صفورا حملہ آوروں کے خاکے

160511232255_12_may_karachi_640x360_afp_nocredit

ایڈیٹوریل نوٹ : ملزمان کے یہ خاکے ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی ، تنظیم اسلامی ، سپاہ صحابہ پاکستان اور کشمیر و افغانستان کی نام نہاد جہادی تنظیموں کے نیٹ ورک سے جڑنے والے کیسے پاکستان میں شیعہ ، سنی بریلوی ، اسماعیلی ، مسیحی ، لبرل سیکولر ، احمدی وغیرہ کی ٹارگٹ کلنگ اور ان پہ حملوں میں استعمال ہوتے ہیں اور تکفیری دیوبندی دہشت گردی کو آکسیجن کہاں سے میسر آتی ہے

اسد الرحمان

30 سالہ اسد الرحمان کی پیدائش نارتھ ناظم آباد میں ایک بینکر کے گھر ہوئی۔

انھوں نے آرمی پبلک سکول سے او لیول اور کلفٹن کے ایک کالج سے اے لیول کیا۔ 2007 میں انھوں نے تنظیم اسلامی کے قرآن فہمی کے کورس میں داخلہ لیا لیکن اے سی سی اے کے امتحان کی وجہ سے اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ تاہم وہ اے سی سی اے میں بھی فیل ہوگئے۔ بعد میں انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی کام کیا۔

جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کو دیے گئے بیان کے مطابق بعض نجی کمپنیوں کے علاوہ انھوں نے کے ای ایس سی میں ملازمت اختیار کی۔ 2009 میں ان کی سعد عزیز عرف ٹن ٹن سے پہلی بار ملاقات ہوئی جس کے بعد وہ ان سے رابطے میں رہے۔

اکتوبر 2014 میں وہ دیگر چھ لڑکوں کے ساتھ بذریعہ کوئٹہ پاکستان افغانستان سرحد پر قائم کیمپ گئے جہاں انھیں کلاشنکوف، آر پی جی، راکٹ لانچر، دستی بم اور پستول چلانے کی تربیت دی گئی۔ ان کا انسٹرکٹر سعد عزیز تھا۔ یہ تربیت 15 روز جاری رہی۔

صفورا حملے میں ان کی ذمہ داری قریبی پولیس چوکی پر نظر رکھنا تھی۔ جوائنٹ انٹیروگیشن کے مطابق 2011 میں انھوں نے ملیر چھاؤنی کی بھی ریکی کی تھی لیکن سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ صبین محمود کی ریکی میں بھی وہ شامل تھے۔

سعد عزیز

سعد عزیز نے او اور اے لیول کے بعد کراچی آئی بی اے سے بی بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ایک نجی کمپنی اور ہوٹل میں ملازمت اختیار کی۔ کمپنی میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات علی رحمان سے ہوئی، جنھوں نے ان کی سوچ کو تبدیل کر دیا۔ علی رحمان نے ہی ان کی القاعدہ کے رکن حارث سے ملاقات کروائی۔

جے آئی ٹی کے مطابق سعد عزیز نے 2010 میں میران شاہ میں تربیت حاصل کی، جہاں ان کے استاد امجد پنجابی تھے۔ 25 روز میں انھوں نے اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی، جس کے دوران ان کی امجد فاروقی سے ملاقات ہوئی۔اس تربیت کے بعد وہ جہادی لڑکوں سے رابطے میں رہے۔

2014 میں طاہر منہاس ان کو حیدرآباد لے گئے جہاں انھوں نے پولیس پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ وہ کراچی میں بھی پولیس پر حملے میں ملوث رہے۔

سعد عزیز نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ عراق میں دولت اسلامیہ کے اسلامی خلافت کے اعلان کے بعدان کا ذہن تبدیل ہوا اور انھوں نے کراچی میں داعش کے حق میں وال چاکنگ کی۔

سعد عزیز کے بیان کے مطابق اس نے صبین محمود پر فائرنگ کر کے انھیں قتل کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صبین نے لال مسجد کے خطیب کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

صفورا واقعے میں بس میں سوار ہو کر فائرنگ کرنے والوں میں سعد عزیز بھی شامل تھے۔ سعد عزیز کی جے آئی ٹی کے مطابق انھوں نے نائن ایم ایم پستول کے علاوہ ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے دو کیمرے بھی اٹھا رکھے تھے، جن میں سے ایک گر گیا جبکہ دوسرے میں ریکارڈنگ نہیں ہوئی۔

طاہر منہاس عرف سائیں

طاہر منہاس کے والدین کا تعلق سرائے عالمگیر گجرات سے تھا۔ والد محکمہ صحت میں سپرنٹینڈنٹ تھے، ان کا تبادلہ حیدرآباد ہو گیا تھا۔ جے آئی ٹی کے مطابق طاہر کی پیدائش خدا کی بستی کوٹڑی میں ہوئی جہاں انھوں نے کالج تک تعلیم حاصل کی، اور بعد میں مرغی کی خوراک کا کام شروع کر دیا۔

