واقعہِ کربلا، ایک نئی تفہیم – امجد عباس

واقعہِ کربلا، ایک نئی تفہیم – امجد عباس

karbalaunnamed

ایامِ محرم الحرام ہیں، نواسہِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کی بارگاہ میں دنیا بھر کے باضمیر لوگ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، امام عالی مقام سے ہماری جذباتی وابستگی ہے، ایسے میں ہم آپؑ کی تحریک کے درست علل و اسباب اور وجوہات کو درک نہیں کر پاتے۔

اگر واقعہِ کربلا کے بنیادی محرک کو دیکھا جائے تو جہاں تک میرا مطالعہ ہے، میں سمجھتا ہوں یزید کی آپ علیہ السلام سے زبردستی بیعت طلب کرنا، پھر اس کے فاسق گورنر کی آپ علیہ السلام کو رات کے وقت گورنر ہاوس طلب کر کے بیعت لینے پر سختی کرنا، یہی واقعہ کربلا کا ایک بنیادی سبب ہے۔ یزیدی حکومت غط اقدامات کی بنیاد رکھ کر، سب سے منوانا چاہتی تھی، بھلا حسین علیہ السلام غلط نظام کو کیسے مان لیتے۔

امام عالی مقام سے زبردستی بیعت لینے کی کوشش نہ کی جاتی تو شاید آپ علیہ السلام اس طرح مدینہ نہ چھوڑتے۔ آپ علیہ السلام نے یزیدی گورنر کو دو ٹوک انداز میں بتا دیا تھا کہ مجھ جیسا یزید ایسے فاسق و فاجز اور اعلانیہ بُرائی کرنے والے کی بیعت نہیں کر سکتا، ہاں ابھی نتظار کرو۔

مروان بن حکم نے بھی یہاں معاملہ خراب کرنے کی مکمل کوشش کی۔ امام علیہ السلام بیعت سے بچنے کی خاطر مکہ تشریف لے گئے، مقصود حج کرنا بھی تھا، ایسے میں مسلمانوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ حضرت حسین ابن علی علیھما السلام یزید کی بیعت نہیں کر رہے، لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو پناہ یا تعاون کی پیش کش نہ کی، پوری دنیا کے مسلمانوں میں تنہا اہلِ کوفہ تھے جنہوں نے کہا اے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم، آپؑ ہمارے پاس تشریف لے آئیں، ہم آپؑ کا مکمل ساتھ دیں گے۔ اب یزیدی کارندے بیعت لینے پر مصر تھے، اِدھر اہلِ کوفہ امام عالی مقام کو خطوط بھیج رہے تھے کہ آپؑ ہماری رہنمائی کریں، خطوط لکھنے والوں میں کوفہ کے بزرگ صحابی رسول حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ بھی شامل تھے۔

ایسے میں یزیدی بیعت سے بچنے کی خاطر آپ کوفہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی آپؑ کے پیشِ نگاہ تھے۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ یزید کا فاسق ہونا اتفاقی ہے، اب امر اس میں دائر تھا کہ فاسق کی بیعت جائز ہے یا ناجائز، امام عالی مقام علیہ السلام اور آپؑ کے ہم نوا یزید جیسے فاسق کی بیعت ناجائز جانتے تھے، سو آپؑ نے انکارِ بیعت فرمایا اور ملت اسلامیہ کو یزیدی حکومت کے شنیع افعال سے بھی مطلع کیا، نواسہِ رسول ہونے کے ناطے یہ آپؑ کا شرعی وظیفہ تھا۔

یزید پلید کے خلاف امام عالی مقام کا اقدام، جوابی اقدام ہے، واقعہِ کربلا انکارِ بیعت کا نتیجہ تھا، امام علیہ السلام مدینہ سے حصولِ حکومت کے لیے روانہ نہ ہوئے تھے، ابتداء میں بس بیعت سے چھٹکارا پانا مطلوب تھا، لیکن مکہ مکرمہ میں اہلِ کوفہ کے خطوط دیکھ کر امام عالی مقام نے ارادہ فرمایا کہ اگر لوگ تعاون کریں تو دنیائےِ اسلام کو اموی ملوکیت سے بچانا ہی مناسب ہوگا۔ امام عالی مقام کو بیعت نہ کرنے کی پاداش میں لق دق صحرا میں دن دہاڑے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا، اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون۔

میدانِ کربلا میں فریقین (حسینی لشکر و یزیدی لشکر) کی گفتگو، جنگی رجز ملاحظہ کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے آخری وقت تک بزورِ قوت بیعت کا مطالبہ کیا جاتا رہا اور اُدھر سے مسلسل انکار۔۔۔ حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام نے اپنی بیعت نہ کرنے والوں کو کچھ نہ کہا، بس اتنا فرمایا کہ تُم سرکشی اختیار نہ کرنا، آپؑ کی بیعت نہ کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی شامل تھے (بیعت نہ کرنے والے صرف چند لوگ تھے) لیکن حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام نے ایسے لوگوں سے حسنِ سلوک سے کام لیا، جنگِ صفین، جمل اور نہروان میں مخالفین کے کفن، دفن کا اہتمام اور جنازہ بھی پڑھایا، زخمیوں کی تیمارداری کی۔ یہی پیغمبرِ گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روش تھی۔

حسن اور حسین، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دو پھول، افسوس ان دونوں کی شہادت اموی ملوکیت کے ہاتھوں ہوئی۔

بنی امیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تو نقصان نہ پہنچا سکے لیکن اُن کے دونوں عزیز از جان نواسوں کو شہید کر ڈالا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا ہے

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿ الاحزاب: ٥٧﴾

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم) کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔

تاقیامت قطعِ استبداد کرد
موجِ خونِ او چمن ایجاد کرد

بہر حق در خاک و خون غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گرویدہ است

تیغ، بهرِ عزّتِ دین است و بس
مقصدِ او حفظِ آیین است و بس

(علامہ محمد اقبال)

تا قیامت امام مظلوم نے استبداد و بُرائی کی قوتوں کی جڑ کاٹ دی، آپؑ کے خون نے انقلاب برپا کر دیا۔ آپ علیہ السلام دین کی خاطر شہید ہوئے، آپ علیہ السلام نے لا الہ الا اللہ کی پھر سے بنیاد رکھی۔
آپ علیہ السلام نے بتا دیا کہ تلوار صرف دینِ خدا کے لیے اٹھانی چاہیے، آپ علیہ السلام کا مقصد صرف اور صرف دین کو بچانا تھا۔

,

One response to “واقعہِ کربلا، ایک نئی تفہیم – امجد عباس”