دیوبندی سیاست کی مشکلات ادارتی نوٹ : – صداے اہلسنت

11817222_1450909991885105_409885790279033655_n

ارشاد الاسلام کے نام سے سوشل میڈیا میں ایک بلاگ موجود ہے ، اس پر ایک تھریڈ  دیوبند فرقہ تاریخ کے مشکل دور میں ” کے عنوان سے پوسٹ کی گئی ہے ، ہم نے اس پوسٹ کو پڑھا تو ہمیں یہ احساس ہوا کہ ایک تو اس تحریر کے مصنف نے جس کا کوئی زکر یہاں نہیں ہے پورے دیوبند مکتبہ فکر کو تکفیری دھشت گردوں کے برابر اور مماثل کھڑا کردیا ہے جو ہمارے نزدیک درست نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے علماء و مشائخ اہل سنت ایسا خیال کرتے ہیں – ہم دیوبند مکتبہ فکر کے اندر تکفیری دھشت گرد تںطیموں کے وجود کا انکار نہیں کرتے اور ان کے اندر ایک ایسے طاقت ور نظریاتی ٹولے کے وجود کو بھی مانتے ہیں جو کہ نہ صرف مسلمانوں کو مرتد و مشرک قرار دیتا ہے اور پاکستان کے اندر رہنے والے غیر مسلم شہریوں کو حارب کافر قرار دیتا ہے اور اس بنیاد پر ان کے قتل کو جائز خیال کرتا ہے ، یہ تکفیری ٹولہ جس کو ہم دیوبندی تکفیری ٹولہ کہتے ہیں پاکستان کی فوج ، پولیس ، انٹیلی جنس ایجنسیوں ، سرکاری اداروں کے ملازمین کو مرتد قرار دیکر ان کے خلاف قتال و جہاد کا فتوی دے چکا ہے ، یہ ٹولہ دیوبندی سیاسی ، مذھبی تنظیموں اور مدارس کے اندر تک سرایت کئے ہوئے اور اس نے دیوبندی تںطیموں اور دیوبندی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس کو بھی بے بس کیا ہوا ہے ، لیکن ہم دیوبند مکتبہ فکر کو مجموعی طور پر نہ تو زمرہ خوارج والتکفیر میں رکھتے ہیں اور نہ ہی ہر ایک دیوبندی کو ، نہ ہی ہر ایک دیوبندی تنظیم ، مدرسے کو تکفیری خارجی مدرسہ خیال کرتے ہیں اگرچہ دیوبند مکتبہ فکر سے ہمارا بنیادی اختلافان کی اکابرین کی انتہائی نازیبا عبارات ، شاہ اسماعیل دھلوی اور سید احمد کی کتابوں کی اشاعت و ترویج پر ہے اور ان کے وہابیت کے سب سے بڑے حامی حکمران ٹولے آلہ سعود کی حمائت کرنے پر ہے ، لیکن اس اختلاف میں اور پورے دیوبند مکتبہ فکر کو خارجی و تکفیری قرار دینے میں کافی فرق ہے

اس پوسٹ میں جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کا زکر ہے تو جنرل ضیاء الحق نے یقینی طور پر پاکستان کے اندر دیوبندیانے اور وہابیانے کے عمل کو تیز کیا اور پاکستان میں سعودی وہابی برانڈ اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن تاریخی ریکارڑ درست رہنا چاہئیے کہ جنرل ضیاء کا ساتھ جہاں خود دیوبندی ، سلفی اور مودودیت کے حامیوں نے دیا وہاں ضیاء کے ساتھ خود جماعت اہلسنت اور جے یو پی کے بھی کئی رہنماؤں نے ضیاء کے ہاتھ مضبوط کئے ، ان میں حاجی حنیف طیب سمیت کئی ایک لوگ ضیاء کی کابینہ میں وزیر اور مشیر بنے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی ممبری بھی لی اور بعد میں اہلسنت کے کئی ایک سیاسی جماعتوں کے دھڑے ضیاء الحق کے پروردہ نواز شریف و شہباز شریف کے بازو بھی بنے اور اس وقتی مفاد پرستی نے اہلسنت کے سیاسی چہرے کو دھندلا کیا اور ان کو پارلیمان میں اپنے پلیٹ فارم سے نمائندگی سے بھی محروم کردیا ، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی سیاست کو سب سے زیادہ نقصان وقتی مفاد دیکھنے والے ان حضرات نے پہنچایا جو ضیاء کے ساتھ رہے اور پھر نواز شریف کے دائیں بائیں نظر آئے

