شرک و بدعت کی فتویٰ فیکٹریوں سے چند سوال

 

1460000_10153803750819561_6183506122736523942_n

گذشتہ دنوں فیس بک کے کچھ تبلیغی اور پکے سچے مسلمان پیجز پر لگائی گئیں چند تصاویر نظر سے گذریں۔ تصاویر صوفی سنی اور شیعہ حضرات کے مقامات مقدسہ یعنی اولیاء کے مزارات اور اہلیبیت اطہار (ع) کے روضہ مبارک کی تھیں جن میں اِن مقامات کے منتظمین زائرین اور عقیدتمندوں کی طرف سے نذر و نیاز لنگر اور اِن مقامات کے انتظامی اُمور و اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے کی نیت ڈالے گئے پیسوں کو گن رہے تھے۔ تبلیغی حضرات نے حسب معمول اِن تصاویر کے نیچے جلی حروف میں تبلیغ فرما رکھی تھی کہ

کیا یہ اسلام ہے؟
کیا یہ کمائی کا ذریعہ نہیں؟
کیا یہ بدعت نہیں؟
کیا کسی صحابی نے ایسا کیا؟ وغیرہ وغیرہ

یہ سب دیکھ کر سب سے پہلے تو میں نے دل ہی دل میں اِن مقاماتِ مقدسہ کے منتظمین کی صاف نیت اور خلوص کو خراج تحسین پیش کیا کہ غلط کام اور چوری ہی چھپ کر کیئے جاتے ہیں، جس کا دل اور نیت صاف ہو اُسے فتوے باز تبلیغیوں کی پرواہ نہیں ہوتی۔ نہ ہی یہ رقم کسی کو ذبح کرنے میں استعمال ہوتی ہے اور نہ کسی مسجد، امام بارگاہ یا مزار کو خون میں نہلانے کیلئے۔ البتہ اگلے ہی لمحے میں نے سوچا کہ اِن پر خلوص اور بے ضرر لوگوں پر بدعت اور کمائی کرنے کے فتوے صادر کرنے والوں میں اتنی جرات ہے کہ کبھی اپنے مدارس، مساجد اور تنظیموں کو ملنے والے بیرونی چندے کی تفصیلات اِس تشریح کے ساتھ فیس بک پر پیش کر سکیں کہ کیا:

* سعودی عرب سے چندہ لینا اسلام ہے؟
* کیا سعودی فنڈنگ سے دہشتگردی پھیلانا بدعت نہیں؟
کیا تبلیغ، دفاع صحابہ، دفاع حرمین اور سعودی دلالی کے ذریعے ریال وصول کرنا اور پھر آپس میں مناسب تقسیم نہ ہونے پر آپس میں لڑنا بدعت نہیں؟
* کیا فنڈنگ لیکر جھٹلانا کہ ہم کوئی فنڈنگ نہیں لیتے فعل حرام نہیں؟

ہو سکے تو اگلی بار کسی سلفی یا دیوبندی تنظیم کے بیرونی فنڈنگ کی تفصیلات فیس بک پر پیش کیجے گا کیونکہ چھپا کر صرف وہ کام کیا جاتا ہے جو غلط ہو۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*