شیعہ نسل کشی اور ہماری خاموشی – سید حسن

12928339_10154085561449561_7957093473071503868_n

یہ بات نئی نہیں کہ ملک پاکستان میں ایک عرصہ سے ایک خاص مکتبہ فکر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو مرنے والا نوجوان ہو کہ بوڑھا مارنے والا یہی سوچ کے مار رہا ہے کہ میں تو ایک خاص قوم کو نشانہ بنا رہا ہوں۔ مزے کی بات کہ یہ سب کرتے ہوئے اسے کسی قسم کی ندامت بھی نہیں بلکہ وہ اس بات کو اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتا ہے۔

پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ شہر قائد میں ناگن چورنگی کے قریب بائک کو روکا جاتا ہے اور رکوانے والا پہلے نام پوچھتا ہے۔ جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ افراد ایک خاص فکر سے تعلق رکھتے ہیں انہیں موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ مرنے والے کو یہ تک نہیں پتا کہ اسے کیوں مارا جا رہا ہے؟ آخر انکا قصور کیا ہے؟ کیا ایک خاص سوچ و فکر سے تعلق رکھنا ہی ہماری موت کی دعوت کے لیے کافی ہے؟ روز کی بنا پر انجنئرز ڈاکٹرز پروفیشنلز کو مار دیا جاتا ہے۔ جب کے نہ تو انکی کوئی سیاسی وابستگی نہ کسی سے دشمنی اور نہ کوئی اور خاص وجہ۔ وجہ ہے تو بس شیعہ ہونا۔

یہ سلسلہ خیر نیا تو نہیں اس سے پہلے کافی سانحات دیکھ چکے ہیں۔ عاشور کا بم دھماکہ عباس ٹاون، ہزارہ کمونیٹی پر حملہ علمدار چوک، کربلہ گامہ شاہ لاہور، اور راجا بازار کا سانحہ اور اس جیسے درجنوں حملہ اب تک ہو چکے ہیں۔ جس میں ہزاروں لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ مگر جو ضروری بات ہے وہ ہے کہ “اخر ہم کیوں خاموش ہیں؟” ایسی کیا وجہ ہے کہ ہم کچھ بولتے نہیں۔ اگر میرے پڑھنے والے اس بات کو سوچ رہے ہوں کہ میں شیعہ قوم کی جانب سے دیے گئے دھرنوں کو بھول رہا ہوں تو بھائی ایسا نہیں ہے۔ میں بھولا نہیں ہوں مگر حقیقت یہی ہے کہ ان دھرنوں کے بعد شیعہ نسل کشی رک سکی؟ اپکا بھی یہی جواب ہے کہ “نہیں”۔ امام حسینؑ کا قول ہے کہ

“ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی ہی قربانی دینی پڑے گی”

اب اپنے امامؑ کا یہ قول دیکھ لیں یا پھر اسی طرح خاموشی سے جنازہ اٹھاتے رہیں۔ اپ کی یہ خاموشی اپ خود کے لیے پریشانی اور مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ اور یاد رہے کہ ایک قولِ معصومؑ کچھ یوں ہے کہ “ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والا خود بھی ظالم ہی کہلائے گا”۔ اب اپنے اپ کو ظالم کہلوائے گے یا اس ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھاو گے؟

کس چیز کا خوف ہے لوگوں؟ مرنے کا کہ مار دیے جاو گے؟ مرنا تو ویسے ہی ہے۔ بقول قرآن “کل نفس ذائقہ الموت”۔ یہاں امامؑ حسین کا ایک اور قول یاد آگیا کہ

“اگر ذندگی کا آختتام موت ہی پر ہے تو اس کا بہترین انتخاب شہادت ہے”

ائے میرے قوم کے نوجوانوں اگر اج تم خاموش رہو گے تو آئندہ آنے والی نسل تمہیں کوفی و شامی کہے گی۔ یاد رکھنا امامؑ سے محبت کا اظہار آسان ہے بنسبت انکے سچے پیروکار بننے کے۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ خاموشی کی زنجیر سے آزاد ہو کر اپنے حق کی لڑائی لڑو۔ شکریہ

Source:

http://baghitiger.blogspot.com/2016/04/blog-post.html

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*