ملک اسحاق کی ہلاکت – ارشاد حسین ناصر

n00477185-b

گذشتہ روز مظفر گڑھ میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق اپنے دو بیٹوں اور معروف دہشت گرد غلام رسول شاہ جو اس کا نائب بھی تھا، کے ہمراہ ہلاک ہوگیا۔ اس ہلاکت کو مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے، مکتب دیوبند و تکفیر کے گھروں میں سف ماتم بچھی ہے، جبکہ ان دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والے بالخصوص اہل تشیع جو سب سے زیادہ ان کا شکار بنے، کے چہروں پر مسرت و خوشی کے آثار نمایاں ہیں۔ بطور پاکستانی ہمیں اس پر خوشی ہونی چاہیئے کہ یہی وہ بدترین لوگ تھے جنہوں نے غیر ملکی ایجنٹی کرتے ہوئے ملک کو بے گناہوں کا ایندھن بنائے رکھا، جنہوں نے پاک ایران تعلقات خراب کرنے اور ان میں دراڑیں ڈالنے کی کئی ایک استعماری سازشوں کو عملی جامہ پہنایا، جنہوں نے پاکستان کے کھیل کے میدانوں کو ویران کیا، جنہوں نے ملک کی شان افواج پاکستان اور فورسز کو ناکوں چنے چبوائے، جنہوں نے اپنی سفاکیت اور درندگی سے عدلیہ کو کئی برسوں تک مسلسل اپاہج بنائے رکھا، یہ گروہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا، اسے ہی کہتے ہیں خس کم جہاں پاک!

انجمن سپاہ صحابہ کے نام سے حق نواز جھنگوی نے آمر حکمرانوں کے تعاون و آشیر باد سے تشیع و اہل سنت کی تکفیر کا جو پلیٹ فارم کھڑا کیا تھا، ملک اسحاق اس کے اولین کارندوں میں شامل تھا، غلام رسول شاہ بھی اس کا بنیادی ساتھی تھا، دنیا جس داعش کو آج خطرے کے طور پر شناخت کر رہی ہے اور جس کی سفاکیت کے چرچے زبان زد عام و خاص ہیں، اس کا انداز ان لوگوں نے اسی اور نوے کے عشرے میں اختیار کئے رکھا تھا۔ یہ برملا اہل تشیع کو قتل کرتے تھے اور پکڑے جانے پر اس کا کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے تھے، اور پولیس کی موجودگی میں اس عزم کا اظہار بھی کرتے تھے کہ رہا ہو کر پھر یہی کام کریں گے، ان کا کام یعنی ان کی سپیشلائزیشن و محبوب مشغلہ بے گناہ انسانوں کا قتل تھا، بس آج کی داعش اور ان میں دو فرق تھے، اس دور میں میڈیا اس قدر عام نہیں تھا، بس اخبارات تک خبریں آتی تھیں جن پر گذارہ کرنا پڑتا تھا، اس سے ان کی درندگی اور سفاکیت کا چرچا جس کا فائدہ خود انہیں ہی ہوتا ہے، اس قدر نہیں ہو پاتا تھا، جس قدر آج داعش اپنی سفاکیت کے نئے نئے طریقوں سے انسانوں کو شکار کرکے ویڈیوز ریلیز کر کے پھیلا رہی ہے، دوسرا بڑا فرق یہ تھا کہ داعش وسیع پیمانے پر کئی علاقوں بلکہ کئی صوبوں پر آکر قابض ہو جاتی ہے، یہ لوگ خفیہ رہتے تھے اور اپنی کارروائیاں جاری رکھتے تھے۔

