خرم زکی کی شہادت اور میڈیا کا رد عمل

13177295_126031097803010_3024719773291915749_n

کراچی: مسلح افراد کی فائرنگ، سماجی کارکن خرم ذکی ہلاک

8 مئ 2016

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سماجی کارکن اور سابق صحافی خرم ذکی ہلاک ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار سارہ حسن کے مطابق سماجی کارکن خرم ذکی اور راؤ خالد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے جبکہ راؤ خالد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا یہ واقعہ نارتھ کراچی سیکٹر 11 بی میں ایک ہوٹل کے باہر پیش آیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں خرم ذکی اور راؤ خالد شامل ہیں۔

خرم ذکی کو شدید زخمی حالت میں آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس واقعے اور خرم ذکی کی ہلاکت کی مذمت کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ خرم ذکی کا شمار سول سوسائٹی کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ ماضی میں صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔

خرم ذکی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مظاہروں میں بھی شریک رہے تھے۔

رواں سال کے آغاز میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں خرم ذکی کی جانب سے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سوشل میڈیا پر پاکستان کے خفیہ ادارے (آئی ایس آئی) کے خلاف ویڈیو شیئر کرنے پر مقدمہ درج نہ کرنے کی درخواست پر مقامی پولیس کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160507_social_activist_khurram_zaki_killed_zh

کراچی: فائرنگ سے سماجی کارکن خرم ذکی ہلاک

8 مئ 2016

خرم ذکی ملک میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش رہے ہیں۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک سرگرم سماجی کارکن خرم ذکی کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہفتہ کو دیر گئے نارتھ کراچی میں واقع ایک ہوٹل کے باہر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے خرم ذکی سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خرم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو موقع واردات سے فرار ہوگئے۔

خرم ذکی ملک میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش رہے ہیں۔

انھوں نے اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے الزام میں مقدمات درج کرنے کے لیے درخواستیں بھی تھانے میں جمع کروائی تھیں۔

وہ صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے جب کہ سماجی ویب سائٹس پر “لیٹ اَس بلڈ پاکستان” نامی پیج بھی چلا رہے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے خرم ذکی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کو کارروائی کر کے فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔

انسانی حقوق کی سرگرم تنظیموں نے خرم ذکی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

http://www.urduvoa.com/a/pakistan-social-activist-killed/3320409.html

خرم ذکی کا قتل، ایک اور آواز خاموش کر دی گئی

09.05.2016

40 سالہ خرم ذکی کو ہفتے کے روز ایک ہوٹل کے باہر مسلح افراد نے گولیوں سے قتل کر دیا تھا۔ ذکی کو انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان اور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف اپنے برملا اظہار رائے کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ مقامی میڈیا پر جاری کردہ رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان کے ’حکیم اللہ گروہ‘ نے خرم ذکی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ سوشل میڈیا پر خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

معروف صحافی رضا رومی نے فیس بک پر لکھا،’’ ہم میں سے بہت لوگوں نے خرم ذکی کو محتاط رہنے کا کہا تھا، لیکن وہ اپنے مشن میں انتہائی پر عزم تھا۔‘‘

صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ٹوئيٹ کی،’’ خرم ذکی کا قتل نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں آج بھی پاکستان میں آزاد اور طاقت ور ہیں۔‘‘

خاتون اینکر پرسن نسیم زہرہ نے اس بارے میں لکھا کہ ایک اور ایسے شہری کو قتل کر دیا گیا ہے جو شدت پسندی اور نفرت کے خلاف سرگرم تھا۔

صحافی طحہٰ صدیقی نے لکھا کہ درحقیقت خرم ذکی کا قتل اس ریاست کی وجہ سے ہوا ہے جس نے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو یہاں کارروائیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے لکھا، ’’جب بھی کہا جاتا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، ایک ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے جو پاکستان میں بنیاد پرستی کے مسائل ظاہر کرتا ہے۔‘‘

پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں سلیمان اختر نے خرم ذکی کے قتل پر ایک مضمون میں لکھا ہے، ’’ یہ پاگل پن ہے اور یہ پاگل پن پاکستان میں اب ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔‘‘

http://www.dw.com/ur/%D8%AE%D8%B1%D9%85-%D8%B0%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%82%D8%AA%D9%84-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C-%DA%AF%D8%A6%DB%8C/a-19244010

