لدھیانوی نے سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے نیٹ ورک کو قائم رکھنے میں مدد دی ہے – ڈاکٹر عائشہ صدیقہ رپورٹ – بی بی سی اردو

13221088_1756870107919068_7579840016315416253_n

رپورٹ – بی بی سی اردو

جنوبی پنجاب پر دیوبندی عسکریت پسندی کا غلبہ ہے۔ اس وقت وہاں جیشِ محمد سب سے نمایاں تنظیم ہے جو دوسری دیوبندی تنظیموں کی طرح سپاہِ صحابہ کی نظریاتی اور تنظیمی کوکھ سے پھوٹی ہے۔

سنہ 2000 میں جیشِ محمد کی جزوی فنڈنگ اسامہ بن لادن کیا کرتے تھے جنھوں نے کراچی میں دیوبندی جہادی مولوی فضل الرحمان خلیل کے زیرِ اہتمام چلنے والے حرکت المجاہدین کے مدرسوں کے حصص خرید لیے تھے۔

2000 میں اظہر مسعود کو انڈین ایئر کی پرواز 182 کے اغوا کے بعد قندہار میں مسافروں کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا۔ اظہر اس کے بعد پاکستان میں آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور تقریریں کر کے لوگوں کو جہاد پر مائل کرتے رہے۔ (اظہر مسعود کا کالعدم سپاہ صحابہ کے اعظم طارق سے قریبی تعلق تھا اور کراچی کے دیوبندی مدرسے بنوری ٹاؤن سے تعلیم حاصل کی)

مسعود اظہر بہاولپور میں اپنی تنظیم کے مرکز میں ہی قیام پذیر ہیں

جیشِ محمد کے مددگاروں اور ارکان کی زیادہ تعداد پنجابیوں پر مشتمل تھی، خاص طور پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں پر، جو ماضی میں حرکت المجاہدین کا حصہ تھے۔
انٹیلیجنس ایجنسیاں روایتی طور پر ان دھڑوں کو تقسیم کر کے اور نئے دھڑے تخلیق کر کے عسکریت پسندی کی دنیا پر اپنی گرفت مضبوط رکھتی رہی ہیں۔

2000 میں حرکت المجاہدین کی گوشمالی ضروری تھی کیونکہ پشتون اکثریتی حرکت المجاہدین نے شیعہ اور سنی بریلوی کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد سے باز رہنے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم مولانا اظہر نے شیعوں اور سنی بریلویوں کی قتل و غارت عارضی طور پر معطل کر کے کشمیر اور انڈیا پر توجہ مرکوز کرنے پر رضامندی اختیار کر لی۔

اس طرح جیش انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث تھی، جبکہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل لشکرِ طیبہ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ مسعود اظہر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کشمیر میں واقع جہاد کونسل کا مشترکہ فیصلہ تھا۔

جیشِ محمد 2000 کے عشرے کے وسط میں خاصے تلاطم کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں اس کے بعض ارکان نے الگ ہو کر الفرقان نامی تنظیم بنا لی تاہم ان سب کے باوجود جیش ایک ایسی منظم تنظیم کے روپ میں ڈھل گئی جو ریاست کے ساتھ مل کر کام کرتی تھی۔

اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ الفرقان نے مالی معاملات کی بنا پر جیش سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور یہ کہ مسعود اظہر نے جہاد کی رقوم اپنے ذاتی استعمال کے لیے خردبرد کی تھیں۔

اصل بات یہ کہ ہے کہ اس کے بعد کے برسوں میں جیشِ محمد نے خاصا بڑا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس کا ’مرکزِ عثمان و علی‘ نامی ہیڈکوارٹر بہاولپور کے وسط میں واقع ہے۔ اس سے کچھ ہی دور لاہور کراچی ہائی وے پر 15 ایکڑ کا ایک نیا مدرسہ زیرِ تعمیر ہے جس کا خرچ جیش نہیں اٹھا رہی۔