کوٹڑی میں عبدالرحمان عرف سندھی سے ملاقات ہوئی، جن کے کہنے پر انھوں نے کشمیر میں حزب المجاہدین کے کیمپ میں تربیت حاصل کی، جہاں انھیں پستول، کلاشنکوف اور دستی بم کا استعمال سکھایاگیا۔

کشمیر سے واپسی پر عبدالرحمان سندھی کے کہنے پر افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ 2001 میں واپس کوٹڑی آ کر مرغیوں کے فیڈ کا کاروبار شروع کیا جو 2006 تک جاری رکھا۔

طاہر منہاس 2006 میں گنیش کمار کو اغوا کر کے قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے، لیکن بعد میں رہائی مل گئی، جس کے بعد وہ 2010 میں کراچی آگئے۔ یہاں وہ بینک ڈکیتیوں کے علاوہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہے، جن میں بوہری برادری اور پولیس پر حملے بھی شامل تھے۔

اسماعیلی برادری کی بس پر حملہ عبداللہ عرف عبدالعزیز کے حکم پر کیا تھا۔ انھوں نے ایک ہفتے تک ریکی کی۔ انھوں نے بس میں سوار ہوتے ہی اپنی ٹیم کو کہا تھا کہ سب کو مار دو۔ انھوں نے دو بچوں کو چھوڑ کر سب کو سر میں گولیاں مارنا شروع کر دیں۔

محمد اظہر عشرت

محمد اظہر عشرت کی 1981 میں پیدائش ہوئی۔ ڈی ایچ اے کالج سے انٹر کرنے کے بعد 2003 میں الیکٹرانکس میں سرسید یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی۔ اس کے بعد موبائل اور انجنیئرنگ کمپنی سے منسلک رہے۔ 2006 میں تنظیم اسلامی میں بطور کارکن شامل ہوئے اور ڈیفنس کراچی میں قرآن اکیڈمی میں جاتے رہے۔

جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان کے مطابق اظہر عشرت کی 2011 میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے حاجی صاحب (یوسف رمزی کے بھائی) سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انھوں نے مسلمان کی پریشانی بیان کی اور آئی ای ڈی بم بنانے میں مدد مانگی۔ ملزم نے حامی بھری اور کچھ پرانی کتابوں کی مدد سے ٹائم سرکٹ، موبائل فون سرکٹ اور دو ایسے سرکٹ بھی بنائے جن میں ایک دن اور ایک رات میں دھماکے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

حاجی صاحب نے انھیں سختی سے القاعدہ اور دوسری جہادی تنظیموں سے دور رہنے کو کہا تھا۔

ملزم نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ صفورا واقعے والے دن حافظ عمر اور طاہر منہاس اور نوید اس کے گھر آکر ٹھہرے اور دوران گفتگو انھوں نے بتایا کہ صفورا واقعہ طاہر منہاس گروپ نے کیا ہے۔

جی آئی ٹی کے تجزیے مطابق عشرت دہشت گردی کے واقعے میں براہ راست ملوث مجرموں کے سہولت کار تھے، ان کا گھر اسلحے اور گولیوں کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

حافظ ناصر

1979 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور بعد میں مصنوعی زیورات کے کاروبار سے منسلک ہوگئے تھے۔ حافظ ناصر اور ان کے بھائی کو ایک جاننے والا قرآن اکیڈمی لے کر گیا جو تنظیم اسلامی کے زیر انتظام چلتی تھی، جہاں 2001 میں انھوں نے تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی اور تنظیمی اختلافات کی وجہ سے آٹھ سال بعد علیحدگی اختیار کر لی

جے آئی ٹی کے مطابق ان کی ملاقات وہاں شیبا احمد سے ہوئی جو افغان طالبان کی مالی معاونت کرتے تھے۔ بعد میں 2011 میں شیبا نے انھیں 25 روز کے لیے افغانستان بھجوایا ۔

2013 میں ان کے اپنے بھائی حافظ عمر سے اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد عمر نے گھر چھوڑ دیا، تاہم وہ والد کے کاروبار پر آتے رہے جہاں عمر نے انھیں بتایا کہ وہ کراچی میں جہاد کا آغاز کر رہے ہیں۔

2014 میں عمر نے انھیں موبائل فون دیا اور رابطے میں رہنے کا کہا۔ صفورا واقعے والے دن طاہر منہاس اور حافظ ان کے گھر آئے۔ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ صفورا حملہ انھوں نے کیا ہے۔

یاد رہے کہ فوجی عدالت نے پانچوں کو سزائے موت سنائی ہے جس کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے توثیق کر دی ہے۔

Source:

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160513_saffora_profiles_na

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*