آفشور آنشور اسلامی دھماکہ خیز مواد – معاذ بن محمود

13221447_130096294063157_7456403724703192581_n

اس تحریر کا آغاز ذہن میں آنے والے معصومانہ سوال سے ہوا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بھرپور جوبن کے دور میں بھی کالعدم تنظیموں کو کھلے عام ریلیاں نکالنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر تحفظ بھی فراہم کیا جاتا رہا؟ غداری کا خوف اپنی جگہ لیکن منافقانہ روش اختیار کرنا چونکہ اپنی گھٹی میں شامل نہ تھا لہذا جواب کڑوا ہی صحیح حاصل کر کے اسے اپنی رائے بنانا طے پایا.

یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ سپاہ صحابہ، جیش محمد، لشکر طیبہ وغیرہ جیسی خون گرما دینے والی “نسیم حجازانہ” تحاریک کو ایک فوجی آمر نے عدم سے کالعدم کی جانب روانہ کیا. نتیجتاً ناجائز ہی صحیح مگر اس وقت کے سربراہ مملکت پہ “ایمان افروز قاتلانہ حملہ” بھی واقعہ پذیر ہوا. اس سب کے باوجود بھی ان کالعدم تنظیموں اور ان کے جائز و ناجائز باپوں کو کھلی چھٹی بھلا کس کھاتے میں؟ جواب عرض ہے کہ صاحب یہ تو ہمارے “سٹریٹجیک اسٹیٹس” ہیں جو ہم وقتاً فوقتاً اپنے آفشور و آنشور تجربات کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں.

پاکستان کو مذہبی تجربہ گاہ دیکھنے والے مقتدر حلقوں کا شاید اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں فقط “اسلامی دھماکہ خیز مواد” پہ ہی ریسرچ کرنی ہے. ہم نے اس اسلامی تجربہ گاہ کا استعمال کرتے ہوے کئی آنشور و آفشور خونی تجربے کیے لیکن بدقسمتی سے آج تک کچھ سیکھ نہ سکے. آفشور تجربات کے جامع پلان کے تحت ہماری دلچسپی بنگلہ دیش، ہندوستان، افغانستان اور سری لنکا میں رہی. آنشور تجربات کے ذریعے ہم نے ملک کی تمام موجودہ سیاسی جماعتوں پہ تجربات کر کے کبھی انہیں بچہ جمورا سے سیاستدان اور کبھی سیاستدان سے بچہ جمورا بنانے پہ مجبور کیا. ہمارے باوردی سائنسدانوں نے ان تمام تجربات میں ایک عنصر کا استعمال ہمیشہ یکساں رکھا. یہ عنصر ہے مشہور زمانہ منجن الاسلامی الباکستانی.

1971 میں “ادھر تم ادھر ہم” کا نعرہ لگانے کے باوجود بھی ہم اپنی کوتاہیوں کا نزلہ ہندوستان پہ ڈالنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں. ہم نے اپنی فوج کو پراکسی جماعت اسلامی کی مدد سے مشرقی پاکستان میں کھلی چھٹی دے ڈالی کہ اپنے بوئی ہوئی فصل کاٹنے کے لیے ایک آخری کوشش کی جا سکے. البدر بریگیڈ جماعت اسلامی پاکستان کے سینے پہ لگا تمغہ اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہے. الباكستاني جماعتیے اسے اپنی وطن پرستی کے طور پہ پیش کرتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں 2008 سے پھانسی پہ چڑھنے والے حضرات ان الزامات سے انکار کرتے رہے. ہم نے اپنے اسلامی منجن کے تجربے کرتے ہوے شیخ مجیب کے قتل اور اس کے بعد ایک بار پھر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا. ایک منتخب سربراہ حکومت کے قتل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آمریت کو ہم نے سرکاری سطح پہ قبول کیا. ہم نے یہ کیوں نہ سوچا کہ بنگلہ دیش کی عوام نے اسی مجیب الرحمن کو ہمارے ہی منعقد کردہ الیکشن میں منتخب کیا تھا. کیونکر ہم نے ایک آزاد ملک کی عوامی امنگوں کا گلہ گھونٹنے کو سرکاری سطح پر قبول کیا؟ مشرف کی طرح جنرل ضیاء الرحمن کی آمریت نے جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں پھر سے پنپنے دیا. ہمیں اسلام پھیلانے کے لیے ہمیشہ آمروں اور تلواروں کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مقتول لیڈران کی تصویر لگانے والے الباكستاني مومنین میں سے اکثریت شاید جانتی ہی نہیں کہ اس جماعت کا جنگی جرائم میں ملوث ہونے پہ ٹرائل موجودہ بنگلہ حکومت کے انتخابی منشور کا ایک اہم حصہ تھا. وہ تو آپ کے حکمرانوں کے برخلاف محض اپنا کیا ہوا وعدہ نبھا رہی ہے. لوگوں نے اسی وعدے کی بنا پہ انہیں ووٹ دیے. بنگلہ دیش ہمارا زرخرید غلام نہ اچھے دور میں تھا نہ آج ہے پھر ہم کس بنیاد پہ ان سے تعلقات خراب کریں وہ بھی فقط جماعت اسلامی پاکستان کی خوشی کی خاطر؟ ہماری الباكستاني جماعت کو اپنے سیاسی فائدے یا پوائینٹ سکورنگ کے وقت ہی اسلام کیوں یاد آتا ہے؟ کبھی پشاور میں خان صاحب کے جلسے میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ اسلام یاد آیا؟ کبھی صوبے بھر میں موجود سودی سودے بازی پہ اسلامی حمیت کو زک پہنچی؟ کبھی مردان میں خودکش حملوں کے بعد اسلام یاد آیا؟

سنیے صاحب.. یہ سب اقتدار کی ہوس اور سیاست کے کھیل ہیں. جماعت اسلامی دنیا میں چاہے کہیں بھی ہو فقط جذبات اسلامی کا منجن بیچ کے گزارا کرنے پہ مجبور ہو چکی ہے. جس دن باوردی سائینسدان اپنی توجہ آفشور و آنشور دھماکہ خیز مواد سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے وہ دن جماعت اسلامی کی سیاسی موت کا دن ہو گا. تب تک آپ اپنے خالہ زاد و چچا زاد کالعدم سٹریٹجیک اسیٹس کے ساتھ دین و دنیا کے مزے لینا جاری رکھیے. وما علینا الا البلاغ

Source:

http://archereye.com/%D8%A2%D9%81%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D9%86%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AF%DA%BE%D9%85%D8%A7%DA%A9%DB%81-%D8%AE%DB%8C%D8%B2-%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%B9%D8%A7/#LUg3oGt28cVmTrM4.99

Comments

comments