اداریہ: فرقہ وارنہ جنگ نہیں، تکفیری فاشزم مسئلہ ہے

15037113_10211362100196598_6776917242301935750_n

نوٹ: کراچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کو شیعہ نسل کشی کو دھندلانے کے لئے فرقہ وارانہ جنگ یا شیعہ-سنّی جنگ بناکر پیش کیا جارہا ہے-اور یہ بھی کہا گیا کہ کچھ لوگ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں-ادارہ تعمیر پاکستان سمجھتا ہے کہ کراچی میں شیعہ نسل کشی کی منظم مہم تکفیری دیوبندی گروپ کررہا ہے اور اور یہی گروپ پاکستان کے دیگر حصّوں میں بھی ایسی ہی صورت حال فوقتا فوقتا پیدا کرتا رہتا ہے-

اسے فرقہ وارانہ جنگ میں بدلنا تکفیری دیوبندی تنطیم اہلسنت والجماعت کا پرانا خواب تو کہا جاسکتا ہے لیکن شیعہ اور سنّی آبادی کی اکثریت اسے رد کرتی ہے-ہم ریاست کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ غلط قسم کے مفروضوں کو ہوا دینے کی بجائے، اصل مسئلے پہ غور کرے-تکفیری دیوبندی ازم ایک کینسر ہے-

اور اس ناسور کو جب تک جڑ سے اکھاڑا نہیں جائے گا شیعہ نسل کشی کا سلسلہ نہیں رکے گا-شیعہ نسل کشی اور دیگر مذہبی برادریوں پہ ہونے والے حملوں کے پیچھے تکفیری فاشزم ہے اور اس فاشزم کی سب سے بڑی علامت اے ایس ڈبلیو جے ہے-ہمیں خوشی ہے کہ پاکستانی پریس کا ایک حصّہ اب مذہبی جنونیت، شیعہ نسل کشی،سنّی بریلوی ، کرسچن ، اہلحدیث ، احمدی اور اعتدال پسند دیوبندیوں پہ ہونے والے حملوں کے پیچھے تکفیری فاشزم کی سب سے بڑی علامت کا نام درج کرنا شروع ہوگیا ہے، ڈان میڈیا گروپ کے انگریزی ماہنامے ” ہیرالڈ” کی نومبر 2016ء کے ادارئے میں اس کا برملا اعتراف موجود ہے-اداریہ نگار نے لکھا ہے

“ And when we look at the wreckage left by murderous destruction by terrorism, often we find the existing or former activists of these very groups being responsible for it.Everyone who is anyone in Lashakar-e-Jhangvi,or Lashkar-e-Jhangvi Al-Alami,has at one stagebeen associated with Spiah-e-SahabaPakistan and,by extention,with its reincarnation, Ahl-e-Sunnat Wal Jammat,which was the main participant in the gathering at the capital.(Age Of Apathy –Editorial Herald Nov,2016,p12)

منروا طاہر نے اس حوالے سے بہت ہی فکر انگیز نوٹ لکھا ہے-جس کا ہم اردو میں خلاصہ شایع کررہے ہیں-

کراچی کی موجودہ صورت حال محض ایک مہمل صورت حال ہے-یہ دو انتہائی متضاد چیزوں کو ” غیر جانبداری ” کے نام پہ انتہائی مضحکہ خیزی کے ساتھ پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے-ریاست اپنے تئیں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اس مظہر میں جسے یہ ” فرقہ وارنہ جنگ ” کہتی ہے اور یہ ہمیں ایک ایسی تصویر دکھانے کی کوشش کرتی ہے جس میں دو حریف فرقے ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہیں

فرقہ وارانہ جنگ کو ایک حقیقت بناکر پیش کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ سنّی شیعہ نسل کشی کے ردعمل میں مارے جاتے ہیں-اس طرح کی دلیل میں ایک بڑا نقص موجود ہے-جمعہ کو اہلسنت والجماعت-اے ایس ڈبلیو جے-کے لوگ مارے گئے جو کہ نہ صرف شیعہ کو مارنے کی قائل ہے بلکہ ان اہلسنت کو بھی مارتی ہے جو شیعہ کو کافر نہیں کہتے-

جیسے ہی محرم شروع ہوہ، کم از کم شیعہ کمیونٹی کے آٹھ لوگ مارے گئے-7 اکتوبر کو سید جواد رضوی پہ گلشن اقبال کراچی میں موٹرسائیکل پہ سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی ، وہ 11 اکتوبر کو مارا گیا-منصور زیدی پہ دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی جب وہ اپنے گھر کے باہر ایک مجلس سے آکر رکے ہی تھے اور وہ اس واقعے میں جاں بحق ہوگئے-17 اکتوبر کو در عباس امام بارگاہ کراچی پہ بم پھینکے جانے کے واقعہ میں 13 سالہ فراز حسین جاں بحق ہوا-سید زکی عباس اور تین اس کے بھانجے باقر ، ناصر اور نئیر اپنے ڈرائیور ندیم کے ساتھ 29 اکتوبر کو ناظم آباد کراچی میں ایک گھر میں ہونے والی مجلس کے باہر فائرنگ سے جاں بحق ہوئے-نومبر کے پہلے ہفتے میں سید کامران کاظمی مجلس سے واپسی پہ کار میں آتے ہوئے حملے میں جاں بحق ہوگئے-جبکہ اس دوران بڑا تعداد میں شیعہ عورتیں اور بچے مجلس سے واپسی پہ ہونے والے حملوں میں زخمی بھی ہوئے-