آج بھی پنجاب اور صوبہ خیبرپختون خوا سے تعلق رکھنے والے کئی ایک اہلسنت عالم اور مشائخ ایسے ہیں جو نواز شریف و شہباز شریف کے دیوبندی و سلفی اور سعودی جانب واضح جھکاؤ اور اہلسنت کے علماء و مشائخ کے قتل اور مزارات پر بم دھماکوں میں ملوث دیوبندی تکفیری تنظیموں سے خفیہ اتحاد کے باوجود ان کی سیاست کو کامیاب بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور پنجاب ، سندھ ، خیبرپختون خوا ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان ، اورٹرائبل علاقوں میں اہلسنت کی سیاست کی شناخت کو دیوبندی – سلفی تسلط اور غلبے کے اندر چھپائے جانے کے ایک منظم پروسس کو بڑھانے میں مدد رہے ہیں ، پنجاب میں میاں شہباز شریف کا زیادہ تر جھکاؤ دیوبندی اور سلفی مولویوں کو نوازنے میں ہے ، طارق جمیل ، احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی ، زاہد القاسمی ، قاری حنیف جالندھری پنجاب کی حکومتی مشینری کے اوپر زبردست اثر و رسوخ کے حامل ہیں اور دیوبندی تبلیغی جماعت کو نواز – شہباز حکومت کی پوری اشیر باد حاصل ہے جبکہ پنجاب حکومت نے اپنی کابینہ میں وزیر قانون ایک متعصب ، تکفیریت نواز دیوبندی رانا ثناء اللہ کو بنایا ہوا ہے اور یہ آدمی اہلسنت کے چودہ مرد و خواتین کو ماڈل ٹاؤن میں مروانے کے باوجود دوبارہ اپنی سیٹ پر موجود ہے اور اس کی وجہ سے پنجاب کے ڈیپارٹمنٹس ، کلبس اور اداروں مین بنی مساجد کے اندر دیوبندی آئمہ و خطباء کی تقرریوں کا عمل تیز ہوا ہے اور وزرات اوقاف میں بھی دیوبندی و سلفی اپنی آبادی کے تناسب سے کہيں زیادہ نشستوں پر فائز ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مزارات مقدسہ سے جو آمدنی اوقاف کو ہوتی ہے ان کا ایک بڑا حصّہ اوقاف کے دیوبندی آئمہ و خطباء ، مساجد و مدارس پر خرچ ہوتا ہے

پاکستان کے اندر زبردستی ، مصنوعی طریقے سے اور ریاستی اور طاقتور دیوبندی – سلفی لابی کی مدد سے اہلسنت سواد اعظم کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور دیوبندیانے و وہابیانے کا پروسس جاری و ساری ہے ، یہ ایک آرٹیفیشل ، فاشسٹ پروسس ہے ، اس کو ختم ہونا چاہئیے اور سب کو ” جیو اور جینے دو ” کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہئیے ، اس پروسس کے خاتمے کا مطالبہ دیوبندی فرقہ کا خاتمہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کے حامی ہیں

دیوبند مسلک سے وابستہ تنظیمیں و گروپ تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہوچکے ہیں۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء اور افغان جہاد کے ذریعے غیر معمولی شہرت، طاقت ووسائل حاصل کرنے والے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد مشکلات سے دوچار ہے۔جنرل ضیاء کے اپنے مارشل لائی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے معروف دینی شخصیات و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی ناکام کوشش کے بعد جماعت اسلامی اور دیوبند مسلک سے وابستہ افراد و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب رہا۔

حافظ تقی شہید مجلس شوری، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن و صوبائی وزیر رہے ہیں، نجی محافل میں جنرل ضیاء کے شاطر پن سے متعلق بتاتے رہتے تھےایک مرتبہ اس بات کا ذکر کیا کہ 1979ء میں ملتان سنی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے بعد جنرل ضیاء نے مولانا شاہ احمد نورانی سے مارشل لائی ایجنڈے میں تعاون کی درخواست کی جسے مولانا نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ضیاء صاحب نے اہلسنت کے مقابلے میں دیوبندی و وہابی مسلک کو پروان چڑھایا اور افغان جنگ میں شمولیت سے انہیں عسکری قوت حاصل ہوگئی۔

