سوشل میڈیا پر لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کی حمایت میں لکھنے والے تکفیری خوارج کی فہرست

13012740_10207804115635369_5137900826241894479_n

اگرچہ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر سلیم صافی، اوریا مقبول جان، حامد میر، عرفان صدیقی، جاوید چودھری، مجیب الرحمن شامی اور بعض دیگر فرقہ پرست صحافی فقط مسلکی وابستگی کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں، فوج اور پولیس سے بر سر پکار تکفیری دیوبندی خوارج طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی براہ راست یا ڈھکے چھپے لفظوں میں حمایت اور وکالت کرتے ہیں لیکن لبیک یا رسول الله کے دشمن ان خبیثوں کی فیس بک، ویب سائٹس اور بلاگز پر بھی کوئی کمی نہیں، مندرجہ ذیل لوگ اس وقت لشکر جھنگوی اور طالبان کے نرم چہرہ یا سوفٹ فیس کا کام سر انجام دے رہے ہیں اور عوام اہلسنت کو ورغلا کر تکفیری دیوبندی اور تکفیری سلفی وہابی نظریات داخل کر رہے ہیں

رعایت اللہ فاروقی کراچی کے دیوبندی بنوری مدرسہ سے فارغ التحصیل فرقہ پرست مولوی ہے جو کالعدم سپاہ صحابہ (نام نہاداہلسنت والجماعت) کا رکن ہے، وہ اوصاف میں حامد میر کے ساتھ کئی برس تک کام کرتا رہا اور بد نام زمانہ جماعتی جھنگوی اخبار امت میں کئی برسوں تک کالم بھی لکھے، پھر جہان پاکستان سے منسلک رہا، آج کل سعودی امداد سے انکشاف نامی ویب سائٹ بنائی ہے جس پر وہ اہلسنت، بریلوی، شیعہ اور صوفی مسلمانوں کے خلاف غلیظ پراپیگنڈا کرتا ہے

فرنود عالم دیوبندی، رعایت الله فاروقی کا چھوٹا بھائی ہے، وہ بھی سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کے روزنامہ امت کے لئے کالم لکھتا رہا ہے، اس کو تکفیری لابی نے ذمہ داری سونپی ہے کہ اسی ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کرنے والے دیوبندی خوارج کے ساتھ ساتھ اس ظلم میں سنی بریلوی اور شیعہ کو بھی یکساں قصور وار قرار دے – وہ اسی ہزار سے زائد لوگوں کے قاتل دیوبندیوں کے جرائم کو مظلوم سنی بریلوی اور شیعہ کے سر منڈھتا ہے یا جعلی تقابل یا ثنویت یعنی فالس با نری کا ماہر ہے

ایک اور شخص قاری حنیف ڈار ہے جو متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت کی مسجد میں تنخواہ دار ملازم ہے لیکن فیس بک اور مسجد کی خطابت کو دیوبندی اور ناصبی نظریات کی ترویج کے لئے استعمال کرتا ہے – جاوید غامدی کی طرز پر یہ شخص بھی اہلبیت رضی الله عنہم خاص طور پر مولا علی رضی الله عنہ اور امام حسین رضی الله عنہ کا دشمن اور یزید کا طرفدار ہے اور اہلسنت بریلوی کا خاص طور پر دشمن اور اولیا کرام کا گستاخ ہے

فیض اللہ خان دیوبندی ایک بندم زمانہ، سزا یافتہ طالبان پرست ، فرقہ پرست صحافی ہے، اے آر وائی سے منسلک ہے، طالبان اور لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے جرائم میں شریک ہونے کی وجہ سے افغانستان جیل میں ڈھائی ماہ قید رہا اور حمید گل، نواز شریف اور لدھیانوی کی کوششوں سے رہا ہوا، اس کی یکطرفہ داستان اس نے روزنامہ دنیا کے میگزین کے لئے لکھی تھی۔ فیض اللہ خان رپورٹر ہیں، مگر اہلسنت، بریلوی اور شیعہ کے خلاف اپنے تعصب کی وجہ سے بدنام ہے

سبوخ سید دیوبندی ایک اور فرقہ پرست دیوبندی کالم نویس ہے جو دیوبندی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہے اور ماضی میں سپاہ صحابہ، جیش محمد اور طالبان میں کام کر چکا ہے، ٹی وی چینلز سے بھی وابستہ ہے جہاں پر یہ غیر محسوس طور پر طالبان اور سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کے نظریات کا پرچار کرتا ہے اور ظالم تکفیری دیوبند خوارج اور مظلوم سنی، بریلوی اور شیعہ کو ایک پلڑے میں رکھ کر حساب برابر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سبوخ دیوبندی اپنی ویب سائیٹ آئی بی سی (اسلامی دیوبندی براڈ کاسٹنگ) بھی چلا رہا ہے جہاں پر خوب کاپی پیسٹ اور چوری کا استعمال ہوتا ہے

جماعت اسلامی، سپاہ صحابہ، القاعدہ اور داعش کے حق میں ملفوف لکھنے والوں میں جماعت اسلامی سوشل میڈیا کا سابق انچآرج شمس الدین امجد دیوبندی نمایاں ہے، جماعت اسلامی سے اس کا تعلق ہے لیکن حق نواز جھنگوی اور ملا عمر کو یہ اپنے قائدین میں شمار کرتا ہے، اس نے مشعل اور فیک انکاؤنٹر ایکسپوزڈ کے نام سے لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کی حمایت میں انتہائی خطرناک، فرقہ پرست ویب سائٹس اور فیس بک پیج بنائے ہیں جہاں پر یہ معصوم، پر امن اہلسنت کو تکفیری دہشت گرد بنانے کا کام کر رہا ہے اس کام میں اس کے ساتھ اسد واصف دیوبندی، غلام اصغر ساجد المعروف ڈاکٹر غیث المعرفہ، سید متین احمد شاہ دیوبدی اور افضل لال بجھکڑ آف سوہنی دھرتی بھی شامل ہیں، مانچسٹر برطانیہ میں موجود کالعدم سپاہ صحابہ کا حامی مولوی صاحبزادہ ضیاء دیوبندی بھی اسی گروہ میں شامل ہے

Comments

comments