وہابی ازم : امن عالم کے لئے خطرہ بنی آئیڈیالوجی


ruba-ali 

وہابی ازم ( جنوبی ایشیاء میں سعودی فنڈڈ نیودیوبندی ازم بھی ) کے بارے میں میں ابتداء سے یہ لکھ رہا ہوں کہ یہ ہماری جنوبی ایشیائی ثقافت اور اس کی تہذیبی رںگا رنگی کے لئے بہت سنگین خطرہ بن چکا ہے-اور اسے سعودی-ایران چوکھٹے میں رکھ کر دیکھنے سے اس آئیڈیالوجی سے پیدا خطرات اور اس کی ہلاکت آفرینی کا اندازہ لگایا جانا مشکل ہے-لیکن وہابی ازم کی جہاں عالمی سطح پہ رسائی بہت طاقتور ہے ایسے ہی اس کی پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی اثر انداز ہونے والے میڈیا تک رسائی بھی بہت زبردست ہے-اس لئے جب کبھی اس موضوع پہ بات کی جاتی ہے تو فوری آپ کو زبردستی ایرانی کیمپ میں دھکیل دیا جاتا ہے اور ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے کہ وہابیت بارے ڈسکس کرنا ہمارے سماجی-سیاسی تناظر میں فضول اور بے کار سی چیز ہے اور یہ ہمارے معاشرے کے لئے کوئی چیلنچ نہیں ہے-

پاکستان کے دائیں بازو کے صحافی ، تجزیہ نگار ، دانشور جن کی اکثریت یا تو دیوبندی /سلفی پس منظر رکھتی ہے یا وہ وہابیت کے زیر اثر آچکی ہے “وہابیت ” کو سرے سے کوئی خطرہ مانتی ہی نہیں ہے-لیکن اس میں سب سے زیادہ معذرت خواہانہ بلکہ مجرمانہ نکتہ نظر مین سٹریم میڈیا کے ان سیکولر ، لبرل ، لیفٹ دانشوروں کا ہے جو ” وہابیت ” کو بطور ” عالمی و علاقائی ” خطرے کے طور پہ لینے کی بجائے زیادہ تر اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ گی “جہادی پراکسی ” اور تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے فریم ورک میں دیکھتے ہیں-اور زیادہ کریں تو اسے ” سعودی بمقابلہ ایرانی ” فریم ورک کے اندر جاکر دیکھتے ہیں-ان کا خیال یہ ہے ہمارے معاشرے میں جتنا بھی وہابی تشدد ، دہشت گردی ، شیعہ ٹارگٹ کلنگ ، کرسچن ، احمدی ، صوفی سنّیوں پہ ہونے والے حملے ہیں ان سب کی جڑ اور بنیاد صرف و صرف ملٹری اسٹبلشمنٹ کی “جہادی پراکسیز ” ہیں –

وہ ” وہابی ازم ” کو ایک “عالمی توسیع پسندانہ پروجیکٹ ” کے طور پہ دیکھنے سے قاصر ہیں-اور یہی وجہ ہے جب پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی شروعات ہوئی تو یہ ” شیعہ ” شناخت لکھنے کو بھی فرقہ پرستی قرار دے ڈالتے تھے-اور اگر وہابیت کے سب سے طاقتور مظہر ” تکفیری دیوبندی ازم ” کا نام لیا جاتا تو یہ اور طیش میں آجاتے تھے-اگرچہ اب کیونکہ مغرب میں بھی ان شبدوں کا استعمال رواج پکڑ رہا ہے تو کبھی کبھی یہ بھی شبد استعمال کرتے ہیں-وہابی ازم ایک عالمی خطرہ ہے جیسی حقیقت کو بیان کرنے والے کئی ایک آرٹیکل گزشتہ ایک ہفتے میں سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک آرٹیکل روبی علی الحسینی کا بھی ہے-جس کے کئی پیراگراف میں اپنے اس مضمون کے آخر میں دینے جارہا ہوں