اس کے برعکس، چھے لوگ جمعے کو کراچی میں مارے گئے –دہشت گرد تنظیم اے ایس ڈبلیو جے نے ان کو اپنا کارکن بتایا لیکن بعد میں پتا چلا کہ ان میں سے دو کا تعلق جمعیت علمائے اسلام-فضل الرحمان گروپ اور ایک کا تعلق کسی بھی مذہبی جماعت سے نہ تھا وہ محض امام مسجد تھا

اس منظرنامے میں ، ریاست تمام ٹارگٹ کلرز کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا دعوی کرتی ہے-لیکن حقیقت میں اس کے اٹھائے گئے اقدامات امتیازی تھے-گزشتہ اتوار، سول سوسائٹی نے ناظم آباد کراچی میں مجلس پہ ہوئے حملے کے خلاف احتجاج کیا، جس کو گزرے مشکل سے پانچ گھنٹے ہوئے تھے کہ ایک کالعدم، تکفیری دہشت گرد تنظیم اے ایس ڈبلیو جے نے گرومندر پہ ریلی نکال دی-جبکہ منگل کے روز ہم آئی جی سندھ سے ملے تھے اور ہم نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اے ایس ڈبلیو جے کی جانب سے شیعہ کمیونٹی کو کافر قرار دینے کے نعرے سمیت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے پہ کاروائی کریں اور ان کے خلاف بھی کاروائی ہو جنھوں نے ایک کالعدم تنظیم کو ریلی نکالنے کی اجازت دی-ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ دو سے تین دن میں یہ کاروائی کی جائے گی اگر ثبوت فراہم کردئے جائیں تو-ہم نے پولیس سے تعاون کیا اور ثبوت فراہم کئے-لیکن ایسی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی

اس دوران سابق سینٹر فیصل رضا عابدی ، علامہ مرزا یوسف حسین کو ایک کالعدم تنظیم کے مطالبے پہ گرفتار کیا گیا-اور ان گرفتاریوں پہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے-اور ملیر پندرہ پہ احتجاجی دھرنے پہ آنسو گیس شیلنگ، فائرنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا اور درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا-عورتوں تک پہ بہیمانہ تشدد ہوا اور پولیس نے شیعہ اکثریتی آبادی کی کالونیوں پہ یلغار کی

کیا یہ بلاامتیاز کاروائی ہے ؟

اہلسنت والجماعت کا سربراہ اورنگ زیب فاروقی، جس کی متعدد نفرت انگیز تقاریر یو ٹیوب پہ موجود ہیں ، بلکہ اس جماعت کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر اس حوالے سے بدنام ہے، وہ سید خرم زکی قتل کیس ميں نامزد ہے- اب تک اسے گرفتار نہیں کیا گیا-اور پانچ ماہ قبل ایک جنازے پہ کی گئی تقریر پہ مرزا یوسف حسین دھرلئے گئے

شیعہ کمیونٹی کی مذہبی تنظیمیں اور گروپ کونسی اس ملک میں کسی حریف فرقے یا مسلک کو کافر قرار دینے اور ان کے قتل پہ اکسانے والے اقدامات کررہی ہیں اور اس ملک کے اندر گلیوں اور محلوں میں کونسی جنگ شیعہ اور سنّی کے درمیان جاری ہے؟جبکہ اہلسنت والجماعت نامی تنظیم پورے ملک کے اندر آزادی سے شیعہ کافر مہم چلارہی ہے اور ان کے خلاف دہشت گردی پہ اکسایا جارہا ہے-اور یہ تنظیم کالعدم ہونے کے باوجود ریلیاں اور جلسے کرتی ہے

ریاست کو یا تو بلا امتیاز کاروائی کے دعوے بند کردینے ہوں گے یا اس کو اے ایس ڈبلیو جے کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی-اب میں پھر اس مضحکہ خیز سوال کی طرف واپس آتی ہوں کہ آخر اسے ” سیکٹرین وار ” یا فرقہ وارانہ جنگ کیوں کہا جاتا ہے؟کراچی میں اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والی کتنی عورتیں اور بچے آج تک حملوں پہ ہلاک یا زخمی ہوئے؟اور آج تک زیادہ اہلسنت والجماعت کے لوگوں کا قتل خود ان کے اندر کی حریفانہ باہمی لڑائی کی وجہ سے ہوتی ہے-شیعہ مسلسل لاشیں اٹھارہے ہیں ، ان کی نسل کشی کی جارہی ہے

مختصر طور پہ کہا جائے تو یہ علمی دیانت کے خلاف بات ہے کہ اسے فرقہ وارانہ جنگ کہا جائے اور اپنے آپ کو غیر جانبدار دکھانے کی اسے دلیل بنایا جائے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*