خرم زکی : غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا – عامر حسینی

کل مجھے علی الصبح ایک دور دراز کے گاؤں جانا پڑا جہاں نہ تو موبائل سگنل آرہے تھے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں ہوئے کسی معاملے کو جاننے کا کوئی زریعہ ہی موجود تھا – اسی لئے تو جو قیامت آنی تھی وہ آچکی تھی اور میں اس سے بے خبر تھا
 
ساجن ایسی پریت نہ کریو -جیسی لمبی کجھور
دھوپ لگے تو چھاؤں ناہی ، بھوک لگے تو پھل دور
 
میں رات ڈھائی بچے گھر واپس آیا جبکہ تاریخ بدل چکی تھی اور آکر میں نے جیسے ہی انٹرنیٹ کنیکٹ کیا تو سیدہ ہانیہ رضوی کا پیغام فیس بک میسنجر میں مرا منتظر تھا جس میں سلام کے ساتھ ہی آنسوؤں کو ظاہر کرنے والی علامت کے ساتھ ‘خرم زکی ‘ لکھا تھا ، مرا دل جیسے کچھ لمحے کو دھڑکنا چھوڑ گیا ہو اور میں نے فوری سوچا کہ کیا اب مجھے ‘ہے ‘ کو ‘تھا ‘ لکھنا ہوگا اور لگتا تھا کہ وہ خدشات حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں جن کا اظہار میں خاص طور پہ سپاہ صحابہ پاکستان کی مرکزی ، صوبائی قیادتوں کی رہائی کی خبریں سنکر برملا کرچکا تھا اور اپنے تئیں میں نے بھی خرم زکی کو اپنی نفل و حرکت محدود کرنے اور اپنے گھر سے باہر آنے جانے کا روٹ اور وقت بدلنے کا مشورہ بھی دے چکا تھا جس پہ میں خود بھی ہنسا تھا اور خرم نے بھی دل کھولکر مرا مذاق اڑایا تھا ، کہنے لگا کہ کیا تم کہیں بند ہوکر بیٹھ سکتے ہو ؟ چلے ہو مجھے مشورہ دینے –
 
ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے خرم زکی کو ایک سٹریچر پہ پڑے دیکھا تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا کہ وہ اتنی آسانی سے ، اور اتنی جلدی اچانک رخصت ہوجائے گا یادوں کا ایک ریلہ ہے جو دکھ اور تکلیف کی لہر کے ساتھ ساتھ امنڈا چلا آرہا ہے اور ایک کے بعد ایک منظر مرے سامنے اپنا آپ کھولتا چلا جاتا ہے –میں نے سندھ میں ایک اسائمنٹ کرنے گیا ہوا تھا اور 30 دن میں نے وہاں گزارے تھے جن میں سے چار دن میں کراچی رہا-
 
وہاں خرم سے ملاقات ہوئی تھی بلکہ یوں کہا جائے کہ جیسے ہی میں نے اسے بتایا کہ میں کراچی آنے والا ہوں تو اس نے مجھ پہ زور دیا کہ میں اس کے ہاں چلا آؤں میں نے کراچی صدر میں ایک ہوٹل میں رہائش رکھ لی اور ایک دن بعد اسے بتایا تو اس نے ہوٹل آکر زبردستی مرا سامان اٹھایا اور اپنے فلیٹ میں لے آیا اور مجھے اس نے اپنے بیڈروم نما کتب خانے میں ٹھہرادیا-
 
اور پھر اس کے ساتھ قیام کے دوران اس کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آئے-وہ اس گھرانے میں پیدا ہوا تھا جس گھرانے کے کئی افراد دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبندی مدارس میں اہم مناصب پہ فائز تھے ، اس کے انتہائی قریبی عزیزوں میں جامعہ علوم الاسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے صدر الشریعہ مفتی محمد نعیم بھی شامل ہیں-وہ انتہائی دائیں بازو کی قدامت پرستی سے بتدریج رواداری پہ مبنی صلح کل روایت کی جانب آیا اور اس نے مذھبی اور نسلی فسطائیت کے خلاف جدوجہد شروع کی-
 