روبی علی الحسینی عراقی نژاد ہیں –وہ کینڈا میں مقیم ہیں-انہوں نے ایک ماسٹر ڈگری کرمنالوجی میں اور دوسری لاء میں حاصل کی ہوئی ہے-اور کینڈا ہی سے وہ اوسگوڈے ہال لاء اسکول سے پی ایچ ڈی کررہی ہیں-انہوں نے سوشیالوجی اور کرمنالوجی کی تدریس بھی کی ہے-ان کا نسلیاتی ثقافتی پس منظر عراقی شیعت کا ہے-لیکن وہ جدید فیمنسٹ خیالات کی حامل بھی ہیں-

حال ہی میں ان کا ایک شاندار آرٹیکل ہفنگٹن پوسٹ ویب سائٹ پہ شایع ہوا جس میں انھوں نے “وہابیت ” بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا-اس آرٹیکل میں ان کے کئی ایک خیالات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس آرٹیکل میں مرے خیال کے اندر سب سے طاقتور ان کی تنقید وہابیت کی عرب نسل پرستی والی ہے-اور یہ تنقید ہر طرح سے میرٹ پہ اترتی ہے-انھوں نے اپنے اس آرٹیکل میں ایک بہت ہی اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا کہ ” وہابیت شیعہ کے نسلیاتی و قومی شناختوں کے تنوع اور تکثریت کی نفی کرتے ہوئے ان سب کو “مجوسی ” یا ایرانی شناخت کے ساتھ نتھی کردیتی ہے “-

اور یہ ایک ایسی وبا ہے جسے ہم پوری دنیا میں پھیلتا دیکھ رہے ہیں-ہم پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے اندر دیکھ سکتے ہیں کہ سعودی وہابیت کے ساتھ اشتراک کے بعد دیوبندی ازم کی جانب سے پاکستانی ، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی شیعہ کی نسلیاتی ثقافتی اور قومیتی شناختوں کی نفی کرتے ہوئے ان سب کو فارسی /مجوسی / زرتشتی اور جدید دور کی ایرانی شناخت کے ساتھ نتھی کردیا جاتا ہے-بلکہ اگر آپ علامہ احسان الہی ظہیر کی کتاب ” الشیعہ” اور” البریلویۃ ” کا جائزہ لیں –اور اس کے ساتھ سپاہ صحابہ پاکستان کی تشکیل اور ارتقاء کے ساتھ دیوبندی و اہلحدیث اینٹی شیعہ لٹریچر کا جائزہ لیں تو آپ کو جنوبی ایشیائی شیعہ کے خلاف ویسا ہی “عرب نسل پرستانہ ” برتاؤ ملے گا جیسا ہم عرب وہابی سکالرز اور خطباء وآئمہ کے ہاں پاتے ہیں-

بلکہ سعودی وہابیت کے زیر اثر دیوبندی روایت شیعہ کے ساتھ ساتھ بریلوی یا صوفی سنّی روایت کو بھی اسی نسل پرستانہ شعور کے ساتھ دیکھتی ہے-بلکہ مودودی ازم سے متاثرہ علمی روایت کے ہاں بھی ہم یہی نسل پرستانہ تعصب کارفرما دیکھتے ہیں-روبا علی الحسینی نے اپنے اس مضمون میں اس بات پہ زور دیا ہے کہ “وہابیت”کو “سعودیہ بمقابلہ ایران ” فریم ورک سے ہٹ کر بطور ایک ” ہلاکت خیز اور انسانیت دشمن نظریہ ” کے طور پہ دیکھنے کی ضرورت ہے-

یہ ایک ایسی بات ہے جس کو کم از کم پاکستان کے تناظر میں بہت کم سیکولر ، لبرل اور لیفٹ دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے کہنے اور لکھنے کی کوشش کی ہے-پاکستانی مین سٹریم سیکولر ، لبرل اور لیفٹ سرکل کے اندر زیادہ تر لوگ ” وہابیت ، نیو دیوبندی ازم ” کو بطور ایک آئیڈیالوجی کے ڈسکس کرنے کے دوران ” ایران-سعودی ” فریم ورک کو سامنے رکھتے ہیں اور اس طرح سے وہابی ازم کے متاثرہ گروپوں کی حالت زار سے بھی زیادتی کے مرتکب ٹھہرجاتے ہیں-

