سلمان حیدر: استعارے کی گمشدگی – عامر حسینی

پاکستان میں ایسے ادیب اور شاعر اب بہت کم ہیں جو ظلم،جبر ، دہشت اور فاشزم کے خلاف بذات خود ایک استعارے کی سی حثیت رکھتے ہوں اور دربار و سرکار سے بھی اتنے ہی فاصلے پہ رہتے ہوں جتنی ان کی شاعری یا ان کا نثری ادب نظر آتا ہو۔سلمان حیدر ایسے ہی شاعر اور ادیب ہیں۔مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ میں ان کے دوستوں میں کبھی شامل نہیں رہا ہوں اور ایک واقعے کی وجہ سے میں نے ہی ان کو بلاک کردیا تھا اپنی فیس بک وال سے۔

مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں شاعر ، ادیب ، ڈرامہ نگار اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور ایک نہایت روشن خیال استاد سے دور ہوں یا ان کی تخلیق کا منکر ہوں۔میں شاعر سلمان حیدر کا زبردست مداح ہوں اور ان کی نظموں سے انسپائریشن لیتا ہوں۔مجھے ان کی جبری گمشدگی کی اطلاع تھوڑی دیر پہلے ہی ملی ہے اور مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے پاکستان میں مذہبی اور قومی جبر کے خلاف ایک طاقتور استعارے کو جبری طور پہ گمشدہ کردیا گیا ہو۔

مرے پاس زاتی طور پہ سلمان حیدر کے بارے میں بیان کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن ذہن میں ان کے جبری طور پہ گمشدہ ہوجانے پہ طرح طرح کے خیالات حملہ آور ہیں۔اسلام آباد میں سلمان حیدر ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور یہ یونیورسٹی پاکستان کی مڈل کلاس پس منظر سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی یونیورسٹی ہے اور ایک خوشحال معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس کی یہ یونیورسٹی ہے۔سوشل میڈیا پہ بھی سلمان حیدر کی فالوئنگ پاکستان کی پروفیشنل مڈل کلاس کے نوجوانوں میں زیادہ ہے۔سلمان حیدر اس مڈل کلاس کے اندر ایک ایسے ڈسکورس کے ساتھ موجود ہیں جو پاکستانی ریاست کے طاقتور اداروں کے ڈسکورس اور بیانیہ سے براہ راست ٹکر میں آتا ہے۔

وہ پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس میں بلوچستان پہ ایک ایسے بیانیہ کو پروان چڑھاتے آرہے ہیں جو ہمارے انتہائی طاقتور اداروں کے لئے سخت ناپسندیدہ ہے۔وہ بلوچ قوم کے نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں پہ بہت کھل کر بول رہے تھے اور ایسی نظمیں لکھتے آرہے تھے کہ جو نوجوان لڑکے، لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔اور یہ ایک نظم ریاستی اداروں کے اس کنٹرول کو غیر موثر بنانے کا سبب بن رہی ہیں جس کے لئے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ترقی کے نام پہ جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں،بڑے پیمانے پہ بلوچ آبادیوں ميں فوجی آپریشن،بلوچستان کی قومی تحریک کو کچلنے کے لئے جہادیوں اور تکفیریوں کی پراکسی اور جہادیوں و تکفیریوں کے سوشل ویلفیر نیٹ ورک کے ڈراموں کو رد کرنا اور اس کی مذمت میں نظمیں لکھنا اور اپنے حلقہ اثر کو اس گے خلاف جدوجہد پہ اکسانا بہت ہی خطرناک کام ہے۔

اس پہ آبپارہ میں بیٹھنے والے، جی ایچ کیو میں براجمان اور اسلام آباد کے اندر کئی علاقوں میں ان کی پراکسیوں کی آمجگاہوں میں براجمان ہونے والے ہرگز خوش تو نہیں ہوں گے۔ان ے بغل میں بیٹھ کر ایک آدمی ریاست کی بربریت اور ننگے جبر کے خلاف شاعری کا ہتھیار استعمال کررہا ہو اور پھر وہ اپنے کہے ہوئے شبدوں کے مطابق اپنے عمل کو بھی ڈھال رہا ہو اور رات کی تاریکی میں اکادمی ادبیات سے ،وفاق سے اور کسی صوبے سے کسی صاحب اختیار سے کوئی تمغہ یا اعزاز لینے کی سازش بھی نہ کررہا ہو۔چوتیا پرشاد جعلی بلکہ کمرشل ترقی پسندوں یا لبرلز کی طرح کسی مجسم شیطان کو لبرل گاڈ بھی نہ بنارہا ہو۔اور کسی ریال شریف کی خاکی کے پیچھے چھپے ہوئے خادم آل سعود کو بھی پہچان رہا ہو اور “شکریہ ” کے گیت لکھنے سے باز رہے تو ایسے دانشور کی آزادی سے راتوں کی نیند حرام ہوجانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔

بلوچ نوجوانوں کو غائب کرنے کا جادو رکھنے والے سامری اتنے خو‌فزدہ ہیں کہ وہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم میں جانے والے پروفیسر ظفر حسن عارف کے آزاد پھرنے سے لرز جاتے ہیں اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ تعزیرات پاکستان کی کونسی دفعہ کے تحت اس بوڑھے پروفیسر پہ مقدمہ بنائیں تو پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس جیسے ایک انتہائی شرمناک کالے قانون کے تحت گرفتار کرتے ہیں۔چھے ماہ گزرتے ہیں تو پھر اسی قانون کے تحت پکڑلیتے ہیں۔