وہ اپنے خیالات پہ پختگی سے قائم رہنے والا شخص تھا- جب وہ نیوز ون میں انفوٹینمنٹ اور مذھبی پروگرامز کا انچارج تھا تو اس نے سعودی عرب کی جانب سے توسیع حرم کے نام سے تاریخ و آثار اسلامی مٹائے جانے کے پروجیکٹ پہ ایک تنقیدی پروگرام نشر کیا تو اسے نوکری سے نکال دیا گیا لیکن اس نے اپنے کچھ عرصے کے لئے بیروزگار ہوجانے کی پرواہ نہ کی اور وہ ڈٹا رہا-وہ بنیادی طور پہ ایک سکالر ، محقق تھا اور وہ لکھنے پڑھنے تک محدود رہنا چاہتا تھا لیکن کراچی سمیت پورے پاکستان میں ہونے والی ہونے والی شیعہ ، صوفی سنّی نسل کشی ، اقلیتوں پہ ہونے والے مظالم اور ان کے حقوق کی سلبی کی تیز ہوتی لہر نے اسے سماجی تبدیلی کے علمبردار دانشور رضاکار میں بدل دیا تھا-
 
وہ تکفیری فاشزم ، شیعہ و سنّی نسل کشی ، کرسچن ، احمدیوں ، ہندؤں پہ ہونے والے حملوں کے زمہ دار عناصر کی شناخت کو بے نقاب کرنے میں انتہائی سرگرم ہوگئے اور انہوں نے سعودی عرب سمیت دیگر گلف ریاستوں کی بادشاہتوں کے وہابی پس منظر اور ان کے پاکستان میں اتحادیوں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرنا شروع کردیا-خرم زکی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ ایک طرف تو اس نے اعتدال پسند سنّی علماء و دانشوروں ( اس میں صرف صوفی سنّی ہی نہیں بلکہ دیوبندی ، اہلحدیث ، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے معتدل مزاج علماء و دانشور بھی شامل تھے ) کو تکفیری فاشزم کے خلاف سرگرم کیا تو دوسری طرف اس نے ان سنّی علماء و دانشوروں کے شیعہ ، کرسچن ، ہندؤ دانشوروں اور سکالرز کے ساتھ روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے اندر ایک طرف تو پاکستان کے اندر بڑھتی سعودیزیشن کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس نے تکفیری قوتوں اور ان کے ہمدردوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ تنہا کرنے کا فریضہ بھی سنبھال رکھا تھا-
 
خرم زکی کی کوششوں سے درجنوں علماء اور سکالرز میدان عمل میں اترے ، اس کے ساتھ ساتھ اس نے سول سوسائٹی کے اندر بھی جرآت مندانہ موقف رکھنے والے لوگوں کو باہم جوڑنے کی کوشش کی- کراچی میں سول سوسائٹی کو تکفیری مذھبی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے خلاف اس نے مارچ کرنے کی ترغیب دی اور یہ وہی تھا جس نے جبران ناصر اور کئی ایک نوجوان لڑکے لڑکیوں کو تکفیری فاشزم کی ایک مضبوط علامت لال مسجد اور اس کے برقعہ بریگیڈ ملّا عبدالعزیز کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے خلاف احتجاج منظم کرنے پہ تیار کیا اور پھر وہ مولوی عبدالعزیز کے خلاف مدعی بھی بنا ، اس نے اسلام آباد جاکر تھانے اور عدالتوں سے رجوع کیا بلکہ اس موقعہ پر وہ اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ میدان عمل میں نکلا ، لال مسجد کے سامنے احتجاج پہ اس ، اس کی بیوی بچوں سمیت گرفتار کرلیا گیا لیکن اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے ، اس نے پشاور ، لاہور یوحنا آباد ، گوجرہ وغیرہ میں مسیحی برادری پہ ہوئے حملوں کے خلاف احتجاج منظم کیا اور تکفیری قوتوں کے خلاف زبردست سٹینڈ لیا-
 
اس کی بے پناہ جرآت اور حق گوئی کے انداز کو جہاں درجنوں لوگ سراہتے تھے وہیں پہ اس کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا ، اسے ملنے والی دھمکیوں میں اضافہ بھی ہوتا چلا جارہا تھا – اسے انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کے لئے کہا اور اسے تنبیہ کی کہ وہ پبلک مقامات پہ آزادانہ گھومنے پھرنے سے گریز کرے اور اسے سوشل میڈیا پہ ایکٹوازم کو گمنام آئی ڈیز سے کرنے کی ہدائیت دینے والوں کی کمی بھی نہیں تھی لیکن خرم زکی ایک مجلسی آدمی تھا ، وہ ٹھیک طرح سے کہا جائے تو ایک “تھڑے باز ” آدمی تھا جس کی زندگی چوکوں ، چوراہوں ، ٹی سٹالوں اور عام سے ریستورانوں کے بغیر ادھوری تھی –
 