ستم بالائے ستم یہ کہ جب ان کی اس فاش غلطی کی جانب توجہ دلائی جآئے تو وہ توجہ دلانے والے کو ایران نواز قرار دینے میں زرا توقف نہیں کرتے-روبی علی الحسنی “وہابیت ” کے تشدد اور دہشت گردی کی متاثرہ بھی ہیں اور ان کا خاندان اس دہشت گرد آئیڈیالوجی کا شکار بھی ہوا ہے-ان کا درد ان کے ان الفاظ میں جھلکتا ہے:

“مجھے ایران-سعودی سیاست میں ملوث ہونے میں زرا دلچسپی نہیں ہے-میں واقعی اس میں دلچسپی نہیں رکھتی-میں عراقی ہوں، نہ کہ ایرانی یا سعودی-میں ایسے شیعہ کے طور پہ بات کرتی ہوں جس نے اپنے خاندان کے کئی لوگ وہابی ازم کے ہاتھوں گنوادئے ہیں جوکہ پوری تاریخ میں کئی دہشت گرد تنطیموں کی پسندیدہ آئیڈیالوجی رہی ہے جیسے طالبان ، القائدہ ، داعش اور باکو حرام-یہ وہابی ازم ہے جس کے سبب مرے انکل اب ہمارے درمیان نہیں جن کو شام-عراق ہائی وے کے درمیان ایک بس سے اتارا گیا اور ان کی شیعہ شناخت کی وجہ سے ان کو داعش نے قتل کردیا-“

“یہ وہابی ازم ہے جس کی وجہ سے مری کزن کو خنجر کے 24 گھاؤ لگائے گئے جبکہ وہ اپنے گھر میں تھی-وہ فرانسیسی زبان میں طاق تھی اور اسے یقین تھا کہ وہ ایک دن پیرس کا سفر کرے گی-اور المیہ یہ ہے کہ فرانس نے اسے آج خوش آمدید نہ کہا ، اور اس کی وجہ وہابی ازم کی عالمی مجرمانہ رسائی ہے –یہ وہابی ازم ہے جس نے اس کی 5 سالہ بیٹی جو اسے بچانے آگے آئی کو بھی گھائل کیا اور ماردیا-یہ وہابی ازم ہے جس نے اس کے دوسالہ بیٹے کو ٹراما کی حالت میں رکھا ہوا ہے اور وہ اپنی ماں کے پیار کو بھی پہچان نہیں پاتا “

“پاکستان ، عراق ، شام ، نائیجیریا اور دوسرے کئی ممالک میں ہزاروں ایسے ہی کیسز ہیں جو سعوودی عرب کی مدد سے بننے والے وہابی اسکولوں اور چلنے والے وہابی پروگراموں کی وجہ سے سامنے آئے ہیں-یہ توسیع پسندانہ ایران میں خمینی کے شیعی ولایت فقیہ پہ مبنی انقلاب کے آنے سے کافی پہلے سے ہی شروع ہوگئی تھی-وہابی ازم اس سے کہیں بڑا علاقائی و عالمی خطرہ ہے جتنا بہت سے تسلیم کرنے کی تکلیف گوارہ کرتے ہیں-وہابیت کو “سعودی بمقابلہ ایران ” فریم ورک میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش صرف وہابیت کے خطرے کی خدمت کرنا ، اس کے لئے عذر فراہم کرنا اور اس کے پھیلاؤ کو جواز فراہم کرنا ہے”

تیرہ ستمبر 1016ء کو ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل ” آئیں دنیا کو وہابی ازم سے

 نجات دلائیں ” لکھا-اس آرٹیکل پہ ملا جلا ردعمل سامنے آیا-بہت سوں نے اس کی حمایت کی اور کچھ نے ایران کے شام میں کردار بارے بات کرتے ہوئے اس کے دوھرے معیارات کی جانب اشارہ کرنے کو ترجیح دی-مرا یہاں سروکار دوسری اپروچ سے ہے: ایران کے شام میں کردار پہ فوکس کرنے سے وہابی ازم جو کہ بیک وقت علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے زیر بحث نہیں آتا-اس فوکس سے اس کی آئیڈیالوجی اور اس سے درپیش خطرات کا تجزیہ بھی نہیں ہوتا-ہمیں وہابی ازم کو “ایران بمقابلہ سعودی عرب ” جیسے محدود فریم ورک میں رکھ کر دیکھنے سے رکنا ہوگا-اور وہابی ازم بطور نظریہ جو ہے اسے اسی طریقے سے دیکھنا ہوگا-

