سید خرم زکی: مظلوموں کا میثم تمار یا لارنس آف عربیا

after-khurram-zaki-s-killing-i-fear-for-anyone-who-dares-to-speak-out-in-pakistan-1462907704-1995-768x431

سید خرم زکی کی زندگی میں شیعہ نسل کشی سمیت انسانی حقوق کی پامالی پہ ان کے بلند آہنگ احتجاج اور پاکستان میں تکفیری فاشزم کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں اور ہمدردوں کے چہرے بے نقاب کرنے کی ان کی انتھک کمپئن سے ان کے گرد جمع ہونے والی جمعیت اور ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے اس ملک کے دہشت گردوں کے ساتھی اور مددگار ہی پریشان ہوکر ان کی کردار کشی کی مہم نہیں چلارہے تھے بلکہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری ایسے لوگ بھی کئے بیٹھے تھے جنھوں نے خود کو مظلوم شیعہ کمیونٹی کی قیادت کرنے کا واحد حقدار خیال کیا ہوا تھا-یہ سلسلہ ان کی ناگہانی المناک شہادت کے بعد بھی نہین تھما اور اس میں اور زیادہ تیزی آگئی-

سید خرم زکی کی زندگی کے آخری دنوں کا سب سے بڑا کارنامہ اور ہمت یہ تھی کہ انہوں نے دہشت گردوں کی سب سے بڑی نظریہ ساز فیکٹریوں پہ براہ راست انگلی اٹھانا شروع کردی تھی اور وہ پاکستانی ریاست کے منتخت اور غیر منتخب مقتدر حلقوں کے سامنے یہ سوال اٹھانے میں سب سے آگے ہوگئے تھے کہ اگر وہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو وہ ان فیکٹریوں کو بند کرنے کے لئے کوئی فیصلہ کن قدم کیوں نہیں اٹھاتے جہاں یہ فکری اور علمی حوالوں سے دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے-

سید خرم زکی نے کراچی سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور کراچی میں ان کا فوکس تکفیری دیوبندی کالعدم تنطیم اہلسنت والجماعت/ سپاہ صحابہ پاکستان تھی جوکہ شیعہ نسل کشی کے حوالے سے سب سے آگے تنظیم ہے-وہ سندھ حکومت ، وفاقی وزرات داخلہ ، جی ایچ کیو ، سندھ رینجرز سب سے یہ سوال پوچھنے میں لگے ہوئے تھے کہ ایک کالعدم تنظیم کیسے کراچی سمیت ملک بھر میں شیعہ مخالف سرگرمیاں کررہی ہے؟ انہوں نے اس حوالے سے ایک دھرنا بھی منظم کیا اور خرم زکی نے ہی دارالعلوم بنوریہ سمیت کراچی میں کئی ایک تکفیری مدرسوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف ریاست کی کاروائی نہ ہونے پہ سوال اٹھائے-

انھوں نے اندرون سندھ تکفیری فاشزم کے بڑھنے پہ اپنی تشویش کا برملا اظہار کیا-سید خرم زکی نے زندگی کے آخری دنوں میں اسلام آباد جاکر مولوی عبدالعزیز اور لال مسجد بریگیڈ کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا-انہوں نے پولیس رپورٹ سے لیکر عدالتوں میں رٹ دائر کرنے تک کا کام سرانجام دیا-اور ساتھ ساتھ انہوں نے اسلام آباد کے عین مرکز مین بیٹھ کر فرقہ وارانہ تشدد اور آگ کو بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف مولوی عبدالعزیز اور لال بریگیڈ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور سید خرم زکی کے اس اقدام نے یقینی بات ہے دشمنوں کو تو بوکھلا ہی دیا تھا ، ساتھ ہی اس نے آستین کے سانپوں کو بھی بے چین کردیا تھا-

ان کی زندگی میں آستین کے سانپ جبران ناصر نے ان کو ڈسا ، روشنی ٹائپ ہرکاروں نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا،ان کی موت کے بعد جعلی قائد انقلاب جواد نقوی جیسوں کے پیروکار دو مونہے سانپ ان کی کردار کشی کرکے اپنے کالے کرتوت چھپانے کی کوشش کررہے ہیں-بہت دور کی کوڑی لائی گئی ہے- سید خرم زکی کو ان کی موت کے بعد اسٹبلشمنٹ کا جاسوس اعظم قرار دیا جارہا ہے، “رسم یزیدی ” کی پوسٹ پڑھئے اور آپ کو ایسے لگے گا جیسے سید خرم زکی ایک سچا ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نہیں بلکہ اس پردے ميں لارنس آف عربیا تھا جسے خاص مشن کے ساتھ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے ڈپیوٹ کیا تھا-

