منٹو اور جبری گمشدہ بلاگرز

آج دل چاہا کے منٹو کی برسی پر کچھ لکھا جاۓ پر کچھ لوگوں کو قلم کی نوک زیادہ چھبتی ہے تو بھائی! ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک منٹو تھا.وہ کہتا تھا زندگی ایک “آہ” ہے جو “واہ” میں لپیٹ کر پیش کی گئی ہے.تو آجکل کچھ خاندانوں کی آہوں پر میڈیا واہ واہ کر رہا ہے. بات ہے “مسنگ بلاگرز ” کی. سوری ! بات ہے منٹو کی. کہتا تھا “اگر اپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے میں تہذیب اور تمدن کی چولی کیا اتاروں جو ہے ہی ننگی!! میں اسےکپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا اسلئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا کام ہے

اب معاشرے پر نظر دوڑائیں مولانا قوی کی قندیل بلوچ والی واردات،مولانا اشرفی کتنی دفعہ پی کر بہکے ؟ شراب نہیں شہد.. الله زندگی دے مولانا کو کچھ چھوڑ بھی دیں .لوگوں کو بوند بوند ترسا دیں گے. حافظ سعید دندنا رہا ہے.لدھیانوی اور اورنگزیب فاروقی ریلیاں نکال رہے ہیں. کوئی روک ٹوک نہیں.عزیر بلوچ ؟چھوٹو گینگ ؟.خرم زکی کے قاتلوں کا کیا ہوا؟ سنا ہے لوگ بہت تھے جنازے میں لکن جب معلوم ہوا رافضی ہے تو اپ کو پتا ہی ہےلوگ ریس

ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﺗُﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺎﺩُﻭ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ
ﻓﯿﺾ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﭩﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﺮ

بلاگرز کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے یا غائب لڑ دینا چاہیے انکے فولّورز بھی اتنے ہی مجرم ہیں وہ کب “غیبت” میں جائیں گے. ویسے جو لوگ “غیبت” پہ یقین نہیں رکھتے اب انکو یقین ہو جانا چاہیے کہ “غائب” وجود رکھتے ہیں بس نظر نہیں آتے.
رہا سوال “عالم آف لائن” کا تو زندہ دل آدمی ہیں.موڈ میں ہوتے ہیں تو فحش لطیفے ٹی وی پر ہی سنا دیتے ہیں ہنسا دیتے ہیں.عالم آف لائن تحریف قرآن کی بات کرتے ہیں حج سے جو واپسی پر اردو ترجمے والا قرآن ہدیہ کیا جاتا ہے اسکا اردو ترجمہ تاج کمپنی سے الگ ہے اور لوگوں کو پتا نہیں.بعض جگہ تو صرف اردو نکتوں کی تحریف ہے چند نکتوں اور اعراب کا فرق ہے تو کیا اسے تحریف کہا جائے

(سوره احزاب) اسپر اپکا کیا خیال ہے؟ یا جانے انجانے میں آپکی “لیاقت” کو بھی ریال چپک گۓ.اگر “رجل”ہو تو سعودی اردو تحریف پر بات کرنا ورنہ یہی سمجھیں گے کہ

تھوڑا مومن تھوڑا منافق ہوں
میں بھی ماحول کے مطابق ہیں
کچھ زیادہ لکھ گیا

ایسا نہ ہو میں بھی بلاگرز کی طرح غائب ہو جاؤں
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ غائب
ﺗُﻮ ﺑﮭﯽ غائب

ﻭﺍﺭﺙ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﮨﯿﺮ ﺑﮭﯽ غائب
ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﺑﮭﯽ غائب
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ غائب
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ غائب
ﮐﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﮭﯽ غائب
ﺟﻮ ﯾﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ غائب
ﺟﻮ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ غائب
ﻓﯿﺾ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﭩﻮ ﺑﮭﯽ غائب

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*