سعودی عرب و اسرائیل لبنان میں شیعہ – سنّی لڑائی چاہتے ہیں – حسن نصراللہ سیکرٹری جنرل حزب اللہ

p02_20160302_pic1

لبنان کی سب سے بڑی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے لبنان کے عوام کے نام ایک کھلا خط شایع کیا ہے – اس خط میں حسن نصراللہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے لبنان کے خلاف ہونے والی سازشوں پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی ، انہوں نے اپنے خط میں لکھا

ہم تمہارے ( آل سعود ) کے جرائم پر خاموش نہیں رہیں گے – تمہارا ( سعودیوں ) کو ہم سے مسئلہ ہے نہ کہ حکومت سے نہ فوج سے ، ہم ہیں جو ان کی نظر میں کٹھکتے ہیں

حسن نصر اللہ نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس ان فون نمبرز کا ریکارڈ ہے جو کہ ریاض سے گزشتہ تین سالوں ميں لبنان میں کار بم دھماکوں کے لئے استعمال ہوتے رہے

سعودی عرب نے حزب اللہ تنظیم کو مڈل ایسٹ میں موجود ملکوں سے دھشت گرد تنظیم قرار دلوانے کی مہم چلارکھی ہے اور سعودی عرب خزب اللہ کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتا ہے –لیکن حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ان کوششوں سے زرا پریشان نہیں ہے – حسن نصر اللہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت بارے موقف سے انچ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے اور ان کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں ہونے والے یمن پر فضائی حملے کے دوسرے دن انہوں نے جو تقریر کی تھی وہ ان کی زندگی کی بہترین تقریر تھی

لبنانی میڈیا سمیت انٹرنیشنل میڈیا میں آنے والی خبروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حزب اللہ جو اس سے پہلے میڈیا میں براہ راست سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتی تھی اب اس نے خاموشی کی پالیسی کو ترک کرڈالا ہے – حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ” تحریک مزاحمت ” پر حملے اور اس کی جارحانہ فضا نئی نہيں ہے – 2006ء میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور جنگ مسلط کی تو سعودی عرب نے اس حملے کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا اور پھر شام کے علاقے قلمون سے لیکر بیکا تک اور جنوب کے گردونواح میں جتنے بم دھماکے ہوئے سب کے سب ریاض سے کنٹرول ہوئے ، مرے پاس فون نمبرز ہیں ریاض کے

حسن نصراللہ کا کہنا تھا

سعودی عرب اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ شیعہ اور سنّی آبادی کے درمیان کشیدگی اور لڑائی ہوجائے اور ان کی جماعت ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی –اب مئی 7 یا ٹی شرٹ بلیک جیسے واقعات دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملیں گے- حسن نصراللہ نے لبنانی سعودی نواز ٹی وی چینل ایم بی سی پر حسن نصراللہ کا مذاق اڑانے والی ایک فلم کے چلنے پر بعض اعتراض کرنے والوں کی جانب سے فرقہ پرستانہ نعرے لگانے کے عمل کی سخت مذمت کی اور ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مسلم مکتبہ فکر کے شعائر اور ان کے مروجہ ثقافتی علامات کی توھین قابل برداشت نہیں –ان کا کہنا تھا کہ تحریک مزاحمت کو کسی بھی صورت میں فرقہ پرستانہ لڑائی مين بدل جانے سے بچانا بہت ضروری ہے اور اس طرف جانے سے گریز کیا جآئے چاہے تنقید کا نشانہ حزب اللہ اور اس کے سربراہ حسن نصراللہ ہی کیوں نہ ہو

حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری نے علی فیاض سمیت الیپو محاصرے کے دوران شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی – اس محاصرے سے داعش کی سپلائی لائن کو کاٹ کر رکھ دیا تھا اور پھر اسے شامی افواج اور حزب اللہ نے آزاد کرالیا