ان کو پاکستان آرمی ميں خرم زکی کا رینک بھی پتا لگ گیا – اسے کرنل بتایا گیا ہے-اس پوسٹ کو پڑھنے کے دوران آپ کو ایسے لگے گا جیسے سید خرم زکی کو اس کام پہ معمور کیا گیا تھا کہ وہ شیعہ کمیونٹی کی نظر افغانستان کے طالبان سے ہٹائے اور پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی نظر میں جو اچھے طالبان ہیں ان کے بارے میں محاذ نہ بننے دے اور برے طالبان کی توجہ بھی وہ پاکستان آرمی سے ہٹاکر شیعہ کمیونٹی کی طرف لگائے رکھے-سب سے بڑا جھوٹ یہ بولا گیا کہ مولوی عبدالعزيز اور لال مسجد کا بریگیڈ شیعہ کمیونٹی کی جانب جیسے متوجہ نہیں تھا بلکہ یہ توجہ تو سید خرم زکی کی مولوی برقعہ کے خلاف کمپئن چلائے جانے کے بعد ہوئی-

اور اسی طرح سے رمضان مینگل اور مفتی نعیم اینڈ کمپنی بارے بھی یہی خیال ظاہر کیا گیا-لال مسجد کا مولوی عبداللہ ، مولوی عبدالعزیز کا والد سپاہ صحابہ پاکستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے تکفیری مولوی ٹولے کا سرکردہ رکن تھا اور جامعہ بنوریہ کا سپاہ صحابہ پاکستان ، جیش محمد ، حرکۃ الانصار ، طالبان سے رشتہ و تعلق کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے اور یہ ان چند بڑے اداروں اور ناموں میں سے ہیں جن کے سبب شیعہ کی منظم نسل کشی کا راستہ ہموار ہوا-خرم زکی مسلم لیگ نواز اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے حمائت یافتہ مولویوں کا مخالف تھا اور وہ ان کو بے نقاب کررہا تھا ، خرم زکی کی زندگی کا یہی پہلو “رسم یزیدی ” کی نظر میں اسٹبلشمنٹ کے ایجنٹ ہونے کی نشانی ہے اور اگر اسٹبلشمنٹ کے جاسوس کا ٹائٹل تکفیری ملائیت کی مخالفت سے ملتا ہے جس کو منتخب و غیر منتخب مقتدر طاقتوں کی حمائت حاصل تو ایسے ٹائٹل کو ہم فخر سے قبول کرتے ہیں

سید خرم زکی اگر اسٹبلشمنٹ کے ڈپیوٹ کردہ مشن پہ شیعہ کمیونٹی کے اندر گھس پیٹھ کررہے تھے تو اسٹبلشمنٹ کے اس مفروضہ لارنس آف عربیا کے قتل کیس کی فائل 6 ماہ کے عرصے میں ہی کلوز کیوں کردی گئی ؟اور سید خرم زکی کے قتل کیس پہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کیوں نہ بنائی گئی ؟سید خرم زکی ایل یو بی پی کے ایڈیٹر تھے اور یہ بلاگ جس قدر تنقید اچھے ، برے طالبان کی تقسیم پہ کرتا آیا ہے اور کررہا ہے اور اس بلاگ پہ سید خرم زکی کے دور ادارت میں جنرل کیانی کے تکفیری دیوبندی قیادت کے ساتھ رشتوں پہ جو تنقید ہوتی رہی اس کے کیا معانی بنیں گۓ؟

سید خرم زکی تزویراتی گہرائی کو اور کسی بھی قسم کی جہادی پراکسی کو جاری رہنے کے سب سے بڑے مخالف تھے اور کیا اسٹبلشمنٹ کا ڈپیوٹ کیا جانے والا کرنل ایسے بلاگ کے ساتھ چل سکتا ہے؟خرم زکی کی لاش کو گدھوں کی طرح نوچنے کی کوششیں تھمی نہیں ہیں اور یہ آئندہ بھی جاری رہیں گی لیکن کیا ایسی کوششوں سے سید خرم زکی بے گناہ شہادت کے بعد ان کی فکری میراث کو تباہ و برباد کیا جاسکے گا، ہرگز نہیں ۔۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*