کیا لشکر جھنگوی ایک تکفیری دیوبندی گروہ نہیں؟ قاسمی صاحب سے ایک دلچسپ مکالمہ – از عامر حسینی

 

12366230_10153769993164561_36535365274513829_n

جمعیت العلمائے اسلام کے ترجمان جریدے کے سابق مدیر، مفتی محمود، غلام غوث ہزاروی، شورش کاشمیری، مفتی عبداللہ درخواستی سمیت علمائے دیوبند کے قریبی ساتھی اور مرے انتہائی محترم بزرگ دوست ” قاسمی صاحب ” (جن کا نام میں ان کی خواہش کی وجہ سے نہیں لکھ رہا ) سے ایک دلچسپ مکالمہ

قاسمی : عامر میاں! لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشت گردوں کو تم دیوبندی تکفیری کیوں لکھتے ہو؟
عامر حسینی : اس لئے کہ وہ دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ؟
قاسمی : لشکر جھنگوی کا دیوبندی مکتبہ فکر سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ ان کو صرف تکفیری لکھیں
عامر حسینی : قاسمی صاحب! میں اس کے لئے بالکل تیار ہوں، ایسا کیجئے کہ پاکستان کے مندرجہ ذیل مدارس کے دارالافتاء سے مشترکہ فتوی شایع کرائیں
جامعہ ا لاسلامیہ عالمی بنوریہ یونیورسٹی کراچی
دارالعلوم ا لاسلامیہ العربیہ کراچی
دارالعلوم جامعہ عربیہ کبیروالہ
جامعہ اشرفیہ لاہور
دارالعلوم ا لاسلامیہ اکوڑہ خٹک
قاسم العلوم ملتان
خیرالمدراس ملتان
جامعہ محمودیہ جھنگ

قاسمی : آپ بہت استاد آدمی ہو، میں ان میں سے کچھ سے آپ کی بات کرائے دیتا ہوں
عامر حسینی : عجیب بات ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جملہ گروپ اور لشکر جھنگوی کے دیوبندی مکتبہ فکر سے خارج ہونے کا فتوی علمائے دیوبند کیوں جاری نہیں کرتے اگر وہ دیوبندمکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتے؟ اور مجھ غریب پر آپ کا نزلہ گررہا ہے جو دیوبندی اکثریتی عوام کو الزام سے بچانے کے لئے دیوبندی تکفیری فاشزم اور فسطائیوں کی اصطلاح پر اصرار کرتا ہے جس نے مطلق لفظ ” دیوبندی دہشت گرد و انتہاپسند ” کی اصطلاح کو غلط اور تعصب قرار دیا ہے

اچھا آپ ایک بات بتائیں کہ لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحاق، اکرم لاہوری، غلام رسول شاہ اور پھر اس کے روح رواں رمضان مینگل، ظہور شاہوانی سمیت درجنوں کرداروں پر کبھی دیوبندی مدارس یا مساجد کے دروازے بند کئے گئے؟ کیا شیعہ و بریلوی اور دیگر کمیونٹیز کے خلاف تکفیری پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف مساجد و مدارس دیوبندی میں اشتہار چسپاں کرکے ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی درخواست کی گئی اور ان سے اعلان برات کیا گیا
قاسمی : عامر میاں! چھوڑیں ان باتوں کو یہ بتاو کوئی نیا افسانہ لکھا اور کتاب کونسی پڑھ رہے ہو
عامر حسینی : قاسمی صاحب! آپ بھی کمال کے آدمی ہیں بات کو کہاں سے کہاں لہجاتے ہیں

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*