کا مقدمہ،مولانا عبدالعزیز پر شبہخرم ذکی قتل

8 مئ 2016

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سماجی رہنما خرم ذکی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اللہ ڈینو (اے ڈی) خواجہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

خرم ذکی کو گزشتہ رات نارتھ کراچی سیکٹر 11B میں ہوٹل کے باہر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا، جبکہ فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوئے تھے. بعد ازاں خرم ذکی کا عباسی شہید ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جہاں سے ان کی میت انچولی منتقل کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : اچیکر میں فائرنگ سے سماجی رہنما خرم ذکی ہلاک

وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی خرم ذکی کے قتل کا نوٹس لیا اور ایڈیشنل آئی جی اور کراچی پولیس کے سربراہ مشتاق مہر سے 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی۔

خرم ذکی کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سرسید تھانے میں درج کیا گیا جبکہ مقدمے کے متن میں درج ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ خرم ذکی کو اسلام آباد کی لال مسجد کے معزول خطیب مولانا عبدالعزیز اور کالعدم اہلسنت والجماعت کے اورنگزیب فاروقی کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

خرم ذکی کا شمار سول سوسائٹی کے رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے تھے، اس کے علاوہ وہ لیٹ اَس بلڈ پاکستان (Let US Build Pakistan) کے سوشل میڈیا پیج کو چلا رہے تھے۔

خرم ذکی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ ایک نجی ٹی وی چینل میں انفوٹینمنٹ اور مذہبی پروگرامات سے منسلک تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ خرم ذکی کی ویب سائٹ لوب پاک ڈاٹ کام پاکستان میں بلاک ہے۔

خرم ذکی سول سوسائٹی کے رہنما جبران ناصر کے ساتھ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مظاہروں میں بھی شریک رہے۔

ہلاکت پر مذمت

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ خرم ذکی کے قاتلوں کو ہر صورت میں فوری گرفتار کیا جائے۔

ڈان نیوز کے مطابق آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خرم ذکی کے خاندان کے دکھ میں شریک ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رابطہ کمیٹی نے خرم ذکی کے قتل قابل مذمت کی اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

خرم ذکی کی ہلاکت پر سوال اٹھاتے ہوئے رابطہ کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں آپریشن کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے خرم ذکی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سنگین واقعہ قانون نافذ کرنے واداروں کی کوششوں سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

شاہی سید نے مزید کہا کہ شاہی سید نے مزید کہا کہ مٹھی بھر دہشت گرد شہر کی بحال ہوتی ہوئی رونقوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے بھی واقعے میں ملوث افراد کی جلد از جلد گرفتار کا مطالبہ کیا۔

مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے بھی خرم ذکی کی ہلاکت پر مذمت کا اظہار کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق تحفظ عزاداری کونسل کی جانب سے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ ہائوس پر نماز جنازہ

خرم ذکی کی نماز جنازہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر ادا کی گئی، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

اس موقع پر ان کے اہل خانہ نے حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا۔

مقتول کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہرکودھمکیاں مل رہی تھیں،خاندان کو اب بھی خطرہ ہے، تحفظات کے باوجود سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر کو خفیہ اداروں نے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

خرم ذکی کی نماز جنازہ میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

http://www.dawnnews.tv/news/1036928

سماجی کارکن خرم ذکی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے: بلاول کی ہدایت

10 مئی ,

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مقتول سماجی کارکن خرم ذکی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کریں۔ اپنے ایک بیان میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کی اور ان کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لوگوں کےلئے آواز بلند کرنے والوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے خرم ذکی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کریں۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/08-May-2016/474318

نارتھ کراچی میں فائرنگ، سماجی رہنما خرم ذکی جاں بحق

اتوار 8 مئ 2016

کراچی: نارتھ کراچی سلیم سینٹر کے قریب ہوٹل پر فائرنگ سے سماجی رہنما سید خرم ذکی جاں بحق اور ان کے دوست سمیت اور ایک شخص شدید زخمی ہوگیا، پولیس نے جائے وقوع سے19 خول اور ایک زندہ گولی برآمد کر لی، فائرنگ کے دیگر واقعات میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سرسید ٹاؤن تھانے کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر 11-Bمیں سلیم سینٹر کے قریب واقع ماشا اﷲ ہوٹل موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے3 افراد زخمی ہوگئے جنھیں پہلے ایک سوزکی پک اپ میں عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا تاہم عباسی اسپتال کے باہر سے ہی انھیں چھیپا کی ایمبولینسوں میں منتقل کر کے آغا خان اور لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