حالانکہ بیچارے استاد ظفر عارف صاحب اب 80ء کی دہائی والے استاد نہیں ہیں جو پاکستان میں جاگیرداروں، جرنیلوں، سرمایہ داروں، مذہبی ملائیت اور سامراج کے ملغوبے سے بنی ریاست کو ڈھاکر سوشلسٹ انقلاب کے زریعے سے محنت کشوں کی ریاست کا قیام چاہتے ہوں۔بلکہ وہ کیا چاہتے ہیں اس بارے شاید وہ خود بھی نہ بتاسکتے ہوں اور ایم کیو ایم میں کیوں شامل ہوگئے ہیں؟ اس اقدام کا دفاع کرنے کا حوصلہ بھی نہ ہو لیکن ہمارے ڈرے ہوئے خاکیوں کا کیا کیجئے وہ ظفر عارف کو آج بھی 80ء ميں تیار ہونے والی ایجنسیوں کی فائلوں کے زریعے سے جانچنے کی کوشش کررہے ہیں اور ظفر عارف کے انقلابی بھوت سے ڈرے ہوئے ہیں۔استاد جی کہا کرتے تھے ” بیلٹ کے نیچے ضرب لگاؤ” ۔

اب وہ جنبش بھی کرسکتے ہیں کہ نہیں مجھے اس میں شک ہے۔کیونکہ اگر میں کسی مظاہرے میں شریک ہوں اور وہاں پہ لاٹھی چارج شروع ہوجائے اور پکڑدھکڑ شروع ہو تو شاید میں پٹنا اور پکڑا جانا پسند کروں گا ،کیونکہ چند سو قدم بھاگنے سے سینہ دھونکنی کی طرح چلنے لگے گا اور میں اس کیفیت سے سخت نفرت کرنے لگا ہوں اور ماضی میں تو جلدی سے کسی کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔

ایسے میں یہ جوان رعنا سلمان حیدر اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ اور اپنی نوجوان، پھرتیلی نظموں کے ساتھ مصروف عمل رہا ہے اور آج جب اسے جبری گم ہوئے دوسری رات ہونے والی ہے تو جولائی میں اس کی لکھی ایک نظم کو پر لگ گئے ہیں اور اتنی تیزی سے یہ نظم سفر کررہی ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ نظم “قزاق کون ” پمفلٹ کی طرح گھر گھر پہنچ جائے گی اور اور ریاست کا جبری گمشدگیوں کو چھپانے کے لئے ترقی کا ڈسکورس اور ترقی کے پروپیگںڈے کی عمارت دھڑام سے گرجائے گی۔

ابھی میرے دوستوں کے دوست لاپتہ ہو رہے ہیں
پهر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
یا وہ تصویر جسے میرا بیٹا صحافی کے کہنے پر چومے گا
یا وہ چپ جو میری بیوی پہنے گی
یا وہ بڑبڑاہٹ جو میری ماں تصویر پر پھونکنے سے پہلے گنگنائے گی
یا وہ عدد جس سے میں کسی قید خانے میں پکارا جاؤں گا
پھر مرے ذہن میں یہ خیال بھی آتا ہو کہ سلمان حیدر کا اغواء کرنے والے وہ ہوں گے جن کی تکفیر سے بھری مقدس دستار پہ سلمان حیدر نے اپنی نظموں کے پتھر پھینکنے کا کام شروع کررکھا تھا۔وہ ایک نظم جس نے تکفیر کے علم برداروں کو بے توقیر کرنے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی تھی اس نظم کو بے نظم کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہو۔ویسے خاکی اور ان کی جہادی و تکفیری پراکسیاں کہاں اکٹھی ہوجاتی ہیں کچھ پتا نہیں چلتا۔

اب مجھے نہیں پتا کہ جبر، ظلم کے خلاف گوشت پوست سے احتجاجی استعارے میں بدل جانے والا سلمان حیدر ایجنسیوں کے کسی سیف ہاؤس میں پڑا ہوا ہے یا کسی پراکسی کے غار میں قید ہے؟ہم مظلوموں کو اپنے استعارے کی گمشدگی پہ آسمان سر پہ اٹھالینا چاہئیے اور اس کی بازیابی ہر صورت کرانے کی جدوجہد کرنی چاہئیے اور ساتھ ساتھ اس کی نظموں کو اور زیادہ پھیلانا چاہئیے۔ہمیں بلوچ ، سندھی ، پشتونوں کی جبری گمشدگیوں پہ اور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں ترقی کے ڈھول کا پول زیادہ آوازوں کے ساتھ کھولنے کی ضرورت ہے۔اتنی آوازیں کہ جبری کمشدگیوں کے لئے ریاست اور اس کی پراکسیوں کے پاس سیف ہاؤس اور غاریں ختم ہوجائیں۔ہمیں اپنی نظموں کو صفحوں سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ صاحبان نظم اتنے ہوں کہ قید کرنے کا آپشن ہی ختم ہوجائے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں کچھ زیادہ ہی امید پرست واقع ہورہا ہوں۔اگر مری امید پرستی خام ہے تو پھر جبری گمشدگیوں میں مجھ سمیت کچھ اور آوازوں کے اضافے کے لئے ذہنی طور پہ تیار ہوجائيں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*