پاکستان بھر میں دہائیوں سے جاری شیعہ نسل کشی – عامر حسینی

Shia-Genocide-RPT

ڈیرہ اسماعیل خان سے طاہر عباس نامی ایک شخص کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ کیسے وہاں پہ شیعہ کمیونٹی کی 20 کے قریب دکانیں چار معروف بازاروں میں ٹارگٹ کی گئیں اور 2000 کے قریب دخانوں پہ مشتمل چار بازاروں میں اب کوئی شیعہ دکاندار نہیں ہے

اسی ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ اساتذہ ، ڈاکٹرز ، وکلاء ، مزدور ، مذهبی رہنماء ، سیاسی کارکن ٹارگٹ کیے گئے اور ایک منظم طریقے سے شیعہ کمیونٹی کو مرکزی دهارے سے نکال باہر کیا گیا مجهے نہیں معلوم کے کسی تنظیم یا گروپ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی اس بڑی سماجی گهٹنا پہ کوئی مربوط تحقیق کی یا نہیں لیکن مجهے یہ ضرور معلوم ہے اس حوالے سے ہمارے مین سٹریم میڈیا ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ضرور کیا ہے اور انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کمیونٹی کی مارجنلائزیشن کے عمل پہ کوئی بڑا ردعمل نہیں دیا ، کراچی کے اندر بهی شیعہ کمیونٹی کے خلاف بڑے منظم طریقے سے کام کیا گیا ، ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ مخلوط آبافیوں سے نکل کر اپنے گهیٹوز میں بند ہوں ، اپنی شناخت کو ہر ممکن طریقے سے چهپائیں ، ڈاکٹرز ، بزنس مین ، استاد ، بینکرز ، مزدور ، سیلز مین ، سیلز آفیسر ، سرکاری ملازم ، مذهبی رہنماء سب ہی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکهنے والے شیعہ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ‘غدار ، ایرانی ایجنٹ ‘ اسلام دشمن ‘ کے طور پہ پیش کیے جانے کا سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ یہ ایک منظم کمپئن بن گئی ہے

شیعہ کمیونٹی کو مرکزی دهارے سے باہر کرنے ، ان کو زهنی و جسمانی طور پہ ایک محاصرہ زدہ کمیونٹی بنائے جانے اور ان کی نسل کشی کیے جانے کی یہ مہم باقاعدہ طور پہ دیوبندی مکتبہ فکر سے اٹهنے والی تنظیم انجمن سپاہ صحابہ پاکستان نے شروع کی اور یہ تنظیم جوکہ جهنگ جیسے ایک مضافاتی علاقے سے اٹهی تهی اور ابتداء میں اس تنظیم کا کیڈر دیوبندی دیہی پس منظر رکهنے والی پرتوں سے تعلق رکهتا تها بتدریج اس کی سماجی طبقاتی بنیادوں میں تبدیلی کا عمل بهی شروع ہوگیا اور یہ تنظیم بڑی تیزی کے ساته پاکستان کے اربن سنٹرز شہری مراکز میں بهی اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے لگ گئی اور اس تنظیم نے صرف یہی نہیں کیا کہ اس نے بڑی تعداد میں کارکن پیدا کیے بلکہ اس تنظیم کے خیالات و افکار سے متاثرہ لوگ دوسری سیاسی جماعتوں کے اندر بهی پیدا ہوگئے -سپاہ صحابہ پاکستان کی ‘شیعہ مخالف تکفیری فسطائیت ‘پہ مبنی سوچ اور رحجان نے ایک طرف تو خود دیوبند کی سب سے بڑی مین سٹریم سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سب دهڑوں کے اندر نفوز کیا تو دوسری طرف اس سوچ نے جماعت اسلامی ، جمعیت اہلحدیث ، تنظیم اسلامی کے اندر بهی اپنی جڑیں مضبوط کیں ، ایسے ہی سنٹر رائٹ پارٹی مسلم لیگ نواز ، مسلم لیگ ق میں بهی اس تنظیم کے روابط اور لابی نے جنم لیا ، بلکہ سیکولر سنٹر لیفٹ اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کے اندر بهی اس تنظیم کی فکر نے جگہ بنائی ، جبکہ اس اینٹی شیعہ فسطائی فکر نے پاکستانی ریاست کے اداروں فوج ، پولیس ، خفیہ ایجنسیوں ، وفاقی و صوبائی محکموں ، سرکاری جامعات و کالجز و اسکول تک میں اپنی حمائت کو پیدا کیا ، یہ اسی طرح کی فسطائی مخالفانہ تکفیری سوچ تهی جیسی ہم نے ‘احمدی ‘ کمیونٹی کے خلاف دیکهی

