عالمی تنہائی یا مکمل تباہی؟

13873234_1635423006748384_1703249370936366682_n

کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردی کا شکار ہوا،بیگناہ پولیس اہلکار جو ایک اچھے مسقتبل کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے پولیس میں شامل ہوئے تھے اس کو دہشت گردوں نے ایک بھیانک تعبیر سے بدل دیا۔سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ وطن عزیز آخر دہشت گردی کا کیوں شکار ہے؟اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور ہماری ریاست،سرکاری ایجینسیاں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟
کسی بھی ریاست کا کام ملک کی عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔قانون نافذ کرنے والوں کی اولین ترجیح ملک کے عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ ہوتا ہے لیکن اس ریاست میں تو ایسا لگتا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام عوام کی نہیں بلکہ وی آئی پی شخصیات کے جان و مال کا تحفظ ہے اور عوام کے خون کی ان کے نزدیک اہمیت اب چند لاکھ روپے ہیں،شاید اسی لیئے حکومت کچھ لاکھ روپے دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو دے دیتی ہے۔
دراصل ریاست کے کرتا دھرتا کبھی دہشت گردی کے خاتمے کو کبھی سنجیدہ لیتے ہی نہیں ہیں۔کس کو نہیں معلوم کہ اس ملک میں دہشت گردی میں کالعدم فرقہ پرست اور جہادی تنظیموں کا ہاتھ ہے لیکن ہم کو ہر دہشت گردی میں پھر بھی بیرونی ہاتھ نظر آتا ہے۔ریاست کو تو یہ چاہیئے تھا کہ دہشت گرد کالعدم تنظیموں،فرقہ پرست جماعتوں اور جہادی تنظیموں کا مکمل خاتمہ کرتی اور ان کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرتی لیکن بدقسمتی سے حکومت میں شامل کچھ لوگ،مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما ان دہشت گردوں کے لیئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
کس کو معلوم نہیں کہ طالبان کے ہاتھ بیگناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔اس ملک کے وزیر داخلہ کا یہ حال ہے کہ طالبان کے لیڈر حکیم الله محسود کی ہلاکت پر غصے میں آگئے۔وہ حکیم الله محسود کی ہلاکت کو امن کا قتل کہہ رہے تھے۔جی ہاں یہ وہی حکیم الله محسود تھا جس کے ہاتھ ہزاروں بیگناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے اس کی ہلاکت پر تو وزیر داخلہ کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیئے تھا لیکن الٹا وہ شدید غصے میں نظر آئے۔یہ وہی چوہدری نثار ہیں جو کالعدم تنظیم کے لوگوں سے نہ صرف ملاقات کرتے ہیں بلکہ وہ ان کو اسلام آباد جلسے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔جس ملک کا وزیر داخلہ دہشت گرد تنظیم کے سربراہ جس پر پابندی لگی ہوئی ہے سے ملاقات کرتا ہو وہاں کی حکومت دہشت گردی کو ختم کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے آپ خود اندازہ لگالیں۔
پاکستان کے ایک اور سیاسی رہنما عمران خان تو باقاعدہ طالبان کے دلال بن چکے ہیں۔یہ وہی عمران خان ہے جو طالبان کے رہنما ولی الرحمن کے قتل پر غصے سے پاگل ہوگئے تھے اور کہا کہ ایک پرامن لیڈر کو قتل کردیا گیا۔واہ کیا کہنے عمران خان کہ جو طالبان ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتل ہیں وہ عمران خان کے نزدیک پرامن ہیں۔جبکہ الطاف حسین جس نے طالبان دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھائی وہ ان کے نزدیک دہشت گرد ہے۔واضح رہے یہ عمران خان ہی ہیں جن کے کہنے پر طالبان پیدا کرنے والے مدرسے  حقانیہ اکوڑہ خٹک کو 300 ملین روپے کی خطیر رقم سالانہ اخراجات کی مد میں فراہم کی جارہی ہے،یہ وہی مدرسہ ہے جہاں بینظیر کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔
حقیقت بات یہ ہے کہ ہماری ریاست نے عبدالسلام جیسے عظیم سائنس دانوں کو تو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا لیکن وہیں اس نے جہادی،فرقہ پرست اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی سرپرستی کی۔ان جہادیوں نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی تباہ برباد کیا،ہماری ریاست نے ملک  میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی فصلیں اگائیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈالا۔  عوام کومذہبی انتہا پسندی کی افیم کھلائی۔
 انتہاپسندی، دہشت گردی کی طرف مائل کرنے والا تعلیمی و تربیتی نیٹ ورک پورے ملک میں محفوظ ہے.ہماری ریاست نے افغانی جہاد سے بے روزگار ہونے کے بعد کشمیر اور ہندوستان میں خود ساختہ مقدس روائتیں بنا کرغزوہ ہند  کروانے کے لئے جیش محمد،جماعت الدعوٰی اور حزب المجاہدین جیسی تنظیموں کی سرپرستی کی۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہماری ایجینسیوں ںے مسعود اظہر جیسے دہشت گرد کو چھڑانے کے لیئے جہاز ہائی جیک کیا۔

