پیپلز پارٹی لانڈھی میں کیسی سیاست کررہی ہے؟ – عامر حسینی

پیپلز پارٹی لانڈھی میں کیسی سیاست کررہی ہے؟ – عامر حسینی

12247198_10208171845642228_4321595107951711140_n


لانڈھی کے بارے میں اب دو رائے نہیں ہے کہ اس علاقے میں دیوبندی تکفیری انتہاپسند ایک موثر سیاسی قوت بنکر ابھرے ہیں، ان کے پاس 28 سے 30 ہزار ووٹ اس علاقے کے اندر موجود ہیں اور یہ علاقہ شیعہ کے خلاف نفرت، تشدد، دہشت گردی اور ان کی تکفیر کرنے والی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے حامیوں کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے اور یہ تنظیم ایک طرف تو اہلسنت والجماعت کے نام سے شیعہ کے خلاف اس علاقے کے دیوبندی نوجوانوں کی زھن سازی کرنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف یہ اورنگ زیب فاروقی کی قیادت میں پہلے متحدہ دینی محاذ کے نام سے سیاسی طور پر سرگرم رہی اور اب یہ پاکستان راہ حق پارٹی کے طور پر متحرک ہوئی ہے اور بلاشبہ اس کے پاس یہاں پر ایک بڑا ووٹ بینک بن چکا ہے


لانڈھی میں دیوبندی تکفیری فاشزم کی علمبردار اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان / پاکستان راہ حق پارٹی کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس علاقے میں سرگرم سیکولر و لبرل سیاسی پارٹیاں پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اس سے اتحاد اور اشتراک پر زور دیا ہے اور ایک طرح سے اس تنظیم کے اینٹی شیعہ، صوفی سنی، مسیحی وغیرہ ڈسکو رس کے سامنے سرنگوں کردیا ہے

پی پی پی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری سید نجمی عالم کی سیاسی بے بصیرتی اور اخلاقیات سے بے نیاز ہونے کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان سے بی بی سی کے نمائیندے نے جب پوچھا کہ آخر یوسی 20 لانڈھی میں ان کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ پاکستان راہ حق پارٹی کے رکن مولوی سید محی الدین کو چئیرمین کا امیدوار لیں اور اپنا امیدوار بھی ایک دیوبندی تکفیری لیکر آئیں تو نجمی عالم نے کہا کہ مولوی محی الدین کا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہے اور یہ برادری کے کہنے پر لیا گیا ہے، اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہوئے نجمی عالم کو ذرا شرم نہ آئی اور اس نے اپنے کوفی ہونے کا پورا ثبوت دے ڈالا


میں سندھ میں کئی دن سے موجود ہوں، آغا درانی کے تکفیری دہشت گردوں سے رابطے بارے جو حقائق مرے سامنے آئے اور اعجاز جھاکرانی کے دیوبندی فاشزم سے رابطوں کی جو کہانی سامنے آئی اور شکار پور امام بارگاہ پر حملے بارے جن حقائق کا انکشاف ہوا، اب یہ نجمی عالم کا جھوٹ مجھے حیرت میں مبتلا کررہی ہے کہ پی پی پی کی قیادت اپنے عام جیالوں سے کیسے جھوٹ بول رہی ہے، یہ سندھ کے شمال کے آٹھ اضلاع میں خالد سومرو کی سرپرستی کرتی رہی اور سردار بھائیو پر آغا سراج درانی کے ھاتھ نے شیعہ نسل کشی، صوفی سنی مارجنلائزیشن کو جنم دیا اور سینٹرل کراچی میں یہ تکفیری قوتوں سے الائنس بنارہی ہے اور اس طرح سےسندھ میں صوفی کلچر کے دشمنوں کو مین سٹریم پالیٹکس میں جگہ فراہم کررہی ہے،

اس کا لبرل ازم بلاول بھٹو کے ٹوئٹس میں اور ہندو اکثریت کے علاقے مٹھی تھرپارکر و عمر کوٹ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے جبکہ شمالی سندھ، جنوبی سندھ اور کراچی میں یہ تکفیری فاشسٹ قوتوں سے پینگیں بڑھاتی ہے، لانڈھی میں پی پی پی اور اے این پی دونوں نے دیوبندی تکفیری فاشزم کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں، یہ سندھیوں سے زیادتی ہے، اور مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ جیالوں کو زمینی حقائق سے بے خبر رکھا جارہا ہے، بلاول نے مٹھی تھرپارکر میں نعرہ لگایا


پیر کا نہ میر کا
ووٹ بے نظیر کا
لیکن سنٹرل کراچی میں دیوبندی تکفیری فاشزم کے آگے سجدہ ریزی بے نظیر بھٹو کی روح کو تڑپانے کے مترادف ہے