سرنڈر دہشت گرد احسان اللہ احسان، ریاست پاکستان اور جنگ میڈیا گروپ عامر حسینی

پاکستان کا معروف میڈیا گروپ ڈان کی انگریزی اور اردو ویب سائٹ پہ شایع ہونے والی خبر نے ایک بات تو واضح کردی ہے کہ تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان سے انٹرویو انڈی پینڈنٹ میڈیا گروپ کا فیصلہ تھا جس کے تحت جنگ، دی نیوز انٹرنیشنل وغیرہ شایع ہوتے اور جیو نیوز ٹی وی بھی اسی گروپ کی ملکیت ہے اور جس کے مالک میر شکیل الرحمان اور ان کا خاندان ہے۔کیونکہ اسی گروپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیمرا کی احسان اللہ احسان کے سلیم صافی کے پروگرام کے لئے گئے انٹرویو پہ پابندی کو چیلنج کیا۔

اور اس خبر کے مطابق اس گروپ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ انٹرویو پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے تعاون سے کیا گیا۔اب اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آئی ایس پی آر نے خود سلیم صافی کو چنا اور جنگ میڈیا گروپ سے اس انٹرویو کو آن آئر جانے کو کہا۔یا اس کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ سلیم صافی نے پہلے یہ آئیڈیا میر شکیل الرحمان سے ڈسکس کیا اور پھر آئی ایس پی آر تک رسائی کی اور ایسے احسان اللہ احسان کے انٹرویو کے لئے راہ ہموار کی گئی۔

دونوں صورتوں میں آئی ایس پی آر کا مقصد پورا ہوتا تھا۔ کیونکہ جب آئی ایس پی آر نے احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان ميڈیا کے سامنے پیش کیا تو اس اعترافی بیان میں احسان اللہ احسان نے تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس اور ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسی راء کے ساتھ روابط، ان سے پیسے لینے ، ان کے ذریعے سے پاکستان میں دہشت گردی گرانے جیسے معاملات کا ذکر کیا۔اعترافی بیان سے پاکستانی فوج اور دائیں بازو میں پاکستان کے اندر مذہبی دہشت گردی کو تکفیری اور جہادی آئیڈیالوجی ، تزویراتی گہرائی کی پالیسی ، جہاد افغانستان و جہاد کشمیر پروجیکٹ کا شاخسانہ نہ ماننے بلکہ اس کے لئے سازش اور ہندوستانی و افغان فیکٹر کو مرکزی سبب قرار دینے اور اس سے عالمی سامراجی جنگی کیمپ اور سعودی فنڈنگ کے رشتے نہ ماننے والوں کا بیانیہ طاقتور بنانا اور دلیل مہیا کرنا تھا کہ پاکستان کے اندر جملہ دہشت گردی اصل میں افغانستان اور راء کی مشترکہ سازش ہے۔اس سے پہلے کلبھوشن کے معاملے میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پہ ہونے والے حملوں میں بھی راء کے ملوث ہونے کو ثابت کیا گیا۔سلیم صافی کا یہ انٹرویو بھی اسی طرح کے مقدمے کو ثابت کرنا تھا۔

سلیم صافی کو جب احسان اللہ احسان نے یہ بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کا وجود افغانستان کے اندر استعماری فورسز ( نیٹو ، امریکہ ) کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آیا تھا اور اس کے لئے مہمند ایجنسی کے اندر تربیت کیمپ کے اندر اس نے تربیت پائی ، استاد وزیرستان سے آتے تھے اور کیسے ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان اور پاکستان کے ملحقہ علاقوں ميں آزادانہ حرکت کرتے تھے۔

تو سلیم صافی نے احسان اللہ احسان سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کے تربیتی کیمپوں کو پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے ابتداء میں ہی کام کرنے سے کیوں نہیں روکا؟ کیا پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی افسران کو اس نقل و حرکت کا پتا تھا؟ لیکن جیسے ہی احسان اللہ احسان نے بتایا کہ وہ خوست ، جلال آباد ، ننگر ہار ، کنڑ اور مزار شریف آتا جاتا رہا ہے اور دیگر کمانڈر بھی تو سلیم صافی فوری یہ سوال کرلیتا ہے کہ کیا افغان این ڈی ایس ، راء ، نیٹو و امریکیوں کو پتا نہیں چلتا تھا؟ احسان اللہ احسان اس کا جس انداز میں اور جو جواب دیتا ہے اس کے پہلے سے پڑھائے گئے ہونے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

ایک تو احسان اللہ احسان صرف این ڈی ایس اور راء سے روابط، ان کی سرپرستی اور ان سے وسائل اور ہتھیار و اہداف ملنے کا ذکر کرتا ہے۔اور امریکی و نیٹو فورسز کے بارے میں کہتا ہے کہ افغانی این ڈی ایس والے ان کو ایسی جگہوں کا بتادیتے تھے جہاں سیکورٹی نیٹو اور امریکن کے پاس ہے۔بہت ہی عجیب بات ہے کہ ٹی ٹی پی اور احرار کے لوگ امریکیوں کو آسانی سے چکمہ دے ڈالنے کی بات کررہے ہیں اور اس میں مددگار این ڈی ایس ہے۔اور اس صورت حال پہ سی آئی اے سمیت مغرب کی سبھی انٹیلی جنس ایجنسیز بے خبر رہی ہیں۔ سلیم صافی احسان اللہ احسان سے یہ سوال نہیں کرتا کہ آخر مہمند ایجنسی میں فوجی آپریشن وہاں پہ ٹی ٹی پی کی تنظیم بننے اور پوری طرح سے پھل پھول کر تیار ہونے کا انتظار کیوں کیا گیا ؟