آپریشن ضرب عضب صرف ان دہشت گردوں کے خلاف ہوا جو ہماری فوج کے کنٹرول سے باہر نکل گئے تھے۔ورنہ جو قابو میں ہیں ان کا شمار آج بھی گڈ طالبان میں ہوتا ہے،وہ آج دفاع پاکستان کونسل کی شکل میں جمع ہیں،کھلے عام جلسے جلوس کررہے ہیں۔
کیا دفاع پاکستان کونسل کا اسلام آباد میں کھلے عام جلسہ کرنا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ ریاست خود ان دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے؟دفاع پاکستان کونسل جو در اصل اتحاد قاتلین شیعہ ہے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی  کے پالے ہوۓ جہادی فرقہ وارانہ برین واشڈ  دہشت گرد ہیں جو بیگناہ انسانوں کو ان کے مسلک اور مذہب کی بنیاد پر قتل کررہے ہیں اور ہمارے خفیہ ادارے جو اپنی جہادی سرگرمیوں کی آڑ میں اندھے ہو چکے ہیں وہ ان شیعوں کے قتل عام کرنے والوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔
 جن انتہا پسند، تشدد پسند مدرسوں میں شیعہ کافر کی تعلیم دی جاتی ہے اور برین واشڈ قاتل تیار کے جاتے ہیں ان کو مالی، سیاسی اور جہادی امداد کون دیتا ہے
 
آج بھی ایسے مدارس موجود ہیں جہاں انتہا پسندی اور تشدد پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔آج بھی ایسے مدرسے موجود ہیں جہاں برین واش قاتل تیار کیئے جاتے ہیں۔جس کی واضح مثال شکارپور میں خود کش بمبار کا پکڑا جانا اور اس کا تعلق مدرسے سے نکلنا ہے۔بدقسمتی سے آج بھی ان مدارس کو مالی،سیاسی اور جہادی امداد ملتی ہے۔کراچی کی مثال لیں تو رینجرز نے کراچی کی نمائندہ جماعت پر کھال جمع کرنے اور فطرہ جمع کرنے پر مکمل پابندی عائد کررکھی تھی لیکن کالعدم فرقہ پرست اور جہادی تنظیمیں کھلے عام مساجد کے باہر  رینجرز کے سامنے چندہ جمع کررہی تھیں۔کیا ایک منتخب سیاسی جماعت پر پابندی لگاکر کالعدم جہادی تنظیموں کو چندہ اور کھالیں جمع کرنے کی مکمل چھوٹ دینا اس بات کی نشان دہی نہیں کرتا کہ ریاست اب بھی ان جہادی تنظیموں کی سرپرستی کررہی ہے۔

سپاہ صحابہ، جیش محمد، جنداللہ وغیرہ ان جماعتوں کے پیچھے امریکہ یا بھارت نہیں  بلکہ پاکستان کی خفیہ ایجینسی کا ہاتھ ہے جو ان جماعتوں کے ذریعہ سے افغانستان ، انڈیا وغیرہ میں اپنے جہادی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
درحقیقت گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں ان انتہاپسندوں کی مسلسل آبیاری کی گئی ان لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کیا گیا اور ان میں سے جولوگ قابو سے باہر ہوگئے وہ بیڈ طالبان کی فہرست میں چلے گئے جبکہ اچھے طالبان آج بھی گڈلسٹ میں شامل ہیں اور ان کو آج بھی خفیہ ہاتھوں کی سرپرستی ایسے ہی حاصل ہے جیسی ضیاء الحق مرحوم کے دور میں تھی۔حقیقت میں تحقیقاتی رپورٹیں اس بات کی گواہ ہیں ان تظیموں سے لوگ نکل کر بیڈ طالبان میں گئے ہیں کیوں کہ ایک بار جب ان کی ذہن سازی کردی جاتی ہے تو وہ پھر ان کو قابو میں رکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں جماعت اسلامی کی،پاکستان میں کون نہیں جانتا کہ اس ملک میں دہشت گردی کی کاروائی میں جماعت اسلامی کے لوگ بھی ملوث ہیں،ڈینئل پرل کے قاتل اور القاعدہ کے دیگربڑے بڑے دہشت گرد جماعت اسلامی والوں کے گھروں سے گرفتار ہوئے لیکن آج تک جماعت اسلامی کے دفترپرچھاپہ نہیں ماراگیا۔ سانحہ صفورامیں اسماعیلیوں کاقتل کرنے والے دہشت گردوں کا تعلق بھی اسلامی جمعیت طلبہ سے نکلا۔جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے تو یہ تک کہا تھا کہ طالبان شہید ہیں اور پاکستانی فوجی شہید نہیں لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی آزاد ہے اور نہ تو اس کے دفاتر بند ہوئے اور نہ اس کے خلاف کوئی ایکشن ہوا جبکہ ایم کیوایم جیسی لبرل اور سیکولر جماعت کے دفاتر مسمار کردیئے گئے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔اب بات کرتے ہیں لال مسجد اسلام آباد کی جس کے مولوی عبدل عزیز آج بھی اپنے مدرسے میں معصوم طلباء کو جہاد کے لیئے برین واش کررہے ہیں جس کا ثبوت لال مسجد پر بنی ہوئی  ڈاکومینٹری