اس بات کے قطع نظر کہ کوئی ایران بارے کیا محسوس کرتا ہے ، وہابی ازم مسلم دنیا اور غیر مسلم دنیا میں امن کے کسی بھی امکان کے لئے بڑا خطرہ ہے-یہ ایک ایسا نظریہ ہے جوکہ اقلیتیوں اور اکثریت سنّی اراکین جو اس کی محالفت کرتے ہیں کے خلاف دہشت گردی کی حمائت کرتا ہے-یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو پہلے دن سے ہی دہشت  کے ساتھ نمودار ہوا ہے-یہ عورت مخالف ، فرقہ پرستانہ ، تکفیری اور متشدد نظریہ ہے-

وہابی ازم ایک ایسا نظریہ ہے جو عورتوں کو ناقص العقل اور احمق بتاتا ہے-یہ عورتزن کو کہتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ مت کریں وگرنہ وہ اپنا کنوار پن کھودیں گی(مجھے ابھی تک اس انتہائی اشتعال انگیز دعوے کے پیچھے کارفرما منطق کو سمجھنا ہے)-ہزاروں عورتیں ہیں جن کی بے حرمتی اس وہابی آئیڈیالوجی کے سبب ہوئی ہے-وہابی ازم عورتوں کو ” جنسی رعیت ” بناکر رکھ دیتا ہے اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کو خود ان سے ہونے والی زیادتی کا ملزم ٹھہراتا ہے-ایسی عورتوں کے شوہروں کو یہ آئیڈیالوجی سکھاتی ہے کہ ایسی عورتیں کسی ہمدردی ، عزت اور باقی معاشرے کی طرح مساوی عزت کی حقدار نہیں ہیں

-بطور عورت اور خصوصی طور پہ ایک مسلم عورت ہونے کے ناطے مجھے یہ آئیڈیالوجی ایک جرم لگتی ہے-اسلام عورتوں کے حقوق کے لحاظ سے ایک انقلابی مذہب تھا-اسلام کے ابتدائی دنوں میں عورتوں کی اپنی شخصیت تھی-وہ مرد کی کبھی ملکیت نہ تھیں-بلکہ وہ اپنی ملیکت رکھتی تھیں،جیسے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا تھیں جو آپ کی آجر بھی تھیں-اور یہ وہ تھیں جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھیجا تھا-جب اسلام کا ظہور ہوا تو اس نے فوری طور پہ شیر خوار لڑکیوں کے دفن کرنے کی روایت پہ پابندی لگادی-وہابی ازم سارے کا سارا محمد علیہ السلام کے فیمنسٹ انقلاب اور بنیادی اصلاحات کو ختم کرتا ہے-

یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ وہابی ازم عورتوں کو نہ صرف یہ کہتا ہے کہ وہ ” نیم انسان ” ہیں بلکہ غیرب عرب کو بھی وہ نیم انسانوں میں شمار کرتا ہے-وہابی ازم عرب عورتوں کو عرب مردوں سے ملنے جلنے سے روکتا ہے کہیں وہ گناہ ميں مبتلاء نہ ہوجائیں جبکہ وہ جنوبی ایشائی مرد ڈرائیوروں کے ساتھ تنہا جانے کی اجازت رکھتی ہیں-اس دوھرے معیار کا سبب یہ خیال ہے کہ جنوبی ایشیائی مرد “مرد” نہیں ہوتے اور کوئی عرب عورت ان کی طرف مائل نہیں ہوسکتی اس لئے گناہ میں مبتلا بھی نہیں ہوسکتی-

وہابی ازم ایک ایسا نظریہ ہے جو کہ کھلم کھلا تکفیری نظریہ ہے-یہ خود کو حقدار سمجھتا ہے کہ کسی کے مسلمان ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرے-وہابیت  کے سب سے مرغوب مرتد/کافر شیعہ ہیں ، جن کے قتل کی ترغیب سرعام خطبوں ، تقریروں میں دی جاتی ہے-صرف ایک ہفتہ پہلے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے ایرانی رہنماؤں ، عوام اور شیعہ کو بالعموم غیر مسلم قرار دے ڈالا-اس نے ان کو زرتشتوں کی باقیات کہا-ایسے تو سعودی عرب کے مقامی عرب بت پرستوں کی باقیات کہلائیں گے جبکہ زرتشت کے ماننے والے تو موحد تھے-

