تاریخی واقعات کو قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ سے تلاشنے کا نتیجہ – امجد عباس

1001676_494948357266394_1251617437_n

ہمارے کچھ فاضل احباب نے حضرت علیؑ کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا اِس بنا پر انکار فرمایا ہے کہ اِس حوالے سے کوئی صحیح السند حدیث موجود نہیں، نہ ہی قرآن مجید میں ایسا کوئی تذکرہ ہے، بندہ نے جواب میں عرض کیا کہ تاریخی واقعات کی صحت پرکھنے کے معیارات، فقہی روایات کی پرکھ کے قواعد سے مختلف ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ تمام تاریخی واقعات تب ہی مانے جائیں گے جب احادیثِ صحیحہ میں مذکور ہوں یا قرآن مجید نے اُنھیں بیان کیا ہو، کیونکہ تاریخ کو بیان کرنا قرآن و احادیث کا موضوع ہی نہیں ہے۔۔۔ اِسی حوالے سے ایک واقعہ یاد آگیا، بندہ کو آج سے کچھ سال پہلے، کراچی سے ایک نامعلوم “خیر خواہ بھائی” نے کچھ کتب بھیجیں، ایک کتاب میں لکھا تھا کہ ارشادِ ربانی ہے

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا (سورۃ الفتح، آیۃ 29)
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں (ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی)۔

بنا بر ایں، جنگِ جمل اور جنگِ صفین ہوئی ہی نہیں ہیں، جب قرآنِ مجید فرما رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھی آپس میں رحمدل ہیں تو یہ جنگیں صحابہ کے درمیان کیسے ہو سکتی ہیں!

موصوف “خیر خواہ بھائی” کا ادعاء تھا کہ یہ سبھی واقعات خلافِ قرآن ہیں، لہذا من گھڑت ہیں، احادیث کے حوالے سے لکھا تھا کہ صحاحِ ستہ کے مصنفین عجمی الاصل ہیں، یہ سب اسلام کے خلاف عجمی سازش کے تحت لکھی گئیں، سو یہ قابلِ قبول نہیں ہیں، ہاں سبھی کتبِ تاریخ بھی عہدِ رسالت کے کافی بعد ترتیب دی گئیں، سو قرآن مجید حجت ہے باقی کوئی کتاب حجت نہیں ہے۔۔۔

میں نے ایک کاغذ نکالا اور آداب سے خط یوں لکھا تھا کہ پیارے نامعلوم “خیر خواہ بھائی” آپ کی اِس بات کو مان لیا جائے کہ صرف قرآن مجید ہی تمام واقعات کا ماخذ ہے، کتبِ احادیث و تاریخ کی کوئی وقعت نہیں، یہ بعد میں ترتیب پائیں تو سوائے حضرت زید کے کسی صحابی کا نام لیکر اثبات نہیں کیا جا سکتا۔

میں آپ کی منطق کو مد نظر رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ حضرت علی، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، معاویہ وغیرہ نام کے افراد موجود نہ تھے، کیونکہ قرآن میں اِن کے نام مذکور نہیں ہیں، جن کتب میں اِن کے نام ہیں وہیں اِن کے اختلافات اور مذکورہ بالا جنگیں بھی ذکر ہیں، اب یہ کتب تو لائقِ التفات نہیں ہیں، یہ سبھی کتب بعد میں لکھی گئیں۔
سو صاف انکار کیجیے کہ یہ افراد سرے سے تھے ہی نہیں۔۔۔

تو میرے بھائیو! ہر تاریخی واقعہ کو صرف قرآن مجید اور صحیح السند احادیث سے تلاشو گے تو یہی حال ہوگا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*