اوریا مقبول جان، جاوید چودھری، سلیم صافی اور دیگر تکفیری دیوبندی کالم نویس دہشت گردوں کی مارکیٹنگ کب تک رتے رہیں گے؟ – از بلال رشید (روزنامہ دنیا)

taliban-fighters7

خوفناک حقائق کی دھوپ میں پاکستانی قوم خوش فہمی کے پیڑ تلے آنکھیں موندے لیٹی ہے۔ دوسری طرف واعظ ہیں، بدلتی ہوئی دنیا میں جو مذہب کی درست تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے ہی ایک محترم بزرگ نے یہ فرمایا ہے کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں، ہندو لڑکیوں کو لونڈی بنانے کا شرعی حق ہمیں حاصل ہے۔ یہ ایک سابق سرکاری افسر ہیں۔ شہباز تاثیر کی رہائی پر انہوں نے افغان طالبان کو اخلاقی سربلندی کا مینار قرار دیتے ہوئے دہشت گرد مخالف حلقوں پہ تبرہ بازی کی ہے۔ اس سے قبل کرنسی نوٹوں کو وہ انسانیت کے خلاف ایک عظیم سازش قرار دیتے رہے ہیں۔ سبھی کہیں نہ کہیں مغالطوں کا شکار ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب مذہب کی اس قدر اوٹ پٹانگ تشریح کرنے والے درس جاری کرنے کے لیے آزاد ہوں‘ عوامی سطح پر پذیرائی انہیں حاصل ہو اور قوم رہنمائی کے لیے ان کی طرف دیکھتی ہو تو اس کے سوا اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ نظریاتی میدان میں ہم ہار رہے ہیں۔ لگتا ایسا ہے کہ اگلے ایک عشرے میں مزید زخم اس قوم کو لگیں گے۔ اس کے بعد ہی پوری طرح وہ بیدار ہو گی۔
 
اسلام میں شدّت پسندی نہیں۔ آپ میثاقِ مدینہ دیکھیں، دورانِ قحط چوری کی سزا منسوخ ہونا یا شراب نوشی کی بتدریج ممانعت، ہر کہیں آپ کو حکمت نظر آتی ہے۔ آج سے پندرہ صدیاں پہلے تمام آدمیت دو گروہوں میں منقسم تھی: آزاد اور غلام۔ غلام جنس کی طرح بازاروں میں فروخت ہوا کرتے۔ آپ گہرائی میں غور کریں تو نہایت حکمت کے ساتھ اسلام نے غلاموں کے حقوق‘ آزاد کے برابر کیے۔ فرمایا: جو خود کھائو، انہیں کھلائو۔ جو خود پہنو، انہیں پہنائو۔ ان کے اخراجات، ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا۔
آج بھی ہم جو خود کھاتے ہیں، گھر میں کام کرنے والے ملازموں کو وہ نہیں کھلاتے۔ جب ایک غلام خاتون کو وہی سب سہولیات دینے کا حکم جاری ہوا، جو مالک اپنے لیے پسند کرتے تو اس صورت میں وہ گھر کی ایک فرد ہی بن جاتی۔ دوسری طرف غلام آزاد کرانے والے کو عظیم اجر کی نوید سنائی گئی۔ یوں وہ حالات پیدا کیے گئے، جن میں بتدریج غلامی ختم ہوتی چلی جائے۔ آج اس کرّۂ ارض پر جب انسانوں کی خرید و فروخت ختم ہو چکی، تمام ممالک نے اسے ممنوع قرار دے دیا، اس صورتِ حال میں ہمارے عظیم شارح اسلام کا خیال یہ ہے کہ ہندو لڑکیوں کو غلام بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اسلام حکمت پر زور دیتا ہے۔ بار بار وہ کہتا ہے: تم سوچتے کیوں نہیں، غور کیوں نہیں کرتے؟ اب ایک لمحے کے لیے ذرا سوچیے کہ اگر ہم ہندو خواتین کو لونڈیاں بنانا شروع کریں‘ تو ساری دنیا میں پاکستان کس قدر رسوائی کا شکار ہو گا۔ غیر اللہ کو خدا ماننا اسے کس قدر ناگوار ہے، اس کے باوجود حکمت پہ اس قدر اصرار ہے کہ فرمایا: تم ان کے خدائوں کو برا بھلا نہ کہو ورنہ وہ تمہارے سچے پروردگار کو برا کہیں گے۔
اسلام نے کبھی کسی مفید ایجاد کی مزاحمت نہیں کی۔ کرنسی نوٹوں کا مقصد تبادلے کے نظام (Barter System) میں آسانی پیدا کرنا تھا۔ آپ علاج کے بدلے معالج کو گندم دینا چاہیں تو کیسی مشکلات پیدا ہوں گی۔ ہر جنس میں اعلیٰ سے ادنیٰ کے بے شمار معیار ہوتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو بھانت بھانت کی بے شمار اجناس ایک ٹرک میں لاد کر گھر لے جانا ہوں گی۔ آپ کو تنقید کرنی ہے تو سودی بینکاری پہ کیجیے، سودی معیشت پہ کیجیے۔ اس بات پہ زور دیجیے کہ حکومت کو بہرحال سونے کے مقررہ ذخائر اپنے پاس رکھنے چاہئیں۔ زائد نوٹ جاری نہیں کرنے چاہئیں‘ لیکن الٹا آپ کرنسی کے نظام کو لپیٹنا چاہتے ہیں۔
 
