کیا تکفیری دیوبندی دہشت گردی کا مسئلہ صرف جنوبی پنجاب میں ہے؟

141013194818_multan_bahuddin_zakaria_shrine_640x360_afp

پنجاب میں تکفیری دیوبندی دہشت گردی اور شدت پسندی کے حوالے سے جب بھی بات ہوتی ہے، سوئی آ کر جنوبی پنچاب پر ٹِک جاتی ہے حالانکہ جن عوامل اور شواہد کی بنیاد پر جنوبی پنچاب کو شدت پسندی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، ویسے ہی عوامل باقی حصوں میں بھی کارفرما ہیں۔

عمومی خیال یہ ہے کہ زیادہ تر شدت پسند تنظیمیں، جنوبی پنجاب میں ارتکاز پذیر ہیں لیکن حقائق یہ ہیں کہ ان تنظیموں کے نیٹ ورک پورے صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اگر صرف ان تنظیموں کے مرکزی دفاتر پر ہی نظر ڈالی جائے تو وہ بھی پورے صوبے میں منقسم ہیں۔ کالعدم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے مرکزی دفاتر وسطی پنجاب، سابقہ حرکت المجاہدین کے دفاتر اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان واقع ہیں

کالعدم سپاہ صحابہ کا مرکزی نیٹ ورک لاہور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور کراچی میں منقسم ہے البتہ کالعدم جیش محمدنے بہاولپور کو مرکز بنایا ہے۔

اگر مذہبی جماعتوں کے پھیلاؤ کو دیکھا جائے تو ان کا ارتکاز بھی وسطی پنجاب میں ہے۔

لاہور کو مذہبی جماعتوں کا دارالخلافہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا جہاں چھوٹی بڑی 180 مذہبی جماعتیں کام کر رہی ہیں اور ان میں بیشتر کے مرکزی دفاتر اسی شہرمیں موجود ہیں۔

مدارس اور مساجد کے پھیلاؤ کو بھی مذہبی شدت پسندی کے پھیلاؤ کے عامل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر اس کو پیمانہ مان لیا جائے تو شدت پسندی کو کسی ایک علاقے سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔

مدارس کی افزائش اور پھیلاؤ کے دو اسلوب ہیں۔ یہ بڑے شہری اور صنعتی مراکز کے گرد تیزی سے پھیلتے ہیں یا بڑی شاہراہوں کے ساتھ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ یہیں سے میسر آ سکتے ہیں۔

تمام مسالک کے بڑے مدارس کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور،گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں زیادہ ارتکاز پذیر ہیں۔ چھوٹے شہروں میں اگر بڑے مدارس ہیں بھی تو یا تو ان کی نوعیت تاریخی ہے یا وہاں طلبا کی تعداد کافی کم ہے۔

لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ بڑے شہروں اور صنعتی مراکز کے قریب واقع مدارس میں مقامی طلبا اور اساتذہ کی تعداد کم ہے۔

اگر صرف لاہور اور فیصل آباد کے مدارس کو دیکھا جائے تو وہاں بالترتیب قبائلی علاقوں، کشمیر اور جنوبی پنجاب کے طلبا کی زیادہ نظر آئے گی۔ اسں پس منظر میں یہ بات قیاس کی جا سکتی ہے کہ پنجاب کے جنوبی علاقے شدت پسندوں کی بھرتی کے مراکز ہیں۔

اسّی اور نوے کی دہائی تک یہ بات کسی حد تک درست کہی جا سکتی تھی اور اس کی وجہ حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد اسلامی، سپاہ صحابہ جیسی تنظیموں کا ان علاقوں میں خاص سرگرم ہونا تھا لیکن اسی عرصے کے دوران جماعت اسلامی سے وابستہ یا اس کی فکر سے ہم آہنگ تنظیموں کے لیے وسطی اور شمالی پنجاب بھرتی کے حوالے سے زیادہ زرخیز علاقے تھے۔

تو پھر شدت پسندی کی بحث میں جنوبی پنجاب کیوں اہم ہے؟

اس کی ایک اور وجہ غربت اور پسماندگی بتائی جاتی ہے لیکن ایسے ہی عوامل نہ صرف اندرون سندھ اور بلوچستان میں زیادہ فعال ہیں بلکہ وسطی اور شمالی پنجاب کے کئی دیہی اضلاع ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔

رحیم یار خان اور راجن پور کے ڈیلٹائی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن سے اس رائے کو بہت تقویت ملی ہے کہ جنوبی پنجاب میں ایسے علاقےموجود ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہنچ سے دور ہیں اور وہاں جرائم پیشہ ، ملک دشمن اور دہشت گرد اپنی پناہ گاہیں بنا لیتے ہیں لیکن ایسے علاقے راوی اور چناب درمیان بھی موجود ہیں۔

پنجاب میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا چیلنج بہت اہم ہے اور اسے کسی علاقے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سمجھنے کے لیے دو پہلو اہم ہیں۔

پہلا کالعدم تنظیموں کے بارے میں عمومی تاثر سے متعلق ہے۔ یہ تنظیمیں فرقہ وارانہ اور عسکری نوعیت کی ہیں اور بیشتر ریاست کے اداروں کی آلۂ کار رہی ہیں۔

ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کی معاون ہیں لیکن یہ تنظیمیں القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی جیسےتکفیری دیوبندی دہشت گرد گروپوں کی دو طرح سے معاون ہیں۔

تکفیری دیوبندی کالعدم تنظیمیں نہ صرف دہشت گرد گروپوں کے بیانیے کو تقویت پہنچانے میں معاون ہیں بلکہ دہشت گرد ان تنظیموں سے افرادی قوت حاصل کرتے ہیں۔ نہ تو ان کی تنظیمی قیادت اور نہ ہی حکومت کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات کو ختم یا کمزور کر پائی ہے۔

دوسرے پہلو کا تعلق ریاستی حکمت عملی سے ہے اور حکومت ابھی تک گو مگو کی کفیت میں ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے دہشت گرد گروہوں کے خلاف حکمت عملی میں ہمیشہ ایک بنیادی نقص رہ جاتا ہے اور وہ دہشت گرد گروہوں کا کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے۔

بعض صورتوں میں ان کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں اس لیے موثر نہیں ہو سکتیں کہ وہ اپنے آپریشنز کا دائرہ کالعدم تنظیموں تک وسیع نہیں کر سکتے۔

حکومت ان تنظیموں کی سٹریٹ پاور اور سیاسی اثر و رسوخ سے زیادہ ان کے پرتشدد ردعمل سے خوف زدہ رہتی ہے اور صورتحال اس وقت زیادہ گھمبیر ہو جاتی ہے جب یہ کالعدم تنظیمیں آج بھی خود کو ریاست کے لیے کارآمد اثاثوں کے طور پر پیش کرتی ہیں اور ریاست اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔

Source:

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160517_south_punjab_amir_rana_1_zs

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*