گزشتہ 35 سالوں سے دیوبندی پاکستان میں مذہبی طور پر سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے نصاب میں تبدیلی اور نعرہ رسالت و نعرہ حیدری کو ختم کروانے میں مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی اور میاں طفیل (جماعت اسلامی) کا کردار پوشیدہ نہیں۔دہشت گردی کے خلاف سوات آپریشن اور ضرب عضب نے دیوبندی مکتب سے اٹھنے والی دھشت گرد عسکری تنظیموں کی کمر توڑ دی ہے۔ کالعدم تنظیمیں آپریشن کے نتیجے میں تتر بتر ہوچکی ہے۔ بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ میں (جولائی سے نومبر) افواج پاکستان 1200 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک 200 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کرکے ہزاروں ٹن بارود، سینکڑوں بموں، خودکش جیکٹس، میزائل، راکٹ اور دیگر اسلحہ تلف کرچکی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کی دوسرے درجے کی قیادت اور ان سے منسلک شدت پسندوں کو ختم کردیا گیا ہے۔

افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی نے ماضی کے برعکس پاکستان سے برادرانہ تعلقات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ 14 نومبر کو پاکستان کا دورہ کیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات اور جی ایچ کیو راولپنڈی کا بھی دورہ کیا۔ اس سے قبل پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حائل رکاوٹوں، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں اور پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی افغانستان میں پناہ پر گفتگو ہوئی جس سے یقینا دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر جہاد کے نام پر دہشت گردوں کو ملنے والی امداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث 83 تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ان تنظیموں میں پانچ کا تعلق پاکستان سے ہے جس میں تحریک طالبان، جیش محمد، مشرقی ترکستان موومنٹ، حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ (جماعۃ الدعوہ) شامل ہے۔

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ضرب عضب کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ شدت پسندوں کو بلا امتیاز ہدف بنایا جارہا ہے۔ وہ حقانی نیٹ ورک ہو، کالعدم تحریک طالبان یا کوئی اور دہشت گردوں نے ہمارے فوجیوں کو شہید کیا، ان کے سروں کو فٹ بال بناکر کھیلا، یہ وحشی اور جنگلی ہیں۔ پاکستان، افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ ضرب عضب سیاسی حکومت سے مشاورت کے بعد پورے عزم اور سنجیدگی سے شروع کیا گیا ہے اور اسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ ضرب عضب ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک دہشت گردی کو پوری طرح سے شکست دینے کا تصور ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گا۔ انسداد دہشت گردی کی مہم صرف وزیرستان اور خیبر ایجنسی تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک تک پھیلی ہوئی ہے۔
ان حالات میں دیوبند مسلک سے وابستہ افراد نے سرجوڑ لئے ہیں۔ 18 نومبر 2014ء کو اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھی، جس میں سپاہ صحابہ، مجلس احرار کے عطاء اﷲ شاہ بخاری (کانگریسی) کے صاحبزادے عطاء المومن بخاری، وفاق المدارس کے حنیف جالندھری اور جے یو آئی کے حافظ حسین و دیگر سرگرم تھے۔ دیوبند فرقے سے وابستہ 26 جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی۔ اجلاس سے متعلق عوامی تاثر یہ دیا گیا کہ تحفظ ناموس رسالت، اسلامی اقدار اور امتناع قادیانیت ایکٹ کا تحفظ سمیت آٹھ نکات پر جامعہ بنوری کراچی کے مہتمم عبدالرزاق اسکندر کی سربراہی میں دیوبند سپریم کونسل قائم کی گئی ہے۔ یہ کونسل دیوبند فرقے کا غیر سیاسی اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد دیوبند فرقے کا تحفظ اور فروغ ہے۔ کوئٹہ میں فضل الرحمن پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ 16 نومبر کو جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو میں سوال کے جواب میں اپنے اوپر ہونے والے خودکش حملے میں قومی اداروں کے کردار کی جانب اشارہ کیا۔ سلیم صافی نے وضاحت چاہی تو جوابا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ سب کچھ مجھ سے بلوانا چاہتے ہیں۔

جے یو آئی کے رہنماء ڈاکٹر خالد محمود کا سکھر میں قتل ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق پرانی دشمنی کی بناء پر قتل ہوا۔ قتل کی مذمت میں فضل الرحمن نے کہا کہ اس قتل کو طالبان کی جانب موڑ دیا جائے گا جوکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

دیوبند فرقے کی ایک مشکل خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومتوں سے محرومی ہے۔ ماضی میں دونوں صوبوں کی مخلوط حکومتوں  شامل رہتی اور خاص طور پر زکوٰۃ وعشر کے محکمے ان کے پاس ہوتے جس سے دیوبند کے مدارس کو کافی مدد ملتی رہی ہے ۔پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں یقینا خوشحال روشن پاکستان ایک بار پھر دنیا کی امیدوں کا مرکز بنے گی۔

Source :

http://www.irshad-ul-islam.com/showthread.php…

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*