آغا خان اسپتال میں ایک شخص دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت 40 سالہ سید خرم ذکی کے نام سے کر لی گئی جبکہ لیاقت نیشنل اسپتال میں موجود 2 افراد جہانزیب اسلم اور خالد راؤ کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ایس ایچ او سرسید ٹاؤن انسپکٹر افتخار نے بتایا کہ2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان تھے، جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 19خول اور ایک زندہ گولی ملی ہے جو پولیس نے فارنسک ٹیسٹ کے لیے محفوظ کرلی۔

مقتول خرم زکی تقریباً 2 سال قبل تک نارتھ کراچی میں رہائش پذیر تھے ،بعدازاں وہ گلستان جوہر پرفیوم چوک کے قریب روفی گرین میں شفٹ ہو گئے تھے۔ واقعے کے وقت وہ اپنے دوست خالد راؤ کے ساتھ ہوٹل کے باہر تخت پر بیٹھے تھے کہ گھات لگائے موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی ، پولیس کو شبہ ہے ملزموں کا ہدف خرم زکی تھے ، واقعہ فرقہ وارانہ لگتا ہے تاہم تحقیقات کی جا رہیہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان علی احمر کی جانب سے خرم زکی کے قتل اور خالد راؤ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

خرم زکی نجی ٹی وی چینلز میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ خالد راؤ بھی ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسسٹنٹ رہ چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق خرم زکی نے سول سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف امور پر احتجاجی مظاہرے بھی کر چکے ہیں اور مختلف ممالک کے قونصل خانوں کے باہر بھی مظاہروں میں شامل رہے ہیں۔ فائرنگ کے دیگر واقعات میں کورنگی میں 55 سالہ اصغر، نارتھ کراچی میں32 سالہ فراز، نارتھ کراچی سیکٹر 11-C/2 صدیقی مارکیٹ کے قریب 40 سالہ فیاض احمد ولدحاجی محمد عباس زخمی ہوگئے۔

http://www.express.pk/story/507431/

سماجی کارکن خرم ذکی کا بہیمانہ قتل قابل مذمت ہے۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم

سماجی کارکن خرم ذکی کا بہیمانہ قتل قابل مذمت ہے۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم

کراچی میں آپریشن کے باوجودٹارگٹ کلنگ کے واقعات مسلسل ہورہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی

خرم ذکی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کوگرفتارکیاجائے۔رابطہ کمیٹی

خرم ذکی کے لواحقین سے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کااظہارتعزیت

کراچی ۔۔۔ 7 مئی 2016ء

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سماجی کارکن خرم ذکی کے بہیمانہ قتل کی شدیدمذمت کی ہے ۔اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ خرم ذکی سوشل میڈیا کے ذریعے کراچی کے مسائل اوردیگرسماجی مسائل کواجاگرکرنے میں کوشاں تھے کہ آج مسلح دہشت گردوں نے انہیں ٹارگٹ کرکے شہیدکردیاجس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کے باوجودٹارگٹ کلنگ کے واقعات مسلسل

ہورہے ہیں اورمعصوم وبے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کانشانہ بنایاجارہاہے۔ رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیاکہ خرم ذکی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کوگرفتارکیاجائے۔ انہوں نے خرم ذکی کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ خرم ذکی کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اورلواحقین کوصبرجمیل عطاکرے۔

http://www.mqm.org/urdunews/36527

خرم ذکی شہید کے قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے، الطاف حسین

Posted on: 5/8/2016

خرم ذکی شہیدکے قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو گرفتارکرکے عبرتناک سزا دی جائے، الطاف حسین

خرم ذکی نے کراچی کی تعمیر و ترقی، بلدیاتی اداروں کے اختیارات، شہریوں کے حقوق کیلئے اور فرقہ واریت کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی، الطاف حسین

شہریوں کے حقوق کی جدوجہد اورحق گوئی کی پاداش میں خرم ذکی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، الطاف حسین

دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں، الطاف حسین

کراچی کے معروف سماجی کارکن خرم ذکی کے بہیمانہ قتل پر قائد تحریک الطاف حسین کا اظہار مذمت