دوسری طرف چولستان کے موج گڑھ قلعے کے علاوہ قریبی چک 48 میں بھی ایک مدرسہ قائم ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پٹھان کوٹ حملے میں حصہ لینے والوں کی تربیت چولستان میں ہوئی تھی۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مقامی باشندے بہاولپور اور چولستان کے درمیان سڑکوں پر بندوق برداروں سے بھری ڈبل کیبن گاڑیاں آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ میڈیا چاہے جو کہے لیکن جیش کے اہلکار آپ کو بتائیں گے کہ حکومت ان کی تنظیم پر انحصار کرتی ہے۔

یہاں جیش سب سے واضح دیوبندی مسلح تنظیم کے روپ میں ابھر کر سامنے آئی ہے لیکن اسی علاقے میں سپاہِ صحابہ پاکستان اور اس کی ساتھی تنظیم لشکرِ جھنگوی بھی مصروفِ عمل ہیں۔

درحقیقت سپاہِ صحابہ دیوبندی عسکریت پسندی کی ماں کہی جا سکتی ہے۔ یہ ایرانِ انقلاب کے بعد شیعوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کی خاطر 1984 میں بنائی گئی تھی لیکن اس کے تشدد کا نشانہ سنی بریلوی، احمدی اور مسیحی بھی بنے

مثلاً 1985 میں جنرل ضیا کی حکومت ملک کی شیعہ آبادی کی جانب سے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کی وجہ سے تشویش میں مبتلا تھی، جب کہ گلگت اور بلتستان کے شیعوں نے سکولوں میں اپنا نصاب پڑھانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔

حکومت نے جھنگ کے باسی دیوبندی مولوی حق نواز جھنگوی کو سپاہِ صحابہ قائم کرنے کے لیے سرپرستی فراہم کی جس نے ابتدا میں تو سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھی، لیکن بعد میں یہ بھی عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو گئی۔ حق نواز جھنگوی نے سب سے پہلا محاز سنی بریلوی کے خلاف کھڑا کیا اور مناظرہ جھنگ میں سنی بریلوی یا صوفی مسلمانوں پر شرک اور کفر کے الزام لگائے لیکن بعد میں ضیاء حکومت کی سرپرستی کی بدولت نفرت کا رخ شیعوں کی طرف زیادہ ہو گیا

سپاہِ صحابہ اور افغان ضلعے کنڑ میں قائم کردہ اس کی ساتھی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی افغان جہاد میں لوگوں کی بھرتی پر مامور ہو گئیں۔ چنانچہ گلبدین حکمت یار، محمد ربانی اور عبدالرؤف سیاف جیسے افغان جنگی سرداروں کے لشکروں کے بعض کمانڈروں کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔

1990 کے اوائل میں سپاہِ صحابہ کا ایک خالصتاً عسکری دھڑا وجود میں آیا جسے لشکرِ جھنگوی کا نام دیا گیا۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اب برے عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہے اور آپریشن ضرب عضب میں اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک اسحاق کے مرنے سے لشکرِ جھنگوی کا خاتمہ ہوا، نہ ہی ریاض بسرا کے قتل سے سپاہِ صحابہ کا شیرازہ بکھر گیا۔ یہ دونوں تنظیمیں جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقے میں سرگرمِ کار ہیں۔

اس کا سیاسی دھڑا اہل سنت والجماعت کے نام سے مولانا احمد لدھیانوی کی قیادت میں کام کر رہا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے قریب ہیں۔

مولانا لدھیانوی نے سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے نیٹ ورک کو قائم رکھنے میں مدد دی ہے، جب کہ زیادہ عسکریت پسندوں نے جیشِ محمد کے جھنڈے تلے پناہ لی ہے۔

لیکن چاہے ریاستی چھتری ہو یا نہ ہو، پنجاب میں دیوبندی عسکریت پسندی کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*