وہ کراچی میں روز روٹین کے مطابق اپنے دوستوں کے ساتھ رات گئے تک کہچری کیا کرتا تھا اور جب کسی اور شہر جاتا تو جانے سے پہلے منادی کردیتا تھا اور اپنی لوکیشن بتاتا تھا تاکہ لوگ آسانی سے اسے مل سکیں اور وہ لوگوں سے ، قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج منظم کرنے والوں مين وہ شامل تھا –اس کا خواب تھا کہ پاکستان میں ایک زندہ ، جاندار ایسی سول رائٹس کی تحریک منظم ہو جس کا شیعہ نسل کشی پہ موقف معذرت خواہانہ یا گول مول نہ ہو اور وہ اس کو سعودی-ایران یا شیعہ- سنّی بائنری کے آئینے میں نہ دیکھتی ہو اور وہ پاکستان کی نسلی اور مذھبی برادریوں کو تکفیری فاشزم کے خلاف ایک پلیٹ فارم پہ جمع کرے –
 
وہ ایسے سول سوسائٹی ایکٹوسٹ ، صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے انتہائی خلاف تھا جو کمرشل ازم کی بنیاد پہ دہشت گردوں کی شناخت کو چھپانے اور عوام کے اندر کنفیوژن پھیلانے پہ مامور تھے اور جو دائیں بازو کے تکفیری نواز سیاست دانوں کو لبرل ثابت کرنے اور ان کو اینٹی اسٹبلشمنٹ پوسچر کے ساتھ پیش کرتے رہتے تھے اور ایسے کمرشل لبرل جو اشرفی و لدھیانوی کو ماڈریٹ و لبرل ملّا بناکر پیش کرنے میں لگے ہوئے تھے – یہ کمرشل لبرل مافیا انتہائی طاقتور تھا جس کے خلاف اس نے علم بغاوت بلند کیا تھا اور اسے اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی- وہ ایک ایسے بلاگ کا ایڈیٹر تھا جس کی ایڈمن ٹیم میں وہ واحد پاکستان میں رہنے والا رکن تھا جو اپنے اصل نام سے وہاں موجود تھا –
 
اور وہ اس وقت تعمیر پاکستان بلاگ کے مدیر کے طور پہ سامنے آیا تھا جب اس بلاگ پہ خود سول سوسائٹی کے کچھ حلقوں نے یہ اعتراض کرنا شروع کیا تھا کہ اس کے لوگ اپنی اصل شناخت چھپاکر کام کررہے ہیں اور اس بلاگ کے باقی اراکین سے بھی سامنے آنے کا مطالبہ ہوتا رہا- اس مطالبے کو ایک پروپیگنڈا مہم میں بدلنے والوں نے خرم زکی کو نشانے پہ رکھا اور ساتھ ہی دوسرے ممبران کو اپنی شناختیں ظاہر کرنے پہ اصرار کیا-
 
اس بلاگ کے خلاف اتنا جھوٹ بولا گیا کہ کئی ایک سادہ لوح لوگ اس جھوٹ کو سچ خیال کرنے لگے لیکن مجھے لگتا ہے کہ خرم زکی نے اپنے خون سے اس بلاگ کی بے گناہی کی گواہی رقم کی ہے اور ساتھ میں ان تمام حلقوں کے سامنے سوال بھی کھڑا کیا ہے جو تعمیر پاکستان بلاگ کی ایڈمن ٹیم کی اصل شناخت جاننے کا مطالبہ دوھرایا کرتے تھے –خرم زکی سنگین دھمکیوں کے باوجود اسی ملک میں ٹکا رہا ، اس نے کہیں پہ پناہ لینے کی کوشش نہیں کی اور اپنے ایکٹوازم کی بنیاد پہ کسی یورپی ، سیکنڈے نیوین ملک یا امریکہ و کینڈا مراجعت نہ کی اسے کہا جاتا رہا کہ وہ کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے لیکن سب کو معلوم ہے کہ اس کے پاکستان کو چھوڑ کر نہ جانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ لوگ اس کے انتہائی جرآت مندانہ موقف اور ایکٹوازم کو امریکہ ، یورپ جانے کی سبیل نکالنے کی پالیسی قرار دے رہے تھے تو اس نے سختی سے کہیں اور جانے سے انکار کردیا –
 
اور جیسے علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کوفہ نہیں چھوڑا تھا ایسے ہی اس نے بھی اپنا کوفہ نہیں چھوڑا اور وہ تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا خرم زکی کی رخصتی پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے خلاف ہونے والی جدوجہد کے لئے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے اور اس کا جانا پاکستان کے اندر تکفیری بیانیہ کے خلاف ایک طاقتور آواز کے خاموش ہوجانا ہے-خرم زکی جس طرح کراچی کے ایک عام سے ریستوران میں گولیوں کا شکار ہوا اس نے بہت سے افسانوں اور جھوٹ کی قلعی بھی کھول دی ہے-
 