لندن۔۔۔7، مئی2016

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کراچی میں معروف سماجی کارکن خرم ذکی کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ خرم ذکی شہید کے قاتلوں کو گرفتارکرکے عبرتناک سزا دی جائے ۔ ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کراچی اور اس کے شہریوں کیلئے خرم ذکی ،کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ شہید نے کراچی کی تعمیروترقی ، بلدیاتی اداروں کے اختیارات ، شہریوں کے حقوق کیلئے اورفرقہ واریت کے خلاف ہرسطح پر آواز بلند کی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی سمیت دیگرسماجی مسائل کے ساتھ ساتھ کراچی کے مسائل کو اجاگرکرنے کیلئے حق پرستانہ کرداراداکرتے رہے۔ کراچی اوراس کے شہریوں

کے حقوق کی جدوجہد اورحق گوئی کی پاداش میں سفاک دہشت گردوں نے خرم ذکی کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید کردیا ۔ جناب الطاف حسین نے خرم ذکی شہیدکے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ خرم ذکی ،کی شہادت سے مجھے ذاتی طورپردلی صدمہ پہنچا ہے، دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خرم ذکی شہید کے درجات بلندفرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوار لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ جناب الطاف حسین نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیاکہ خرم ذکی کے بہیمانہ قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے ، قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو گرفتارکرکے عبرتناک سزا دی جائے اور شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے ٹھوس اورمثبت اقدامات بروئے کار لائے جائیں

http://www.mqm.org/urdunews/36528

سماجی رہنما خرم ذکی سمیت دو افراد فائرنگ سے جاں بحق

May 8, 2016 @ 2:34 AM

کراچی : نارتھ کراچی میں معروف سماجی رہنما خرم ذکی سمیت دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں سماجی رہنما دہشت گردوں کے نشانے پر آگئے، نارتھ کراچی میں سلیم سینٹر کے قریب ہوٹل میں فائرنگ سے سول سوسائٹی کے رکن خرم ذکی سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص زخمی ہوگیا، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خرم ذکی کے سینے میں پانچ گولیاں لگیں۔ خرم ذکی کو پہلے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا پھر آغا خان اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کرعلاقے کو گھیرے میں لے لیاہے ذرائع کےمطابق دونوں افراد ایک ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں دہشت گردوں نے کراچی سے تعلق رکھنے والی دانشور اور این جی او کی ڈائریکٹر سبین محمود پر کلفٹن کے علاقے میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔

سبین محمود نے موقع پر ہی دم توڑ دیا تھا، جبکہ تیرہ مارچ دوہزار تیرہ میں سماجی کارکن پروین محمود کو بنارس چوک کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

سماجی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

http://www.arynews.tv/ud/khurram-zaki-samaji-rehnuma-karachi-firing-qatal/

کراچی: ہوٹل پرفائرنگ سے سماجی کارکن خرم ذکی جاں بحق۔ نماز جنازہ آج ادا کیاجائے گی۔

* 08 May 2016 (12:35)

نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں واقع ہوٹل پرنامعلوم افراد نےفائرنگ کردی۔ فائرنگ سے خرم ذکی سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کرزخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔۔ڈاکٹرز نے سماجی کارکن خرم ذکی کی جان بچانےکی سرتوڑ کوششیں کیں تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ہسپتال ذرائع کےمطابق مقتول سماجی کارکن خرم ذکی کوسینے میں پانچ گولیاں لگیں۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دوسرے دوافراد کی شناخت راؤخالد اور سلطان کے نام سےہوئی ہے۔ مقتول خرم ذکی کی عمر چالیس سال تھی اوران کا شمار سول سوسائٹی کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ ماضی میں صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔ خرم ذکی انتہاپسندی اورکالعدم تنظیموں کی کھل کرمخالفت کرتےرہے۔ادھروزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نےخرم ذکی کےقتل کانوٹس لےلیا وزیرداخلہ نے کراچی پولیس چیف کوہدایت کی کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ وزیرداخلہ سندھ نے ایڈیشنل آئی مشتاق مہر سے اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ بھی طلب کرلی۔

http://waqtnews.tv/national-news/08-May-2016/civil-rights-activist-khurram-zaki-target-by-target-killer