اگر دیکها جائے تو صاف نظر آجاتا ہے کہ سپاہ صحابہ پاکستان /اہلسنت والجماعت کی تکفیری فسطائیت کی سماجی بنیادیں بہت ہی گہری ہیں اور اس نے پاکستانی معاشرے کے تمام شعبہ ہائےزندگی کو اپنے گهیرے میں لیا ہوا ہے اور ہماری ریاست ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا مجموعی رویہ اس ‘تکفیری فسطائیت ‘ کی جانب مصلحت پسندانہ ہے اور اس کے خلاف وی تاحال کوئی بڑی سماجی مزاحمتی تحریک کی بنیاد نہیں ڈال سکیں ہیں

میں نے ‘ The Path to Nazi Genocide’

نامی اس فلم کو دیکها جس میں نازیوں کی جانب سے یہودیوں اور دیگر کی نسل کشی تک آنے والے پروسس کا ایک مربوط جائزہ پیش کیاگیا اس میں ایڈولف هٹلر کے نازی ازم کو ریاستی سطح پہ نافذ کرنے کے لیے میسر آنے کی ایک وجہ یہ بهی بتائی گئی ہے کہ سنٹر رائٹ کی پارٹیوں نے نازی پارٹی کےساته اتحاد کیا اور اسے شریک اقتدار کیا اور اس وقت ان کا خیال تها کہ وہ هٹلر کو کنٹرول کرلیں گےلیکن ایسا نہ ہوسکا اور بات یہودیوں اور جہموریت پسند لوگوں کی نسل کشی تک جاپہنچی ، ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں نے انتخابی سیاست میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے اپنی آئیڈیالوجی اور اپنے آدرش و اصولوں کو تیاگ کر سہاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت / پاکستان راہ حق پارٹی سے سیٹ ایڈجسمنٹ کی اور یہ سلسلہ 1993ء میں بے نظیر بهٹو کی حکومت کے زمانے میں پنجاب کے اندر انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کے ممبر صوبائی اسمبلی شیخ حاکم علی کو پارلیمانی سیکرٹری بناکر کیا گیا اور پهر مسلم لیگ نواز نے پنجاب و خیبرپختون خوا میں ، پی پی پی نے پنجاب ، سنده ، گلگت بلتستان میں اور کراچی میں اور اسی طرح اے این پی نے کراچی ، گلگت بلتستان ، خیبرپختون خوا میں کئی جگہوں پہ اس جماعت کے ساته اشتراک کیا ، پاکستان کی عسکری ہئیت مقتدرہ نے انجمن سپاہ صحابہ کی مدد سے جیش محمد ، حرکتہ المجاہدین کی تشکیل میں مددلی اور اپنی جہادی پراکسی کے ایک بڑے حصے میں تکفیری فرقہ پرست عناصر کو گهسنے اور جگہ بنانے اور ان کے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک القائدہ ، علاقائی نیٹ ورک طالبان کے ساته روابط بنانے کا موقعہ فراہم کیا ، سعودی فنڈنگ اور سعودی اشیر باد نے اس تنظیم کے پاکستانی ریاستی اداروں اور مین سٹریم میڈیا کے اندر ہمدرد ، سرپرست ، ڈونرز ، پالیسی ساز کیڈر کو پیدا کرنے میں مدد دی اور اس سارے سلسلے کے ساته ساته مڈل ایسٹ کی مخصوص صورت حال ، خود جنوبی ایشیا کی جیو پالیٹکس ان سب نے ملکر ‘تکفیری فاشزم ‘ کومضبوط کیا ہے اور اس کا سب سے بڑا ہدف نہ صرف شیعہ ہیں بلکہ ہر وہ گروہ ، مکتبہ فکر اور ہر وہ شخص ہے جو ‘شیعہ ‘ کی گهیٹوائزیشن کے خلاف ہے

شیعہ نسل کشی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے اور تکفیری فاشزم کی سماجی بنیادیں پاکستانی سماج کے اندر بہت دور تک پهیلی ہوئی ہیں -یہ دو نکات ایسے ہیں جس پہ ابهی تک ہمارے معاشرے کی انٹیلی جینٹیسیا دل سے یقین کرنے کو تیار نہیں ہے اور دیکها جائے تو وہ اسے زندگی و موت کا معاملہ خیال ہی نہیں کرتی- لبنان میں سنٹر رائٹ کی سعودی نواز سیاسی پارٹیوں نے جب حزب اللہ کو گرانے کے لیے ‘تکفیری فسطائیت ‘ کو اپنا معاون فلسفہ خیال کرلیا تو ان کا خیال تها کہ وہ تکفیریوں کو کنٹرول کرلیں گے لیکن وہ ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے اور تکفیری فاشزم اب لبنانی سماج میں ادارے کی شکل اختیار کرگیا ہے ، پاکستان میں بهی تکفیری فاشزم ایک ادارہ بن چکا ہے جس کے پاس اپنا ایک باقاعدہ ڈسکورس ہے اور اس نے پاکستانی ہر ایک سماجی ادارے کواپنے نشانے پہ رکها ہوا ہے -ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو تکفیری فاشزم کی جڑوں کو اس طرح سے دیکهنے کی صلاحیت رکهتے ہیں ؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*