وہ لبرل اور ترقی پسند اپنے گربیانوں میں جھانکیں جو کہا کرتے تھے کہ اسقدر بے باک اور نڈر موقف تکفیری فاشزم کے خلاف عسکری اسٹبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی اشیرباد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ پروپیگنڈا بھی کیا جاتا رہا کہ اس کا پروفائل خود ملٹری اسٹبلشمنٹ بڑھارہی ہے – خرم زکی جاں بحق ہوچکا اور کوئی سیکورٹی اس کے پاس نہ تھی ، یہاں تک کہ ایک پستول تک اس کے پاس نہیں تھا جب اس پہ حملہ ہوا –
 
اس کا ساتھی خالد راؤ ایک صحافی اور ایک سکالر ہے اور ایک عام سی پرانی کھٹارا موٹر سائیکل پہ وہ سارے کراچی مين گھوما پھرا کرتا تھا یا خرم کے ساتھ اس کی سیکنڈ ہینڈ گاڑی میں ہوتا تھا اور میں نے کراچی کے ایک علاقے میں ایک عام سی دکان کے اندر اس کا بستر لگا دیکھا تھا-اور خرم کے دوست ، اس کے نوجوان ساتھی سب کا پس منظر لوئر مڈل کلاس کا تھا اور سب کچی ، پکّی نوکریاں اور مشکل سے اپنی تعلیم کا خرچہ اٹھانے والے ہیں-میں نے دیکھا کہ جب کبھی کچھ رقم اس کے ہاتھ آتی وہ سب ے پہلے کتابیں خریدتا اور اس کے بعد دوسری ضرورتوں کی طرف جاتا تھا ، اسے سے زیادہ قناعت پسند آدمی میں نے نہیں دیکھا جس کے پاس موقعہ تھا کہ وہ اپنے لئے خوشحال ، آسان اور خطروں سے پاک راستے کا انتخاب کرلیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا –
 
اس کے جانے کے بعد تعزیتوں ، مذمتوں کا ایک سلسلہ سوشل میڈیا ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ جاری ہے اور سب ہی حلقے غم اور رنج کا اظہار کررہے ہیں –یہاں تک کہ وہ بھی مذمت کا ٹوکرا اٹھائے آگئے ہیں جو کل تک اسے بوٹ پالشیا اور اسٹبلشمنٹ کا پیارا کہا کرتے تھے-میرے پاس مذمت کرنے کے لئے کوئی الفاظ نہیں ہیں ، ہاں اب ایک بار پھر مجھے کہا جارہا ہے کہ میں احتیاط سے کام لوں بلکہ اپنے اصل نام سے غائب ہوجاؤں جیسے سلمان تاثیر کے قتل ، پھر راشد رحمان کے قتل ، پھر صبین محمود کے قتل کے بعد مشورہ دیا گیا تھا ، کتنی احتیاط ، کتنی خاموشی پاکستان کے اندر اختیار کی جائے گی ؟ کتنی فیس بک آئی ڈیز فیک بناکر کام کیا جائے گا ؟ ک
 
تنے ٹوئٹر اکاؤنٹ فیک بنالئے جائیں گے ؟ کب تک لوگ یونہی اپنی حق پرست آوازوں کا گلہ گھونٹتے رہیں گے؟ پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ جو ان کی یک رخی ، یک نوعی ، تکثیریت مخالف آئیڈیالوجی سے اتفاق نہ کرتا ہو اسے جینے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس ملک کے اندر شیعہ ، صوفی سنّی ، اپنی شیعت اور تصوف کے ساتھ زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتے جبکہ کرسچن ، ہندؤ دوسرے درجے کے زمّی بن کر ہی رہ سکتے ہیں اور جو ان کے راستے میں آئے گا اس کا خاتمہ کردیا جائے گا –ہماری ملٹری اسٹبلشمنٹ ایک منتخب اور نام نہاد کنٹرولڈ دیوبندی- سلفی عسکریت پسندی کے زریعے تزویراتی گہرائی کی تلاش جاری رکھے جانے پہ مصر ہے اور وہ بالواسطہ لو پروفائل شیعہ – صوفی سنّی نسل کشی کو قابل برداشت نقصان خیال کرتی ہے جبکہ کئی ایک سیاسی جماعتیں تکفیریوں سے اتحاد جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں اور اسی منافقانہ پالیسی کے سبب ڈاکٹر سرفراز نعیمی ،خرم زکی ، پروفیسر یاسر رضوی ، ڈاکٹر شکیل اوج ، سلمان تاثیر ، راشد الرحمان ، ڈاکٹر شبر رضوی استاد سبط جعفر ، ڈاکٹر علی حیدر جیسے لوگوں کا قتل ہورہا ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*