خرم ذکی قتل کا مقدمہ درج، مولانا عبدالعزیز اور اورنگزیب فاروقی پر شبہ

05/08/2016

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سماجی رہنما خرم ذکی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اللہ ڈینو (اے ڈی) خواجہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ خرم ذکی کو گزشتہ رات نارتھ کراچی سیکٹر11بی میں ہوٹل کے باہر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا، جبکہ فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوئے تھے. بعد ازاں خرم ذکی کا عباسی شہید ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جہاں سے ان کی میت انچولی منتقل کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی خرم ذکی کے قتل کا نوٹس لیا اور ایڈیشنل آئی جی اور کراچی پولیس کے سربراہ مشتاق مہر سے 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی۔ خرم ذکی کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سرسید

تھانے میں درج کیا گیا جبکہ مقدمے کے متن میں درج ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ خرم ذکی کو اسلام آباد کی لال مسجد کے معزول خطیب مولانا عبدالعزیز اور کالعدم اہلسنت والجماعت کے اورنگزیب فاروقی کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

http://www.urdutimes.com/news/15981.html

نارتھ کراچی میں ہوٹل پر فائرنگ،سماجی رہنما خرم ذکی جاں بحق،دو افراد زخمی

May 08, 2016 | 12:00 am

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نارتھ کراچی میں ہوٹل پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں سماجی رہنما خرم ذکی جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی شب سرسید تھانے کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں واقع ماشاء اللہ ہوٹل کے باہر بیٹھے ہوئے تین افراد پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور فرار ہوگئے،فائرنگ کے نتیجے میں تینوں افراد زخمی ہوگئے،زخمیوں کی شناخت خرم ذکی،راؤ خالد اور جہانزیب کے نام سے ہوئی۔زخمیوں کو پہلے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انھیں آغا خان اور لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا گیاجہاں دوران علاج خرم ذکی نے دم توڑ دیا جبکہ زخمی ہونے والے دیگر دو افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے پستول کے19خول ملے ہیں جبکہ ایک گولی بھی ملی ہے جو مس فائر ہوئی اور چل نہ سکی۔پولیس کے مطابق واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔

http://search.jang.com.pk/print/95615-todays-print

کراچی:لواحقین کا خرم ذکی کی میت کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا

10 May 2016

کراچی: گذشتہ رات قتل ہونے والے سماجی کارکن خرم ذکی کی میت لواحقین نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے رکھ دی ۔ خرم ذکی کی بیوہ کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف جب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی دھرنا جاری رہے گا ۔

پولیس نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے جبکہ کی وزیراعلیٰ ہاؤس کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے ۔

گذشتہ رات نارتھ کراچی سلیم سینٹر کے سامنے نامعلوم شرپسندوں کے قتل ہونے والے خرم ذکی کی میت کو لواحقین نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے لگے کنٹینرز کے سامنے رکھ کر دھرنا دے دیا ہے ۔ خرم ذکی کی بیوہ کا کہنا ہے کہ

جب تک نامزد ملزمان کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں کیا جائے گا ، دھرنا جاری رہے گا ۔ خرم ذکی کی بیوہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کی تو ہرگز نہیں مانے گے ۔ دھرنے کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کا رش بڑھ کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

دوسری طرف پولیس نے خرم ذکی کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ سرسید ٹاؤن میں درج کر لیا ہے ۔

http://urdu.jasarat.org/2016/05/08/karachi-civil-society-picket-with-khurram-dakki-dead-body-cm-house/

وفاقی وزیر پرویز رشید کی خرم ذکی کے کراچی میں قتل کے واقعہ کی مذمت

اسلام آباد ۔ 8 مئی:/ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید نے انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے سرگرم رکن خرم ذکی کے کراچی میں قتل کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سندھ حکومت واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری عمل میں لائے گی۔

http://bbcpknews.com/%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D9%BE%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B2-%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%B1%D9%85-%D8%B0%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86/

قاری سجاد تنولی اور مفتی عبدالقادر جعفر کی خرم ذکی و دیگر کی ٹارگٹ کلنگ پر شدید مذمت

May 9, 2016

کراچی (پ ر) پاکستان یکجہتی کونسل سندھ کے صدر علامہ قاری سجادتنولی’مفتی عبدالقادرجعفر نے نارتھ کراچی میں فائرنگ کے نتیجے میں سماجی رہنماء خرم ذکی و دیگر کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کاواقعہ لمحہ فکریہ ہے۔