میں وہابیت میں نسل پرستی کی ایک اور مثال کی نشاندہی کرنا چاہتی ہوں-سارے شیعہ کو زرتشتی و فارسی قرار دیتے ہوئے وہابی وہ ان کے عرب اور شیعہ کے دوسرے قومیتی پس منظر -جنوب ایشیائی ، افریقی ، یورپی ، انڈویشین ،

فرسٹ نیشنز وغیرہ –ان کی نسلیاتی ثقافتی اور قومی شناختوں کا انکار کرتے ہیں-یہ ان سب کو ایک قومیت ، ایک نسل اور ایک ہی طرح کی وفاداری کے احساس کے ساتھ نتھی کرتا ہے- جمہوریہ ایران کے ساتھ-ایسا کرنے سے وہابی عرب نسل پرستوں کو عراقی ، بحرینی ، لبنانی اور دوسرے شیعہ عرب کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ یہ شیعہ عرب حب الوطنی اور اپنے ممالک سے وفاداری کی زرخیز تاریخ کے حامل ہیں خاص طور پہ کالونیل دور حکمرانی میں-عرب نسل پرست جوکہ وہابیت کے وارث ہیں “مجوس ” کی اصطلاح یا زرتشتی کی اصطلاح کو ایک حقارت اور زلت کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ ایرانیوں کو کم تر خیال کرتے ہیں

شیعہ کے خلاف نسل پرست ، عورت مخالف اور فرقہ پرست ہونے کے علاوہ وہابیت مطلق طور پہ بھی سراپا نفرت ہے-عوامی خطبات میں وہابی مولوی شیعہ ، کرسچن اور یہودیوں کو بر بھلا کہتے ہیں-یہ خطبے آڈیو ، ویڈیو صورت میں ریکارڈ ہیں-شیعہ زیادہ نفرت کا نشانہ بنے ہیں-اس بات کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ وہابی شیعہ کو غیر مسلم سمجھتے ہیں ، جبکہ وہ کرسچن اور یہودیوں سے اپنی نفرت کی قرآنی تائیڈ نہیں پاتے کیونکہ قرآن صاف صاف کرسچن ، مینڈین اور یہودیوں کو اہل کتاب قرار دیتا ہے-توحید پرست جن کا بنیادی عقیدہ (توحید ) ایک ہی ہے-

یہ بات قابل غور ہے کہ اپنی ساری زندگی ،پیغمبر حضرت محمد علیہ السلام نے کھل کر “نسل پرستی ” کے خلاف لڑائی لڑی-انہوں نے پرجوش ہوکر مشرقی –افریقی غلاموں کو خریدا اور ان کو آزاد کیا-حذرت بلال الحبشی کو انہوں نے موزن بناکر سماجی طور پہ بلند کیا-ایک دوسرے معززتناظر میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعض عرب ساتھوں کی جانب سے حضرت سلمان کو حقارت سے ” فارسی ” کہے جانے کا نوٹس لیا-اور نسل پرستی کو سرے سے رد کرتے ہوئے کہا کہ “سلمان ہمارے خاندان سے ہے “اور ان کو اپنے بھائی کا درجہ دیکر بلند کردیا-

نسل پرستی کے خلاف جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ حضرت محمد علیہ السلام نے میثاق مدینہ کی بعد از ہجرت توثیق کی-اس معاہدے میں انہوں نے مدینہ کے سب شہریوں کے مساوی حقوق تسلیم کئے-مسلم ، کرسچن یا دوسرے ، سب کے برابر کے حقوق کا تحفظ قانون اور اللہ کے نزدیک تسلیم کیا گیا-یہ بات مجھے رنجیدہ کردیتی ہے کہ وہابی ازم محمد علیہ السلام کے سماجی انصاف اور نسل پرستی کی مخالف اصلاحات کو فوت کرتا ہے

Source:

وہابی ازم : امن عالم کے لئے خطرہ بنی آئیڈیالوجی

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*