اصل کام جو کرنا چاہیے – حمزہ صیاد

hamza-sayyad

پاکستان میں تحریک طالبان اور بعض دوسری انتہا پسند تنظیموں کی وجہ سے ایک بحران پیدا ہو چکا ہے اور اسی بحران نے سنجیدہ اہل علم و دانش کو مکالمے کی طرف متوجہ کیا تاکہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا سکے . بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسا کون سا نظام ہو سکتا ہے جس میں خدا کی بھی رعایت ہو اور اس خدا کو نا ماننے والوں یا اس سے دلچسپی نہ رکھنے والوں کی بھی رعایت ہو، یا زیادہ آسان اور محتاط الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی ایسا نظام ہو جس سے اہل مذہب بھی مطمئن ہوں اور وہ لوگ بھی مطمئن ہوں جو مذھب کو ایک ذاتی اور نجی معاملے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ میرے خیال میں ایسا ممکن ہے لیکن اس کے لیے دونوں فریقین کو کچھ حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا اور کچھ چیزوں پر سمجھوتا کرنا ہو گا….

مذھب کی نمائندگی کرنے والوں کو ریاست کے کسی قدیم تصور کو یکسر اپنے ذہن سے نکالنا ہو گا اور یہ چیز اپنے ذہن میں رکھنی ہو گی کہ ہم ایک جدید عہد میں داخل ہو چکے ہیں لہذا بعض اوصولی نوعیت کے اجتہادات کرنے ہوں گے . اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدائی احکامات کی رعایت ہو تو انہیں فقہ اسلامی کے پورے ذخیرے بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر قرآن و سنت سے براہ راست استفادہ کرنا ہو گا . انہیں ریاست کے کسی مخصوص ڈھانچے پر اصرار کرنے کے بجائے صرف ان ہدایت کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا جو اجتماعی زندگی سے متعلق دی گئی ہیں . انھیں اس طرف بڑھنے سے پہلے صدیوں سے فقہ اسلامی پر چھائے ہوئے جمود کا بندوبست بھی کرنا ہو گا اور اس جمود کی شاید بڑی وجہ زندہ جاوید زندگی سے فقہ اسلامی کا انخلاء بھی ہے۔

اسی طرح لبرل ازم کے علمبرداروں کو بھی یورپ کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے ہاں کے زمینی حقائق کا ادارک کرنا ہو گا . اس چیز کا ادارک کرنا ہو گا کہ یورپ کا لبرل ازم ان کا اپنا ایک مخصوص تجربہ ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ وہاں ایک عرصے تک پاپائیت رہی جس کے ردعمل میں وہاں ایک ایسا نظام لایا گیا جس کی بنیاد میں مذھب دشمنی شامل ہے . اس نظام کی بنیاد ایک انتہائی ردعمل پر ہے۔ اسلامی دنیا ایسے کسی تجربے سے نہیں گزری اور نہ ہی ہمیں ایسے کسی نظام کی ضرورت ہے جو مذھب دشمنی پر مشتمل ہو. ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اہل مذھب نے وہ ظلم ڈھائے ہوں جو وہاں کے رہنماوں نے ڈھائے ہیں اور شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عیسائیوں کے ہاں پوپ کے منہ سے نکلنے والا لفظ ہی قانون ہوا کرتا تھا جب کہ مسلمانوں کے ہاں حکمران بھی قرآن و سنت کے ماتحت ہوتا ہے اور حاکمیت اعلی رب کی ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں کے سیکولر حضرات اگر یہ چاہتے ہیں کہ یہاں ان کی رعایت ہو تو انہیں بھی یہاں کے معاشرے اور تاریخ کی رعایت کرنی ہو گی اور اپنے ذہن سے اس ماڈل کو نکالنا ہو گا جو اس وقت یورپ میں ہے . میرا ماننا یہ ہے کہ اگر اہل مذہب کھل کر اجتہاد کریں تو اس کے بعد کوئی ایسی چیز باقی ہی نہیں رہے گی کہ ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے بس اہل مذہب کو عصر حاضر کی روح کے مطابق اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے . مسئلے کا حل اسی سمجھوتے پر موقوف ہے . اس کے ساتھ ساتھ تنقید بھی جاری رہنی چاہیے کہ اس سے فکر میں اعتدال اور نظر ثانی کا موقع ملتا ہے

Source:

http://www.humsub.com.pk/13098/hamza-sayyad-3/?fb_action_ids=10154170724851155&fb_action_types=og.shares

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*