سنگین واقعہ قانون نافذ کرنے ادروں کی کوششوں سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے مٹھی بھر دہشت گرد شہر کی بحال ہوتی ہوئی رونقوں کی راہ میں رکاوٹ ہیںہے علامہ قاری سجاد تنولی اورمفتی عبدالقادرجعفر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث کو جلد از جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

http://www.geourdu.com/city-news/qari-sajjad-tanoli-mufti-abdul-jafar-fire-khurram-zaki-targeted-killings-condemned-karachi/

خرم ذکی کے قتل کے خلاف اسکردو میں احتجاجی مظاہرہ، مجرموں کی سرکوبی کا مطالبہ

Monday 9 May

اسلام ٹائمز۔ نامور سماجی کارکن و صحافی خرم ذکی کی بہیمانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف یادگار شہداء اسکردو پر بلتستان یوتھ الائنس، سماجی کارکنان ہیومین رائٹس گلگت بلتستان اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر سماجی کارکن خرم زکی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے شمعیں روشن کی گئیں۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نامور قانون دان بشارت ایڈووکیٹ نے کہا کہ خرم زکی کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ایک انسانیت دوست سماجی ورکر کی ٹارگٹ کلنگ حکومتی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ملک میں طالبانائزیشن اور فرقہ ورانہ سوچ کے لوگوں کی بیخ کنی کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں آئے روز پروفیشنلز پاکستانیوں کی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں لیکن سکیورٹی اداروں اور حکومت کی خاموشی زندہ انسانوں کی تذلیل ہے۔ اس موقع پر بلتستان یوتھ الائنس کے صدر عاشق حسین نے کہا کہ نامور صحافی خرم زکی کے بہیمانہ قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور حکومت جلد ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ احتجاجی ریلی سے ہیومین رائٹس کے صدر و نامور صحافی وزیر مظفر حسین نے کہا کہ خرم ذکی کی قتل سے ملک بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ورکروں میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ ایک انسان شناس شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

http://islamtimes.org/ur/doc/news/537475/

خرم ذکی کے قتل کا ذمہ دارجماعت اسلامی کا سابق سیکرٹری اطلاعات شمس امجد ہے، ادارہ تعمیرپاکستان

10 May 2016

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ادارہ تعمیر پاکستان نامی بلاگ ویب سائٹ نے اپنے ایڈیٹر خرم زکی کے قتل کا ذمہ دارجماعت اسلامی کے سابق سیکرئٹری اطلاعات شمس امجد کو قرار دیا ہے، ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتہ سے جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے شیعہ مسلمانوں بالخصوص شہید خرم زکی کے خلاف انتہائی نفرت انگیز تکفیری مہم چلائی جارہی تھی جسکی نگرانی جماعت اسلامی کا سابق سیکرئٹری اطلاعات شمس الدین امجد کررہا تھا اور اسکی معاونت کالعدم لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کررہے تھے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ شمس الدین امجد فیس بک پر مشعل نامی پیج اور دیگر کے ذریعہ شہید خرم زکی کے خلاف انتہائی نفرت انگیز اور گمراہ کن مہم چلارہا تھا۔

ادارے نے کہاکہ ہم شمس امجد کو خرم زکی کے قتل کا براہ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اسے بتانا چاہتے ہیں کہ اسے قرار واقع سزا دلوانے کے لئے ہرقانونی راستہ اختیار کیا جائے گا،ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شمس امجد کی معاونت مولوی عبدالعزیز، اورنگ زیب فاروقی ،رعایت اللہ فاروقی اور صاحبزادہ ضیائ نے کی ، یہ تمام خرم زکی کے قاتل ہیں اور انہیں عبرتناک سزا دلوانے کے لئے قانون کا سہارا لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ سے جماعت اسلامی سمیت دیگر سوشل میڈیا تکفیر ی صارفین بالشمول اوریا مقبول جان شام میں حلب کے مسئلہ پر شیعہ مسلمانوں کے خلاف اکسانے والا مواد نشر کررہے ہیں،جس پر نواز حکومت کا سائبر سیل مسلسل خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہے، اور سائبر تکفیری مہم کا نتیجہ خرم زکی کے قتل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

http://imamiatarbiat.com/%D8%AE%D8%B1%D9%85-%D8%B0%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%AA%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D8%B0%D9%85%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%B9%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%DA%A9%D8%A7/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*