سرزمین حجاز اور ایران سے ہوتی ہوئی کرم ایجنسی پاراچنار تک پھیلی دہشتگردی کی مختصر کہانی ۔ شفیق احمد

1009556-ParachinarAFP-1450037309-542-640x480

مذہب پرستی، فرقہ پرستی، نسل پرستی اور قبائلی جھگڑے کوئی نئی بات نہیں، حق اور باطل کی پہلی لڑائی حضرت آدم کے بیٹوں قابیل اور ہابیل سے شروع ہو کر ابراہیم و نمرود اور آنحضرت صلی اللہ و صلعم اور ابوجہل سے ہوتا ہوا کربلا پر ختم نہیں ہوئی بلکہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے کونے کونے میں لڑی جا رہی ہے اور جب تک دنیا میں ظلم اور جہل باقی ہے یہ لڑائی جاری رہی گی۔

اسلام میں فرقہ پرستی اور نسل پرستی ساتھ ساتھ چلتی آ رہی ہے۔ جو جنگ بدر سے شروع ہو کر کربلا میں عروج کی حدود چھونی والی لڑائی ایک نئی سمت اختیار کر گئی اور بنی ہاشم اور بنی امیہ کی جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے درمیان اُسی شدت سے لڑی جا رہی ہے جیسے کہ اُحد میں رسول اللہ صلعم کے چچا جناب آمیر حمزہ کا کلیجہ چھبانے والے آج بھی کلیجے چھبانے میں ہچہچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور یزید نے کربلا واقعے کے بعد دیگر ممالک کے سفیروں کے سامنے رسول اللہ کے نواسے امام حسین کے دانت چھڑی سے چھیڑتے ہوئے شعر پڑھتے رہے کہ آج اپنے اباء و اجداد کے بدر میں قتل کا بدلا لے لیا ہے۔ جسکی تازہ مثال شام میں داعش نے تازہ کردی اور کربلا میں تنوں سے سر جدا کرنے والے آج بھی قسم قسم کے آرے، چھری، چاقو، چھاڑے اور تلواروں سے گردنی زنی کرتے نظر آتے ہیں جو پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام، عراق، نائجیریا، لیبیا وغیرہ اور ایک برادر اسلامی ملک میں سرکاری سطح پر ہوتی نظر آتی ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں یہ بیج اُموی دور میں بونے شروع کردئیے گئے جب حجاج بن یوسف کے دور میں محمد بن قاسم، بنی ہاشم کے بچے کچے افراد کا پیچھا کرتے ہوئے سندھ تک پہنچے تو اسلام بھی یہاں پہنچا اور اسلام کے جھگڑے بھی۔

محمود غزنوی کے والد سبکتگین کے دورِ حکومت میں جب ہندوستان کے راجہ جے پال نے افغانستان پر لشکر کشی کی تو وادئِ کرم میں انہیں طوری اور بنگش قبائل نے روک کر زبردست جنگ لڑی اور راجہ جے پال کی افواج نہ صرف وادئِ کرم سے غزنی اور کابل میں داخل ہونے میں ناکام رہے بلکہ انہیں بدترین شکست سے دوچار کرکے واپس پنجاب بھاگنا پڑا۔ لیکن محمود غزنوی نے پہلے دو حملوں میں ملتان اور گرد و نواح میں قائم اسماعیلی قرامطہ سلطنت ختم کرکے ہندوستان میں شیعہ آبادی کا پہلی بار قتل عام کیا، اور بچی کچی آبادی کا صفایا شہاب الدین غوری نے کیا۔

مغلیہ دورابتداء میں تعصبات سے اسلئے بالاتر تھا کیونکہ ایران کی صفوی بادشاہ نے قزلباش جنگجو بھیج کر بابر کی بھرپور معاونت کی اور مغل حکمران ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کرنے کے قابل ہوئے، لیکن بأثر تکفیری علماء کے ایما پر کھبی کھبی مغل بادشاہ مقبرے اُکھاڑتے رہے جیسے کہ اکبر بادشاہ نے میر مرتضی شیرازی کا مقبرہ اُکھاڑا اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کرتے رہے جیسے کہ جہانگیر بادشاہ نے نور اللہ شُستری جو کافی عرصہ ہندوستان کے چیف جسٹس رہے لیکن پھر بھی شاہی غضب کا شکار ہوئے اور قتل کر دیئے گئے۔

مغل بادشاہ محمد شاہ کے وقت اودھ کے شیعہ گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشاپوری بہت طاقتور ثابت ہوئے اور فیض آباد سے خاندانِ اودھ کے حکمرانی کی بنیادیں رکھ دیں جو مغل سلطنت کیساتھ ساتھ زوال پزیر ہوتی ہوئی انگریزوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

انگریز دور میں چونکہ سنی شیعہ دونوں برابر غلام تھے اسلئے حالات بہتر رہے لیکن انگریزوں نے کھبی بھی قبائلی علاقوں میں قدم نہیں جمائے، انگریز آتے رہے اور وزیر، محسود، یوسفزئی، مہمند اور طوری قبائل سے مار کھاتے رہے۔ لکھنؤ میں انیسویں صدی کے پہلے تین عشروں میں پانچ دفعہ بڑے پیمانے پر شیعہ سنی فسادات ہوئے اور ان فسادات کی آگ نے اس وقت کرم ایجنسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جب لکھنؤ سے وہ سنی اور شیعہ واپس ہوئے جو ان فسادات میں حصہ لینے گئے تھے، لہٰذا انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔

۱۸۹۰ء میں افغانستان کے متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے مسلسل ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ مل کر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا تھا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۳ء میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور ۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔

کرم ایجنسی میں موجود سب سے بڑا قبیلہ طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور بنگش بھائیوں کیساتھ مل کر اکثریت میں ہیں، ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن “مردِ مومن مردِ حق” ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پ

اکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔

۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔

۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔

۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔

۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔

۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔

۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن سپاہ صحابہ (جو کہ اب اہل سنت والجماعت کے نام سے مصروف بہ جہاد ہے) پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف “یزید نظر” کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں “حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد” کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔

القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کا واحد مسجد سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔

تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جس طرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔ اسکے علاوہ جہاد کشمیر کے ہیرو اور لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔

اسکے بعد پاراچنار میں ہے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔

۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے تو کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی ناکام کوشش کی لیکن صرف لشکر جھنگوی نہیں جو لوگوں کو گمراہ کررہی ہے بلکہ پاکستان اور ہندوستان میں بلاگرز اور کالم نگاروں کا ایک کھیپ تیار ہوا ہے جو شدت پسند دیوبندی نظریات کے حامل ہیں اور ضیاالحق دور میں ان کالم نگاروں کی خوب آبیاری کی گئی، جو ہر دھماکے کے بعد ایران اور شام کا ورد کرتے رہتے ہیں جبکہ شام کی لڑائی ۲۰۱۱ سے شروع ہوئی ہے اور ایران کا انقلاب ۱۹۸۹ کا قصہ ہے، جبکہ کرم ایجنسی میں دہشتگردی سینکڑوں سال سے ہو رہی۔ اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔

کہتے ہیں کہ پاراچنار سے شیعہ بڑی تعداد میں ایران کی مدد کیلئے شام میں لڑنے جا رہے ہیں۔ تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ سمیت جہادی تنظیموں، القاعدہ اور داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نامی گرامی اور مختلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کھبی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار تھے۔ پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور بھرتی کے بعد شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کرم ایجنسی سمیت کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں جنگ زدہ ممالک شام، عراق، لیبیا اور یمن میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد

میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز اور جاوید ابراہیم پراچہ کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، کیونکہ مولانا کے طالبان، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔کرم ایجنسی، پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حوالدار بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے، پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے

کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔ میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ لوئر کرم کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے۔ گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں۔

پاراچنار کے طوری اور بنگش قبائل (شیعہ) اب پرانے زمانے کے بدو قبائل نہیں رہے، کرم ایجنسی میں تعلیم پاکستان کے مقابلے کافی زیادہ ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں شخصیات پیدا کیئے ہیں اور پاک افواج کے جنرل جمال سید میاں سے لے کر ائیر چیف مارشل (ریٹائرڈ) سید قیصر حسین شاہ کے علاوہ نامور عالم دین عارف الحسینی، بیوروکریسی میں علی بیگم اور ڈاکٹر غیور اور بہت سارے انکی واضح مثالیں ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز، بنکرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے امریکہ سے لے آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ محنت کش لوگ ہیں اور وادئِ کرم کی زرخیز زمین سے آلو، گندم، مکئ، ٹماٹر شلجم سمیت مختلف اجناس اور سبزیاں پیدا کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔

روٹی روزی کے پیچھے ڈرائیورز سمیت مزدور طبقہ بڑی تعداد میں خلیجی ممالک کیساتھ ساتھ یورپ، ایران اور عراق میں بھی برسر روزگار ہیں جو رقم کما کر گھر بھیجتے رہتے ہیں اور زرمبادلہ کی صورت میں ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ایران و عراق میں مزدور طبقے سے کچھ بے روزگار اور کچھ اہلبیتؑ پر مر مٹنے والے آخرت سنوارنے کے واسطے شام بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اسلیئے کہتے ہیں کہ غریب کا مذہب روٹی ہے، اگر ان بے روزگار اور غریب و نادار لوگوں کو پاکستان میں روٹی میسر ہوتی تو یہ لوگ ایران جاتے اور نا شام کی خونین لڑائی میں جان ڈالنے کیلئے ایندھن بن جاتے۔

اگر اس پوری تاریخ اور پاکستان کے تاریخ پر سرسری نظر دوڑائیں تو آپ کو پاراچنار کی طوری اور بنگش قبائل کا ایک بھی دہشتگرد نہیں ملے گا۔ پندرہ ہزار کی تعداد میں طوری۔بنگش قبائل متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پزیر ہیں لیکن گزشتہ تیس سالوں سے ایک بھی دہشتگردی کے جرم میں ملوث نہیں پائے گئے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں! آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا مل کر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔

کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی اکثریت شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار، اور چن چن کر شیعہ سینئیر آفیسرز کو قتل کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*