سعودی عرب کی جانب سے لبنان بارے سخت بیانات اور اقدامات اٹھائے جانے کا انہوں نے تفصیلی تجزیہ کیا –ان کا کہنا تھا کہ فروری کی انیس تاریخ اور سال 6201ء سے سعودی عرب نے ہم پر فنڈز اکٹھے کرنے پر پابندی لگائی اس وقت سے لیکر ابتک ہم سعودی عرب کے ساتھ پنجہ لڑانے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں –ان کہ کہنا تھا کہ ابتک جتنے بھی واقعات ان کے سامنے آئے سب کا بغور تجزیہ کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی شدید خواہش ہے کہ لبنان کے سنّی اور شیعہ باہم بدست و گریباں ہوجائیں – ایم بی سی چینل پر حسن نصراللہ کے بارے میں چلنے والے فکاہیہ فلم بارے آنے والے بعض شیعہ نوجوانوں کے ردعمل کو انہوں نے غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ردعمل نے ” مئی 7 ” یا ” بلیک شرٹس ” والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوھرائے جانے کے پروپیگنڈے کو تقویت دی

حسن نصر اللہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ شام میں لڑائی رک جائے اور جنگ بندی قائم رہے اور شام کے ایشو کا سیاسی حل نکل آئے لیکن ترکی اور اسرائیل ایسا نہیں چاہتے – شاید امریکہ بھی – ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور سعودیوں کے درمیان جو ہورہا ہے اس میں غیرجانبدار رہے –ان کا کہنا تھا کہ ہم لبنانی پارٹی التیار المستقبل 14 کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں اور ہم حکومت سے مستعفی ہونے کے خواہش مند نہیں ہیں اور ہمارا حکومتی اتحاد میں رہنا قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر ہے

انہوں نے حزب اللہ کے عہدے داروں کو ہدائيت کی کہ جنہوں نے بی سی ایم ٹی وی چينل کے خلاف جلوسوں میں شرکت کی ان نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت کی جائے اور انہوں نے سعودی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کی کال کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایک تو اس سے ملک میں شورش کا خطرہ بڑھ جائے گا اور دوسرا ان قاتلوں کا مقصد پورا ہوگا جنھوں نے شیخ نمر کو پھانسی دی اور ان کا مقصد شیعہ – سنّی آگ بھڑکانا تھا – ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کسی بھی مسلک کی مقدس شخصیات اور مقامات کی توھین کا ارتکاب کرتے ہیں وہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مقاصد پورا کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں

حسن نصراللہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کی اشد خواہش ہے کہ وہ لبنان میں بھی ویسے ہی حالات پیدا کریں جیسے شام میں پیدا کئے گئے ہیں – لیکن حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ وہ سول وار کے تجربے سے گزرے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مقاصد پورے نہیں ہونے دئے جائیں گے اور سعودی عرب کی دھمکیاں دھمکیاں ہی رہ جائیں گی – ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف شیعہ اور سنّی برادریوں کے درمیان عدم اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ وہ لبنان کی دیگر مذھبی برادریوں کو بھی گمراہ کرنے اور ان کے درمیان عدم اتفاق کے لئے کوشاں ہے

حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب ” عرب شناخت ” کی بات کرتا ہے تو کیا لبنان کی عرب شناخت کہیں گم ہوگئی ہے ہم بھی اتنے ہی عرب ہیں جتنے سعودی عرب یا ان کے اتحادی ہیں – ان کا کہنا تھا کہ عرب شناخت اگر عزت و اخترام کا تقاضا کرتی ہے تو آل سعود بحرین میں ٹینک نہ بھیجتے اور یمن کی عوام پر حملہ آور نہ ہوتے ، اسی طرح شام میں فرقہ وارانہ سول وار کی سازش نہ کی جاتی ، انہوں نے کہا کہ ” پین عرب ازم ” یا ” پین سنّی ازم ” کا آل سعود کا نعرہ فراڈ اور دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے – یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے خلاف حزب اللہ خاموش نہیں ہوگی اور ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے

http://www.al-akhbar.com/node/253357

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*