ریاست مخالف بیانیہ کیا ہوتا ہے؟

پاکستان کی آبادی بیس کروڑ ہے۔ اِں بیس کروڑ پاکستانیوں میں نہ تو ہر شخص کسی غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی این جی او کا کارکن ہے اور نہ ہی مخصوص آقاوں کے چندے پر چلنے والی تنظیموں کا۔ جب آپ انتہائی فخر سے بار بار باور کرواتے ہیں کہ ہم ایک آزاد مملکت کے آزاد شہری ہیں تو اِس آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے خدشات کا اظہا رکرنے والے کو، کوئی سوالے اُٹھانے والے کو اور اپنے تحفظات کا اظہار کرنے والے کو کسی این جی او یا کسی تنظیم کا رکن یا ہمدرد قرار دے کر اُسے زبردستی ریاست کے مقابل کھڑا مت کریں۔

پشاور آرمی پبلک سکول میں جو بچے قتل ہوئے تھے، اُن کے والدین نہ کسی این جی او سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ کسی تنظیم سے، اُن کے چند سوالات ہیں، اور اِن سوالوں کے جواب دینا ریاست پر فرض ہے۔ اگر اِن سوالوں سے آپ کے اُس بیانیے کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ آپ کے بیانئے کا سقم ہے، جس کے معصوم بچے قتل ہوئے، اُس کا ہر سوال حق بجانب ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اِن والدین کے سوالات سے بھی آگاہ نہ ہونگے۔

بلوچستان کو آپ پاکستان کا اہم حصہ سمجھتے ہیں، درست؟ تو بلوچستان کے باسیوں کے سوال سنیں، جو غلط ہیں اُن کی تصحیح کریں، جو سوال درست ہیں اُنہیں تسلیم کریں۔ سوال پوچھنے والا ہر بلوچ نہ کسی این جی او کا رکن ہے اور نہ کسی تنظیم کا کارکن۔ سوپیپنگ سٹیٹمنٹ دے کر ہر دوسرے شخص کو ریاست کا دشمن مت قرار دیں۔

ابھی پچھلے ہفتے سانحہ باچا خان یونیورسٹی کی برسی گزری ہے۔ یونیورسٹی میں ایک تعزیتی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ ریاست کے کس نمائندے نے یہاں شرکت کی؟ سُنا ہے پختونخواہ حکومت کا ایک نمائندہ وہاں پہنچا تھا، جسے غمزدہ والدین اور انتظامیہ نے باہر نکال دیا۔ نہ ہی چارسدہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور نہ وہ غریب والدین کسی این جی او کے رکن ہیں اور نہ اُن کی کوئی چندہ خور تنظیم ہے۔ اُن کا سوال پوچھنا اُن کا حق ہے، سوال کو مبہم بنا کر اُنہیں نظر انداز کرنا ناانصافی ہے۔

پاکستان کے ہر شہر میں شیعہ قتل ہوئے ہیں، شناخت کر کے قتل ہوئے ہیں، اِن میں ایک ہزار سے اوپر تو صرف ڈاکٹرز ہیں، دیگر پروفیشنلز اس کے علاوہ ہیں۔ چوبیس ہزار سے زائد شیعہ قتل ہوئے ہیں۔ اگر اِن شیعوں کے ورثاء سوال پوچھتے ہیں، اپنے قاتلوں کے آزاد گھومنے پر تحفاظات کا اظہار کرتے ہیں تو اِنکے سوال سنیں۔ یہ سوال ریاست مخالف جذبات نہیں ہیں بلکہ ریاست کو احساس دلانے کی کوشش ہیں۔ بحیثیت ایک شیعہ میں آپ کو پورے یقین کے ساتھ بتا سکتا ہوں کو حب الوطنی کی جو بھی بہترین تعریف ہو، پاکستانی شیعہ اُس پر پورے اُترتے ہیں کیونکہ چوبیس ہزار جنازے اُٹھا کر بھی انہوں نے صرف سوال اُٹھایا ہے، اسلحہ نہیں۔ اِن کے جنازے یا لبیک یا حسین (ع) لکھی چادر میں لپٹے ہوتے ہیں اور یا پاکستان کے جھنڈے سے۔