یہ سوال بھی نہیں پوچھا جاتا کہ احسان اللہ احسان کا کہنا ہے جب مہمند ایجنسی ،شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوئے اور پھر جنوبی وزیرستان میں آپریشن ہوئے تو اس دوران ہی وہ بھاگ کر افغانستان گئے ،اس سے پہلے کون ان کی سہولت کاری کررہا تھا؟ کیا جماعت الاحرار بننے سے پہلے ٹی ٹی پی کے ساتھ انڈین و افغان روابط کا سراغ ملتا ہے؟ کیونکہ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں مشرف دور اور اس کے بعد پی پی پی کی دور تک سی آئی اے اور بلیک واٹر کے تذکرے ہوتے رہے اور پھر اس میں افغان این ڈی ایس اور راء کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اور اس طرح سے تکفیریت کی مقامی جڑوں اور اس کی آئیڈیالوجی کے سوال کو یکسر گول کیا جاتا رہا ہے۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آج جنگ ميڈیا گروپ کے اندر بیٹھے بڑے بڑے نام ہیں لبرل تجزیہ کاروں، اینکرز پرسن کے جو اپنی تحریروں، تجزیوں اور انوسٹی گیشن رپورٹنگ کے نام پہ ہمیں یہ تاثر دینے میں مصروف عمل تھے کہ پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ کی اسٹرٹیجک ڈیپتھ تزویراتی گہرائی کی پالیسی، افغان جہاد پروجیکٹ اور کشمیر جہاد پروجیکٹ سے تحریک طالبان پاکستان ، احرار ، لشکر جھنگوی العالمی وغیرہ کا ظہور ہوا ہے۔

اور اس انٹرویو سے کچھ عرصہ پہلے تک جنگ ميڈیا گروپ میں نوکری کرنے والے لبرلز نے ہی ہمیں یہ بھی بتانا شروع کیا ہوا تھا کہ نواز شریف مودی اور اشرف غنی کے ساتھ ملکر خطے میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں مگر یہ ملٹری جنتا اور آئی ایس آئی کے اندر بیٹھے دماغ ہیں جو اس سارے کھیل کو خراب کررہے ہیں۔مگر یہ اپنا ہی قائم کردہ تاثر اس وقت ٹوٹنا شروع ہوگیا جب اسی جنگ میڈیا گروپ پہ دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کی مین سٹریمنگ شروع ہوئی اور احسان اللہ احسان کے انٹرویو سے یہ اپنے عروج پہ پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کے اندر اشراف لبرل صحافی اور انسانی حقوق کے اشراف زادے اور اشراف زادیاں ہمیں ایک عرصے سے یہ باور کرانے میں لگے ہوئے تھے کہ پاکستان کے اندر ملٹری اسٹبلشمنٹ اور پاکستانی سیاسی اشرافیہ کے درمیان کوئی خوفناک رسا کشی جاری ہے اور اس لڑائی کا عکس پاکستانی میڈیا گروپوں کے درمیان ہونے والی لڑائی اور کشاکش ہے۔کیا پاکستان لبرل اشراف صحافی اور سول سوسائٹی کے اشراف ہمیں یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کررہے تھے کہ اس ملک کے اندر بول،اے آر وائی،92 نیوز ، 24 چینل وغیرہ وغیرہ پہ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کا ایجنڈا نہیں چل رہا ؟

کیا اوریا جان مقبول سے لیکر عامر لیاقت حسین تک اور اس سے آگے صابر شاکر ،ارشد شریف تک سب کو بوٹ پالشیا نہیں کہا جارہا تھا۔اور خود کو لبرل اشراف آزادی اظہار، لبرل اقدار ، سیکولر فکر ، جمہوریت ، سویلین بالادستی کے علمبردار نہیں کہلوارہے تھے اور ان کی اکثریت کیا میاں محمد نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑی تھی اور اسے اینٹی اسٹبلشمنٹ مہان بناکر پیش نہیں کررہی تھی؟ آج کیا ہوا ہے ؟

جنگ اپنی مظلومیت اور اپنی مجبوری کا ذمہ دار جن کو ٹھہرا رہا تھا ان کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ کی کریم نواز شریف اینڈ کمپنی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان دونوں کی پروجیکشن کا ایک دم سے بیڑا پھر جنگ میڈیا گروپ نے اٹھا لیا ہے۔حقیقت میں ملٹری اسٹبلشمنٹ، سیاسی و عدالتی اسٹبلشمنٹ اور صحافتی اسٹبلشمنٹ کے اندر سامراجی ، جہادی و تکفیری نواز لابی نے اپنی طاقت اور اپنے غلبے کو ایک بار پھر سے ثابت کردیا ہے اور کمرشل لبرل مافیا اور دائیں بازو کے جہادیوں کا باہمی گٹھ جوڑ ایک بار پھر سے ثابت ہوگیا ہے۔جو لوگ ہمیں یہ کہتے تھے کہ پاکستان کے لبرل کے اندر ایک طاقتور کمرشل لبرل لابی کا سرے سے وجود نہیں ہے اور دائیں بازو میں جہاد و تکفیر نواز لابی سے اس کے اشتراک کی بات کہانی اور افسانہ ہے وہ ایک بار پھر غلط ثابت ہوئے ہیں۔

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*