تکفیری دیوبندی منافقت اور پشاور حملہ – خرم زکی

12417823_10153762197672435_7122733109538718346_n

ذرا غور سے اس دیوبندی مولوی کی گفتگو سنیں۔ کس خوبصورتی کے ساتھ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا سارا الزام اور ملبہ پاکستان کی مسلح افواج پر ڈال دیا گیا اور پوری گفتگو میں ایک دفعہ بھی کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ طالبان کی مذمت تو درکنار ان کا نام بھی نہیں لیا گیا بلکہ یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی گئی کہ اس تمام دہشتگردی کا مدارس و مولویوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

ہم مولوی صاحب کے اس مطالبے کو قبول کرتے ہیں کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورکے حوالے سے ہونے والی سیکیورٹی اور انٹیلیجینس کی ناکامی کی تحقیق ہونی چاہیئے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیئے لیکن جس طرح سے مولوی صاحب نے اس واقعہ کا سارا ملبہ مسلح افواج پر ڈالنے کی کوشش کی ہے اس سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ یہ بات واضح ہے کہ کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گرہوں نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور یہ تکفیری دیوبندی گروہ کبھی اسلام کے نام پر، کبھی جہاد کے نام پر، کبھی افغانستان کے نام پر، کبھی امریکہ کے نام پر، کبھی ڈرون اٹیک کے نام پر، کبھی کفر، شرک، بدعت کے نام پر، کبھی شیعہ سنی کے نام پر، پاکستان کی مسلح افواج اور عام پاکستانیوں پر مسلسل دہشتگرد حملے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

یہ تکفیری آئڈیالوجی جس کا منبع سعودی عرب اور یہی تکفیری دیوبندی و وہابی مدارس ہیں اس دہشتگردی کی اصل ذمہ دار ہے جس کا ذکر تک کرنا مولوی صاحب بوجوہ اپنی تقریر میں مناسب نہ سمجھا۔ سیکیورٹی اور انٹیلیجینس کی ناکامی ایک بعد ہے اور واقعہ کی ذمہ داری دوسری بات۔ اس میں کوئی شبہ نہیں آرمی پبلک اسکول پر حملہ security failure تھا ایسے ہی جیسے جی ایچ کیو، نیول بیس کراچی اور دیگر اہم تنصیبات پر حملہ بھی سیکیورٹی اور انٹیلیجینس کی ناکامی تھا لیکن اس ناکامی سے یہ تاثر دینا کہ فوج خود ان حملوں کی ذمہ دار ہے اور یہ دہشتگرد گویا آسمان سے نہیں اترے بلکہ خود بلوائے گئے تھے محض ایک الزام ہے اور انتہائی سنگین الزام ہے۔

جن تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو بچانے کے لیئے اور جن کا نام لینے سے گریز کرنے کے لیئے مولوی صاحب نے یہ بات کی وہ خود کھلے عام اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر چکے بلکہ ان معصوم بچوں، طالب علموں اور اساتذہ کے قتل کی “شرعی تاویلیں” بھی پیش کر چکے۔ کیا یہ تاویلیں کسی یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہیں ؟ سیکیورٹی اداروں پر سیکیورٹی ناکامی کی بناء پر تنقید بجا لیکن کیا وجہ ہے کہ واقعہ کے اصل ذمہ دار کالعدم دہشتگرد طالبان، ملا فضل اللہ، شیخ خالد حقانی، حافظ گل بہادر، منگل باغ اور دیگر تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا گیا ؟

حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کرنے والوں میں سے کسی کا تعلق مدرسے سے نہیں۔ کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ؟ کیا شیخ خالد حقانی دارالعلوم اکوڑہ خٹک کا فارغ التحصیل نہیں ہے ؟ کیا یہ وہی شخص نہیں جو ریاست پاکستان کے آئین وقانون کو کفر ٹہراتا ہے ؟ کیا یہی تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اس سے پہلے جی ایچ کیو سے لے کر کراچی ایئر پورٹ تک مختلف حساس تنصیبات کو نشانہ نہیں بنا چکا ؟

مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت میں بھی گفتگو کی۔ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان اور اس کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک رکھا گیا اور ان کو ان کے جائز آئینی و قانونی حقوق نہیں دیئے گئے۔ ہم سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور ماوارائے عدالت قتل کی بھی مذمت کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کر دیں کہ یہ محض آدھا سچ ہے۔ مولوی صاحب کو یہ بھی بتانا چاہیئے تھا کہ یہی علیحدگی پسند گروپ بلوچستان میں موجود عام پنجابی پٹھان مزدوروں کا بھی قتل عام کرتے ہیں، ان کے گلے بھی کاٹتے ہیں، ان بلوچوں کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے علیحدگی پسند نظریہ کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی بھی مذمت ہونی چاہیئے۔

مولوی صاحب یہ بھی بتانا بھول گئے کہ بلوچستان میں جاری اس علیحدگی کی تحریک کو انڈیا کی براہ راست حمایت حاصل ہے اور یہ کوئی پاکستانی حکومت و اسٹیبلشمینٹ کا پروپیگینڈا نہیں بلکہ انڈین نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دیول کی تقریر ریکارڈ پر موجود ہے اس حوالے سے۔ مولوی صاحب شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی اور سنی بریلوی و صوفی حضرات کے قتل عام کے ان ہزاروں واقعات کا ذکر کرنا بھی بھول گئے جن کی ذمہ داری ان ہی مسلک سے وابستہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہوں نے قبول کی ہے۔ کیا سانحہ داتا دربار اور سانحہ نشتر پارک کراچی کی ذمہ دار بھی فوج ہے ؟

کیا یہ دونوں واقعات بھی کینٹونمینٹ کے علاقوں میں رونما ہوئے تھے ؟ کیا مفتی سرفراز نعیمی شہید کی سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی فوج کے پاس تھی ؟ کیا مولانا جان محمد شہید، جن کو خود کش حملوں کے خلاف فتوی دینے پر ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے شہید کیا، کی سیکیورٹی بھی فوجی اداروں کے پاس تھی ؟ کیا انہی مولوی صاحب کی جماعت جمعیت علماء اسلام نے کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ انجمن سپاہ صحابہ کے سرغنہ حق نواز جھنگوی کو جو 1988 کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں ٹکٹ دیا تھا اس کی ذمہ دار بھی فوج تھی ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ انہی مولوی صاحب کی جماعت نے آج تک طالبان، لشکر جھنگوی اور انجمن سپاہ صحابہ کی مذمت نہیں کی ؟ کیا اس کی ذمہ دار بھی فوج ہے ؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*