پاکستان دہشت گردی کو 90 دن میں ختم کر سکتا ہے – چوہدری محمد راشد

پاکستان دہشت گردی کو 90 دن میں ختم کر سکتا ہے – چوہدری محمد راشد

12417512_10154048472694561_2445769554471226105_n

ملک پاکستان کو تمام دینی مدارس، مسجدوں کو حکومتی کنٹرول میں لے کر تعلیمی نظام کا حصہ بنا دینا چاہیے۔ حکومتی اختیار، اجازت کے بغیر کوئی فتوی، رسالہ جاری نہیں ہونا چاہیے- ہر فرقہ وارانہ، دہشت گردی کی ترویج والا مواد مدرسوں سے ہٹا دیا جائے، ہرہر مولوی، مولانا، قاری کو حکومتی تعلیمی اداروں میں بطور اساتذہ یا ملازم بھرتی کیا جائے، ایک مقررہ تنخواہ دی جائے اور جب جہاں حکومت تعینات کرے اسے وہیں تک محدود کر دیا جائے- تاکہ ہر مدرسہ، مسجد حکومتی نگرانی میں بغیر فرقہ واریت، دہشت گردی کی ترویج کے چل سکے۔

ملک پاکستان میں ہرہر فرقہ پرست مولوی، ملاں، مولانا، مفتی قرآن پاک کی آیات سے روگردانی کرتا ہے
پاکستان میں ہر مولوی، ملاں، مفتی، مولانا فرقہ پرست ہے۔ جب کہ اسلام میں فرقہ پرستی کی ممانعت ہے۔

قرآن پاک میں حکم ہے:
اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لواور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (۳/آل عمران:۱۰۳)

اگرچہ مولوی حضرات فرقہ پرستی کا جواز ایک حدیث کا حوالہ دے کر پیش کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کے 72 فرقوں میں بٹ جانے کو قیامت کی نشانی بتایا گیا تھا۔ لیکن کسی صورت میں، کسی حوالہ سے فرقہ پرست مولوی فرقہ پرستی کو اسلام کے عین مطابق ثابت نہیں کر سکتے۔

قیامت کی نشانی کی وقعت قیامت کے نزدیک اس کا ہونا تو ہو سکتی ہے لیکن قیامت کا خود رسول اکرم صلی االلہ علیہ وسلم نے نہیں بتایا کہ کب آئے گی۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں قیامت کی بہت ساری نشانیوں کا ذکر ہے۔

جیسے: قیامت کے ںزدیک اللہ تعالی کے ماننے والے یا نام لیوا بہت کم ہوں گے

تو کیا فرقہ پرست مولوی کی احادیث استعمال کرنے کی پہلی دلیل کے مطابق مسلمان اپنے خدا کا نام لینا چھوڑ دیں؟

ایک اور قیامت کی نشانی یہ ہے کہ: زنا عام ہو گا
تو کیا فرقہ پرست مولوی اب زنا عام کرنے کا بولیں گے۔

یہ جواز دینا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے نزدیک کچھ ہو گا اس کو کرنے کا حکم ہرگز نہیں ہے-مسلمانوں کو قیامت کی نشانیاں تو ان سے بچنے کے لیے بتائی گئی تھیں اور جاہل فرقہ پرست مولویوں نے ان کو اپنانا شروع کردیا۔ جہالت کی انتہا ہے۔

پاکستان میں مذہبی قتل و غارت، ملاوں کی زور زبردستی، دوسرے عام مسلمانوں کو دھونس دھمکی، کافر کہنے کی فیکٹریاں شرپسندی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر فرقہ وارانہ جاہلوں کا نشانہ معصوم پاکستانی مسلمان، پاکستانی عوام، فوج کے جوان دھماکوں، فائرنگ کے واقعات میں بنے۔ جو کہ یقینا ان فرقہ وارانہ عناصر کا بیرونی عناصر جیسے بھارت، افغانستان جیسے کھلے دشمن اور امریکہ جیسے چھپے دشمن کی جانب سے استعمال کی وجہ سے ممکن ہوا۔

سب کا توڑ سب سے پہلے فرقہ واریت پر ہر فرقہ پرست کو کڑی سے کڑی سزا، ایک مسلمان کو دوسرے مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے پر پکڑ، فرقہ وارانہ گروہ، اجتماعات پر پابندی میں ہے۔