Among the Believers


(واضح رہے پاکستان میں لال مسجد کے خلاف بننے والی یہ ڈاکومینٹری پر پابندی عائد ہے) ہے جس میں واضح طور پر دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح مولوی عبدل عزیز معصوم طلباء کا برین واش کررہے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مولوی عبدل عزیز آج بھی وفاقی دارالحکومت میں داعش کو کھلے عام دعوت دے رہے ہیں اور معصوم طلباء کو نام نہاد جہاد کی طرف مائل کررہے ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکہتے ہیں کہ ہم لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔جہاں تک ایف آئی آرکاتعلق ہے توایم کیوایم کے ارکان اسمبلی اور سول سوسائٹی کی جانب سے مولاناعبدالعزیزکے خلاف ایف آئی آردرج کرائی جاچکی ہے۔

مولاناعبدالعزیزداعش کی حمایت کرتے ہیں جبکہ لال مسجد کی طالبات کی وڈیوسامنے آچکی ہے جس میں وہ داعش کے سربراہ کی بیعت کررہی ہیں۔ پرویزمشرف کے زمانے میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے اسلام آباد کی چلڈرن لائبریری پر قبضہ کیا، مولانا عبدالعزیزنے خودکش حملوں کے دھمکی آمیزاعلانات کئے ،وہاں سے پولیس پرحملے ہوئے۔ جب اس وقت کی حکومت نے لال مسجد پرایکشن کیاتو باقاعدہ مسلح لڑائی ہوئی جس میں پولیس اہلکاروں اورآرمی کے کمانڈوز تک کو شہیدکیاگیا۔طالبان دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے ڈیڑھ سو بچوں اوراساتذہ کوبیدردی سے شہیدکیا تومولاناعبدالعزیزنے اس دہشت گردی کوجائز قراردیا۔ اس کے باوجود چوہدری نثار کہتے ہیں کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔
ایم کیوایم کے رہنما حسن ظفر عارف کو تو بغیر کسی ایف آئی آر کے گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ لال مسجد کا خطیب واضح طور پر دہشت گردی کی تعلیم دے جب بھی اس کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ہمارے رہنما عوام کو بیوقوف بناتے ہیں کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے جبکہ اس دہشت گردی میں پاکستان کی وہ چند ‘مصنوعات ملوث ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن ہے
لشکرجھنگوی، لشکرجھنگوی العالمی، جنداللہ، جند الحفصہ، ایشیئن ٹائیگرز، لشکر طبیہ، لال مسجد۔  جیسی دہشت گرد اور جہادی تنظیموں کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔پاکستانی ریاست کو اس وقت اپنے پالے ہوئے دہشت گردوں سے ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔
سیرل المائڈہ کی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ اپنے پالے ہوئے جہادیوں کے خلاف کاروائی کی جائے ورنہ عالمی تنہائی کا شکار ہونے کے لیئے تیار ہوجاؤ،جبکہ میں یہ کہوں گا تمام دہشت گردوں،نام نہاد جہادیوں کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاتخصیص کاروائی کی جائے ورنہ اس ملک کی مکمل تباہی کے لیئے تیار ہوجائیں۔ جب تک مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم دینے والے مدرسوں اور عناصر کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی۔جب تک ملک سے فرقہ پرست اور جہادی تنظیموں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا  ملک سے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔اگر اب بھی خفیہ طاقتوں نے ان جہادیوں،کالعدم تنظیموں کی سرپرستی بند نہیں کی تو شاید ہمارے ملک کا حال شام سے بھی بدتر ہو۔اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیئے جائیں اور سیکولر سیاسی جماعتوں کے خلاف آپریشن بند کرکے ملک بھر میں حقیقی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے
ورنہ ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں ًًٰٰمیں
Source:

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*