ہماری ریاست نے احمدیوں کو کافر قرار دے دیا۔ کرنا چاہئے تھا یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اب اگر دے دیا تو اُنہیں بطور ایک اقلیت تو سکون سے رہنے دیا جائے۔ اگر کوئی احمدی سوال اُٹھاتا ہے، اپنے استحصال کا رونا روتا ہے تو تسلی سے اُس کی بات تو سنیں۔ اگر آپ احمدیوں کو ریاست کا دشمن سمجھتے ہیں تو سب سے پہلا سوال ہمیں خود سے کرنا چاہئے کہ آیا ہمیں پینسٹھ کی جنگ میں موجود فرنٹ لائین احمدی جرنیلوں کو کس کیٹیگری میں رکھیں گے؟

ہوسکتا ہے میرا مشاہدہ غلط ہو لیکن سوشل میڈیا پر میں نے قبائلی علاقے سےتعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا دوست دیکھا ہو جو مطمئن ہو۔ میں صرف پارہ چنار کا نام نہیں لوں کیونکہ ایسا کرنے سے میرے سوال کو فورا مسلکی غلاف چڑھا دیا جایگا۔ لہذا میں آپ سے کہوں گا کہ آپ کبھی خود کسی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے دوست سے بات کرکے دیکھ لیں۔ میں کبھی کسی قبائلی علاقے میں نہیں گیا، جو کچھ بھی جان پاتا ہوں وہ سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے یا اُن چند خبروں کے ذرئعے جو نیشنل میڈیا میں رپورٹ ہوتی ہیں۔ اِن علاقوں کے بارے میں دو طرح کی آراء سامنے آتی ہیں، ایک وہ جو ہماری سرکاری رائے ہے اور ایک وہ جو وہاں کے رہنے والے ہمیں بتاتے ہیں۔ لہذا جو رائے وہاں کے رہنے والے دیتے ہیں، ہم اُسے ریاست سے دشمنی قرار نہیں دے سکتے۔

اور آخر میں میں چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک آزاد ریاست کے آزاد شہری کی حیثیت سے۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ یہ ریاست ہوتی کیا ہے؟ کس قسم کے سوال آپ کو ریاست مخالف ثابت کرسکتے ہیں؟ وہ حدود و قیود کیا ہیں جنہیں کراس کرنا آپ کو ریاست کا دشمن قرار دے سکتا ہے؟

کیا پارلیمنٹ اِسی ریاست کا حصہ ہے؟ اگر ہے تو میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اِس پارلیمنٹ میں کالعدم تنظیم کے نمائندے اور اِن نمائندوں کے ہمدرد کیا کر رہے ہیں؟ کیا ملک کا وزارت داخلہ ریاست کا اہم عہدہ ہے؟ اگر ہے تو اِس عہدے پر بیٹھا ہوا سرکاری نمائندہ کس حیثیت میں کالعدم تنظیموں کی حمایت کرتا نظر آتا ہے؟ کیا ملک کا دارالحکومت اِس ریاست کا اہم ترین علاقہ ہے؟ اگر ہے تو اِسی دارالحکومت کے وسط میں مولوی عبد العزیز بیٹھا کیا کررہا ہے؟ ایسے بہت سے سوال ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح ریاست ہی کے کسی اہم حصے سے ہے۔

فوج ریاست کا حصہ ہے، فوج ریاست نہیں ہے۔ سیاہ چین گلیشئیرز سے لے کر تھر کے صحراوں تک اپنی ڈیوٹی دینے والا فوجی ہر پاکستانی کے سر کا تاج ہے لیکن اِسی فوج کی سابق یا حاضر قیادت کے کسی اقدام پر اگر سوال اُٹھایا جاتا ہے تو نہ ہی یہ ریاست دشمنی ہے اور نہ فوج دشمنی۔ چاہے وہ بعز از ریٹائرمنٹ کسی متنازعہ اسلامی فوج کی سربراہی کا معاملہ ہو اور یا زمینوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ۔

میرے خیال میں ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کرنا چاہئے کہ ریاست مخالف بیانیہ ہوتا کیا ہے، وہ حدود و قیود ہیں کیا جنہیں کراس کرنا کوئی ریاست گوارہ نہیں کرتی؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس بیانئے کو ہم ریاست مخالف سمجھتے ہوں، وہ ریاست کے چند غلط فیصلوں پر پرخلوص تنقید ہو۔ جن حدود و قیود کو کراس کرنا ہم ریاست دشمنی سمجھتے ہوں، درحقیقت وہ ایک تشویش کا اظہار ہو کہ آخر ریاست کی حدود و قیود میں اِن متنازعہ و انسان دشمنوں کو تحفظ کیوں؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*