہے۔پاکستان میں فوجی خاندانوں میں پلنے والے آپ کو بتاسکتے ہیں کہ 70 سے پہلے آرمڈ فورسز کے علاقوں میں 90 فیصدی مساجد اہلسنت بریلوی ،8 فیصد دیوبندی اور دو فیصد شیعہ ہوتی تھیں۔جبکہ اہلحدیث سلفی مسجد کوئی نہ تھی۔26اب 85 فیصد مساجد دیوبند یا سلفی ہیں اور 10 فیصد سے بھی کم اہلسنت بریلوی ہیں۔26مسجد پلس مدرسہ کلچر آہستہ آہستہ خانقاہ۔مسجد کلچر کو شکست دیتا جاتا ہے۔
پروفیسر ۔۔۔۔۔۔ کیا پاکستان بطور تکثریت پسند ریاست کے باقی رہ سکتا ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*