شام: سیدہ زینب کےمزار کے قریب دھماکے، ہلاکتوں میں اضافہ

13406769_10154237880179561_8028056574241549512_n

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع پیغمبر اسلام کی نواسی سیدہ زینب کے مزار کے قریب ہونے والے بم حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 13عام شہری شامل ہیں جبکہ 30 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق ہلاکتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

اطلاعات کے مطابق سیدہ زینب کے مزار کے قریب ایک خود کش بم حملے کے ساتھ کار بم دھماکہ بھی ہوا ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے ’سانا‘ نے ان حملوں میں ہلاک ہونےوالوں کی تعداد 12 اور زخمیوں کی تعداد 55 بتائی تھی۔ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس کے تین جنگجوؤں نے کیے۔ ان میں سے دو نے خودکش بمبار تھے جبکہ ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی لے کر داخل ہوا۔

خبر رساں ادارے ’سانا‘ کے مطابق سنیچر کو پہلا دھماکہ ایک خود کش بمبار نے کیا جو اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ایک کار بم کا نتیجہ تھا جو مزار سے کچھ فاصلے پر ہوا

زخمیوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی شامل ہے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ مزار شیعہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہاں پر پیغمبر اسلام کی نواسی کی قبر ہے جہاں ہر سال بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان آتے ہیں۔

سیدہ زینب کے مزار کو پہلے بھی شدت پسند گرہوں کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس برس کے اوائل میں مزار کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب خطے بھر سے شعیہ جنگجوؤں کی شام آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان جنگجوؤں کا موقف ہے کہ وہ اس مزار کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے شام آ رہے ہیں۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے شام کی حکومتی افواج کا ساتھ دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

Source:

http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160611_syria_blast_atk

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*