پنجاب میں ان کی کارروائیاں سب سے زیادہ تھیں۔ ریاض بسرا ان کا سربراہ تھا، جو چھلاوہ کے نام سے معروف ہوگیا تھا، اس لئے کہ اسے کئی ایک بار گرفتار کرنے کی کوششیں ہوئی، مگر وہ ہر بار بچ نکلا، اسے اسی طرح کے ایک پولیس مقابلے میں وہاڑی کے ایک گاؤں میں اپنے چار ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اس گروہ کی قیادت ملک اسحاق کر رہا تھا، جو اس وقت جیل میں تھا۔ اسی گروہ نے لاہور میں ڈائریکٹر خانہ فرہنگ آقائے صادق گنجی (صادق گنجی کے قاتل بسرا کے ساتھی حق نواز کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی تھی، جو اس وقوعہ میں زخمی ہو کر گرفتار ہوگیا تھا جبکہ ریاض بسرا کو ایک سازش کے ذریعے لاہور میں قائم دہشت گردی عدالت سے پیشی کے موقعہ پر فرار کروایا گیا تھا)، راولپنڈی میں ایرانی کیڈٹس اور ملتان میں خانہ فرہنگ پر حملہ کرکے ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ملتان محمد علی رحیمی اور دیگر سات لوگوں کو بھی دن دیہاڑے شہید کیا تھا، محمد علی رحیمی بھی آقائے صادق علی گنجی کی طرح بہت مقبول و محبوب تھے، انہیں اردو زبان پر مکمل عبور تھا، جس کے باعث ملتان کے ادبی، سیاسی و سماجی حلقوں نیز دینی لوگوں میں بھی ان کا چرچا رہتا تھا۔ یہی بات ان کے آقاؤں اور ان دہشت گردوں کیلئے تکلیف کا باعث تھی۔

ملک اسحاق و غلام رسول شاہ نے اپنے دیگر ساتھیوں اعجاز ججی، عبدالمنان وغیرہ کے ساتھ مل کر 2 فروری دن گیارہ بجے ملتان میں خانہ فرہنگ میں داخل ہو کر قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا، سفاکیت کا یہ مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی چیخ و پکار تھی کہ آج شیعہ کافروں کو نہیں چھوڑنا، آج خمینی۔۔۔ کے بیٹوں کو نہیں چھوڑنا اور اسی کارروائی میں ان لوگوں نے آقائے رحیمی سمیت آٹھ لوگوں کو شہید کیا، جن میں دو اہل سنت بھی شامل تھے، جن میں ایک الیکٹریشن غلام رسول بھی تھا، جو ابتدائی طور پر زخمی ہوگیا تھا مگر اپنا آخری بیان ریکارڈ کروانے کے بعد شہید ہوگیا، اس نے ان لوگوں کو شناخت کر لیا تھا، یہ ساری ٹیم فارسی سیکھنے کے بہانے فارسی کلاس میں داخل تھی اور ریگولر خانہ فرہنگ میں آتے جاتے تھے، ان کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو اس میں سے ایک دہشت گرد کا صحیح پتہ مل گیا، جو کارروائی میں بھی شریک تھا اور پیسوں کی بندر بانٹ کے بعد اپنے گھر بھی جا چکا تھا، اسے گرفتار کیا گیا تو حقائق کھل کے سامنے آگئے، قاتلوں کے نام اور ساری کہانی سامنے آگئی، اس طرح یہ لوگ پہلی بار بے نقاب ہوئے۔ ملتان خانہ فرہنگ کا کیس اس گروہ کے حوالے سے ٹرننگ پوائنٹ میں بدل گیا تھا، ان کے چہروں سے نقاب کھنچ گئی تھی، ان کے اپنے آقاؤں امریکی ایجنسیوں سے روابط کھل کے سامنے آگئے تھے۔

خانہ فرہنگ ملتان کا کیس چونکہ جلد ہی بے نقاب ہوگیا اور اصل ملزمان بھی پکڑے گئے اور سازش بھی بے نقاب ہوگئی تو یہ فرقہ وارانہ قتل غارت گری کی سازش کے خلاف ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا، اس کیس کے ملزمان کو چھڑوانے کیلئے ان کے سرپرستوں سعودی سفارت خانے، امریکی سفارت خانے اور ایک ٹیکنو کریٹ کا فون تفتیشی ٹیم کو آتا رہا، جس کے بارے ایرانی ذمہ داروں تک اطلاعات موصول ہوتی رہیں، ملتان میں جس ایس پی نے ان کے گروہ کو پکڑا اور حساس آلات، فون سکینرز، امریکن ایکسپریسن بنکس کے لمٹ لیس کارڈز، لاکھوں ڈالرز بھی برآمد کئے، اسے بھی بہت دھمکایا گیا، مگر اس نے اپنا کام کر دیا، ایس پی اشرف مارتھ جب ایس پی سے ایس ایس پی بن کر ملتان سے ٹرانسفر ہوا تو اس گروہ نے اسے گوجرانولہ کینٹ میں جا کر شہید کر دیا۔ ملتان کے علاوہ ان لوگوں نے صوبہ پنجاب میں فیصل آباد، لاہور، بہاولپور، بوریوالہ، وہاڑی، ساہیوال، اوکاڑہ، لودھراں اور کئی ایک علاقوں میں ان گنت قتل کئے، جب فیصل آباد سے پکڑے گئے تو اس کے بعد جیل سے ہی سارا نظام چلاتے رہے، جیل میں ان کی دیکھ بھال اور خدمت پر کئی ایک قیدی اور دیگر ساتھی دہشت گرد ہوتے تھے، جبکہ جیل انتظامیہ اور حکمرانوں کو اتنی جرات نہ تھی کہ وہ انہیں جیل میں یہ احساس دلا سکیں کہ وہ جیل میں ہیں، نہ کہ کسی ریسٹ ہاؤس میں۔ ان کے مقدمات کی پیروی بھی جیل کے اندر ہوتی تھی، ملتان کیس کی عدالت بھی جیل کے اندر لگتی تھی۔

