برادر یوسف کے نام سورگ سے ایک خط

آداب برادر یوسف

مجھے آپ کو برادر یوسف اس لئے کہنا پڑا کہ اس وصف سے ہٹ کر دوسرا وصف آپ کی ذات پہ جچتا ہی نہیں ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے یہ سب لکھنے کے لئے سورگ سے تھوڑی دیر کے لئے نو مین لینڈ پہ آنا پڑا ہے تاکہ گرمئی الفاظ اس خط میں لاسکوں۔سنا ہے آپ بہت مشہور ہوگئے ہیں، ملک کے اندر اور باہر کالجز اور یونیورسٹیز کے لڑکے ،لڑکیوں کے آپ آئیڈیل بن گئے ہو اور درمیانے طبقے کے ادھورے جن بھوت آپ کے فین بن گئے ہیں۔

اور ایسے میں آپ کو کہاں یاد ہوگا وہ آدمی جس کو آپ نے سولی چڑھایا اور رام بھلی کرے گا کہہ کر بڑی آسانی سے استعمال کرلیا تھا اور اس کے خون کے نشان آج بھی تمہارے شہر کی ایک سڑک کے کنارے جم کر سیاہ ہوگئے ہیں۔اور تم نے پلٹ کر نہ دیکھنا تھا اور نہ تم نے دیکھا۔اور میرے بہت سے ساتھی آج خود کو بے سر و سامانی کے عالم میں پاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں بچا جس پہ چل کر وہ منزل کا سراغ پاسکیں۔تم نے کہا تھا کہ آؤ ایک متبادل ضمیر کی تعمیر کریں ، جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہم کرتے ہیں اور تم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔تم نے کہا کہ تم میرے لئے ہارون کی طرح ہوں گے اور ہر پل میرا ساتھ دوگے۔

لیکن یہ کیا کہ متبادل ضمیر کی تعبیر میں مجھے پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب اس ملک کے کوفہ میں ہم ساتھ ساتھ تھے تم نے اچانک اپنا راستہ الگ کرلیا اور مجھے تنہا چھوڑ کر اپنی دکان سجالی جس پہ تم نے ” ابہام ” کا سواد سجالیا اور ” کمرشل ازم ” کے ٹوکرے اٹھالئے۔ہم تو متبادل تعمیر کرنے نکلے تھے، یہ کیا کہ تم نے جسے مٹانا تھا اس کا دم بھرنا شروع کردیا اور مجھے ایک بڑی بلا کے سامنے تنہا چھوڑ دیا۔تم اچھی طرح جانتے تھے کہ میں فکری جدال میں جتنا بھی طاق ہوں گا لیکن مجھے سٹریٹجک وار اور ہتھکنڈوں کا فن زرا نہیں آتا تھا اور میں سمجھ ہی نہ سکا کہ تم پہ شہرت کا بھوت سوار ہوگیا ہے اور بونوں کی جکنی چپڑی باتوں نے تمہارا دل موہ لے لیا ہے۔

ایسے میں جب مجھ پہ بے سروسامانی کا عالم تھا اور میرے سفر و حضر کا انتظام کیسے ہوتا تھا تمہیں سب پتا تھا اسی لئے تم نے سنت بوزری کے راستے سے راہ فرار اختیار کرلی اور اسی لئے اچانک تمہیں تاریخ حق و باطل کی بجائے فرقہ پرستی اور دو گروہوں کے اقتدار کی لڑائی لگنے لگی اور تم مارنے والوں اور مرنے والوں کے درمیان برابری کی تلاش میں لگ کئے اور فاشزم تمہیں پراکسی وار لگنے لگا۔میں زندہ تھا تو تم نے کچھ پردہ رکھا ہوا تھا اور ابہام و کمرشل ازم کی دکان کی فرنچائز کھولنے سے گریز کیا تھا اور اس ملک میں قتل و غارت گری اور نسل کشی کو دو ملکوں کی پراکسی جنگ بتلانے والے بے ضمیر کمرشل لبرل ٹولے سے اپنے تعلقات کو اوپن کرنے سے روکے رکھا تھا۔

کیونکہ تم جانتے تھے کہ مجھ جیسا آدمی تمہارے بارے میں جو جانتا ہے وہ سامنے آیا تو تمہاری جھوٹی “ہیرو پنتی ” ایک دم سے ننگی ہوجائے گی اور اتنے بڑے سنگھاسن پہ جہاں تم فائز ہوکر سادہ لوح نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں ے داد سمیٹتے ہو وہ سنگھاسن چھن جائے گا ۔تمہاری پاکستانیت ایک ایسا فراڈ ہے جو سعودی عرب ریال پرست سفیروں کے سامنے ڈھے ڈھے جاتی ہے اور تم ایک یا دوسری طرح ان کے کہے پہ عمل کرتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ طاقت بٹی ہوئی ہے اور تم اسے پارلیمان ، جی ایچ کیو ، ایجنسیوں ، سول بابو شاہی میں تقسیم دکھاتے ہو لیکن کل تک میرے سامنے تم کہتے تھے کہ اس ملک میں سرمایہ داروں کی باہمی افقی لڑائیاں اپنی جگہ پہ لیکن ان کا مفاد سب سے مقدم اور ریاست کے سب ادارے اس کی خدمت کرنے پہ مامور ہوتے ہیں اور تم ہی نے کہا تھا کہ پاکستان امریکیوں سے کہیں زیادہ سعودی عرب کی کالونی ہے اور سعودی عرب کی کالونی میں ریاست کے اداروں کے اندر اور سول سوسائٹی میں سعودی کیمپ بہت بڑی طاقت ہے مگر آج تم کمرشل لبرلز کی زبان بولتے ہو اسی مافیا کے ساتھ کھڑے ہو۔اور تم اتنے ظالم ہو کہ یہ مافیا اگر یہ کہے کہ فلاں کی جبری گمشدگی پہ زیادہ شور نہیں مچانا تو تم چپ سادھ لیتے ہو۔

چاہے وہ فلاں تمہارا کتنا ہی ساتھ دیتا رہا ہو۔میرے قتل کے بعد میرے لاش کی وراثت تم نے لینے کی بہت کوشش کی مگر جب کامیابی نہ ہوئی تو اپنے پلیٹ فارم سے تم میرا نام تک نہیں لیتے۔لاشوں کی سیاست صرف مذہب کے ٹھیکے دار،سیاست دان ہی نہیں کرتے تم جیسے کمرشل لبرل مافیا کے ہاتھوں اپنا ضمیر بیچ دینے والے انسانی حقوق کی پاسداری کا ڈھونگ رچانے اور متبادل سول سوسائٹی کی تعمیر کے نام پہ ریاست کے اندر بیٹھ بدمعاشوں کی تابعداری کرنے والے بھی کرتے ہیں۔مجھے بظاہر اس شہر کے اس قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے جہاں مذہب اور عقیدے کے نام پہ مارے جانے والے مردوں ، عورتوں اور بچوں کی لاشیں دفنادی گئی ہیں اور سوچ یہ لیا گیا ہے کہ اب ان کا زکر کون کرے گا، لیکن یہ ساری لاشیں اب بھی وہیں پڑی ہیں جہاں ان کو قتل کیا گیا تھا اور یہ تب تک وہیں پڑی رہیں گی جب تک ان کو انصاف نہیں مل جاتا اور تمہارے لئے میں حظیرۃ القدس سے حاصل ہونے والے القاء کی روشنی میں یہ کہوں گا ” قومے فروختند چہ ارزاں فروختند “
فقط
وہ جسے ناحق قتل کیا گیا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*