میں اور مجھ جیسے کتنے ہی لکھاری چیختے رہے کہ مذاکرات میں وقت ضائع نہ کیجیے۔ نیک محمد سمیت، ماضی کے سارے معاہدے دہشت گردوں نے توڑ دیے تھے۔ سید منور حسن، عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور سمیع الحق کے علاوہ یہی صاحب اپنے ہمنوائوں کے ساتھ اس آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ نتیجتاً شمالی وزیرستان آپریشن کے خلاف قوم یکسو ہو گئی۔ اس دوران دہشت گرد قیادت افغانستان فرار ہو گئی۔ میاں محمد نواز شریف اقتدار سنبھالتے ہی شمالی وزیرستان آپریشن کا حکم دیتے تو طالبان کی صفِ اوّل کی قیادت ماری جاتی اور شاید آرمی پبلک سکول اور چارسدہ کے سانحات پیش ہی نہ آتے۔ نظریاتی سطح پر قوم کو بری طرح کنفیوژ کرنے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی قوم سے معافی نہیں مانگی۔ ستم ظریفی کی حد یہ تھی کہ طالبان کہلانے والے خارجیوں نے اپنی طرف سے انہیں بطور مذاکرات کار نامزد کیا۔
 
اب وہ افغان طالبان کی عظمت کا پرچم بلند کرنے نکلے ہیں۔ یکے بعد دیگرے دو افغان جنگوں میں پاکستان کی طرف سے امریکی حمایت ہمارے قومی مفادات کی ضرورت تھی۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، افغان طالبان کہیں سے بھی اسلام کے نمائندے نہیں۔ اسلام تعلیم اور اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ جس چیز سے نرمی نکل جائے، اس میں سے خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔ طالبان میں تو نرمی نام کی کوئی چیز سرے سے پائی ہی نہیں جاتی۔ افغانستان پر امریکی حملے کا سب سے بڑا سبب وہ خود ہیں۔ وہ اسامہ بن لادن کو ملک بدر کر دیتے تو حملہ ٹل سکتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اپنی قوم کو سوائے وحشت کے انہوں نے کیا دیا؟ القاعدہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔ اپنے حملوں میں نہتّے بے گناہ افراد کو قتل کیا۔
کم عمر لڑکوں کو خود کش حملہ آور بنایا۔ وہ خوارج ہیں اور افغان طالبان خوارج کے حمایتی و مددگار۔ آج انہی طالبان میں سے بے شمار داعش میں شامل ہو چکے ہیں اور اب دونوں گروہ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ ملا عمر کی جانشینی کے مسئلے پر کتنی قتل و غارت ہوئی۔ عراق کی گلیوں میں کم سن لڑکیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔ ہمارے ریٹائرڈ سرکاری افسر و دانشور بھائی اس پہ بھی ذرا روشنی ڈالیں۔ جہاں تک شہباز تاثیر کی رہائی کا تعلق ہے تو اس کی حقیقت اتنی ہی ہے کہ افغان طالبان میں سے بعض گروہوں پر پاکستان اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ اسی لیے جولائی 2015ء میں مری میں مذاکرات کا اہتمام ہوا تھا۔
نظریاتی سطح پر اس قدر کنفیوژن، عوام میں اس گمراہ کن پروپیگنڈے کی اس قدر پذیرائی کا ایک ہی مطلب ہے۔ میں پہلے بھی یہ کہتا رہا ہوں کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں کے طفیل پاکستان عراق اور شام بننے سے بچ گیا ہے۔ شہروں پہ طالبان قبضہ نہیں کر سکتے لیکن اگلے دس برس میں اکّا دکّا حملے جاری رہیں گے۔ یہ حملے انتہائی خوفناک بھی ہو سکتے ہیں۔ بہرحال یہ جنگ ہم اس وقت تک مکمل طور پر نہیں جیت سکتے، جب تک ہمارے دانشور دہشت گردوں کی مارکیٹنگ کرتے رہیں گے۔
Source:

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*