جیل کا ایک منظر


آپ لوگوں نے ملک اسحاق کی وہ ویڈیوز تو دیکھی ہونگی جن میں وہ اپنے ساتھی قیدیوں کے ساتھ چڑی چھکا کھیل رہا ہے اور اس کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے، خانہ فرہنگ ملتان کیس کی عدالت نمبر ایک جس کا جج نیر غوری تھا، اس کی عدالت لگی ہوئی تھی، جج صاحب تشریف لائے تو ملک اسحاق کو پیش کیا گیا، اس کے کئی ساتھی اسے دبا رہے تھے، گواہان بھی موجود تھے اور جج کی موجودگی میں تمام دہشت گرد زور زور سے شیعہ کافر کے نعرے لگا کر شور مچا رہے تھے، جب ایک گواہ کو سامنے لایا گیا تو ملک اسحاق نے بڑے تکبر سے کہا کہ اوئے کاکا ساڈے خلاف گواہی دین توں پہلاں سوچ لئے، ساڈی عدالت اینا ورگی نئیں ہوندی، اسیں اک منٹ تو پہلاں فیصلہ کر دندیں آں، تے عمل درآمد وچ وی کوئی رکاوٹ نئیں ہوندا، تے ساڈی عدالت وچ اپیل دا حق نئی دندا جاندا۔۔ ذرا سوچ لئیں۔۔ یہ وہ ماحول ہوتا تھا جس میں یہ لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے، ان لوگوں نے تفتیشی افسران کے سامنے برملا اعتراف کیا تھا کہ ہم نے نو بار رحیمی کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے، مگر کوئی نہ کوئی مسئلہ سامنے آجاتا تھا، اس کے باوجود ہماری اعلٰی عدلیہ نے انہیں بری کر دیا اور آزادی کا پروانہ دیا، تاکہ یہ سفاک گروہ پھر سے اپنی سفاکیت کا مظاہرہ کر سکیں۔

سفاک گروہ کا انجام، رازوں کا دفن

ملک اسحاق اور اس کا گینگ اگرچہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے، مگر یہ بات اپنی جگہ قابل غور و فکر ہے کہ کسی نے یہ بات کی ہے کہ اس گروہ میں اتنی جرات کیسے پیدا ہوئی؟ کون ان کی پشت پر ہوتا تھا، جو انہیں بچا لیتا تھا، جس کے اختیار و طاقت پر انہیں اتنا بھروسہ تھا کہ کھلے عام اپنا سب کچھ تسلیم کرتے تھے اور بچ نکلتے تھے؟ کس نے انہیں امریکیوں سے ملوایا، جنہوں نے ان کو جدید ترین ساز و سامان دیا، تاکہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا بازار گرم رہے اور پاکستان میں انقلاب اسلامی کی راہیں مسدود ہوں؟ چودہ سال بعد یہ کس کی مدد اور معاہدے سے باہر آیا اور وہ بنیادی نقاط کیا تھے جن پر یہ رہائی عمل میں آئی؟ کس نے معاہدے کیخلاف ورزی کی، ہر ایک بات پر سامنے آنے والا پنجاب کا وزیر قانون کیوں چپ ہے؟ جو لوگ ملک اسحاق کو رہا کروانے کے بعد استقبالیہ جلوسوں میں شامل تھے، ان کا شمار بھی کبھی انہی کے ساتھ ہوگا اور وہ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ بنیں گے؟ یہ بھی ایک سوال ہے کہ احمد لدھیانوی جس کی قیادت پر ملک اسحاق نے عدم اعتماد کا اظہار کیا، آیا اس کے فکری وارث بھی اس کی فکر آخر پر قائم رہیں گے اور اس کا مقابلہ کریں گے۔؟

Source:

http://www.islamtimes.org/ur/doc/article/477185/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*