پاکستان میں سیکولر رجحان کے حامل افراد اور جماعتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی شناخت کو چھپانے کا نا قابل فہم رویہ – عامر حسینی

11755867_10207387847322760_5216758076581712163_n

فیس بک پر ایک کمیونٹی پیج تیونس کی ڈیموکریٹک بعث پارٹی کے کسی ہمدرد نے بنایا ہوا ہے ، اس پیج کا عنوان بھی بہت دلچسپ ہے اور وہ ہے کہ آئیے تیونس کو جگائیں اور تیونس میں یہ جو للباس افغانی کو مسلط کرنے کی کوشش ہے اس کے خلاف قیام کریں


اس پیج پر 50 ء کی دھائی کا سوڈان کا ایک منظر دکھایا گیا ، جس میں دو خواتین سائیکل ریس میں شریک ہیں اور اس کا کیپشن ہے کہ یہ وھابی سلفی اخوانیوں کے سوڈان پر قبضہ کرنے سے پہلے کا منظر ہے اور نیچے لکھا ہے کہ ہم عورتوں کو برابر کا انسان سمجھتے ہیں اور ان کو ناقص العقل خیال نہیں کرتے اور نہ ہی ان کو دیکھنے سے آدمی بھٹکتا نہیں ہے

میں تیونس ، لیبیا سمیت شمالی افریقہ کے ملکوں میں دیکھ رہا ہوں کہ وہاں ڈیموکریٹک سنٹر لیفٹ کی مین سٹریم پارٹیاں نام نہاد اسلام پسندوں اخوانی ، سلفی ، وھابی ، تکفیریوں کو کھلے عام چیلنج دے رہی ہیں اور ان کو ان کی شناخت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ان کو ایسے پوسٹر چسپاں کرتے ہوئے کوئی فرقہ پرست نہیں کہتا ،

اسی پیج پر چند دن قبل ایک مسجد کے وھابی ملا کی تصویر شایع کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ تیونس فقہ مالکیہ اور مذھب اشعریہ و صوفیہ کے ماننے والوں کا ملک ہے ، اس میں سلفی وھابیت ایک اجنبی پودا ہے جسے اکھاڑ پھینکا جائے یہ سب لکھتے ہوئے نیچے کسی نے بھی اس سنٹر لیفٹ سوشلسٹ ڈیموکریٹک پیج پر فرقہ پرستی کی پھبتی نہیں کسی لیکن ہمارے ہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی ہے ، پی پی پی ، اے این پی سمیت سیکولر ، سنٹر لیفٹ لبرل سب بری طرح سے شرماتے ہیں اس طرح کے پوسٹرز بنانے سے اور اگر کوئی بنائیں تو اسے فرقہ پرست ٹھہراتے ہیں

نور درویش : میرے خیال میں پاکستان میں سیکیولر رجحان رکھنے والی جن جماعتوں کا آپ نے ذکر کیا، اُن کے اس شرما حضوری والے رویہ کے پیچھے بھی بہت سے عوامل ہیں۔ اِن تمام جماعتوں میں کسی نہ کسی انداز میں مذہبی اکھڑ پن کا عنصر رکھنے والے ارکان موجود ہیں۔ جو ظاہرا تو سیکیولر ہیں لیکن اندر اُن کے بھی ایک بنیاد پرست بیٹھا ہے۔ ابھی کل کی ہی ایک خبر تھی کہ پختون خواہ میں پی پی پی کے تین چار ارکان نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کل کو پپلز پارٹی کے حالات بہتر ہونگے تو یہ جماعت اسلامی چھوڑ کر واپس ادھر آجایئں گے۔ اب اس قسم کے کوک ٹیل ماحول میں نظریاتی باتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

البتہ میرے نزدیک سب سے اہم پہلو ضیاء کا مارشل لاء اور افغان جہاد ہے۔ افغان جنگ اور ضیاء دور سے پہلے کے اخبار میگزین اور حتی ٹی وی پروگرام دیکھیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ پاکستان ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تیونس کے بارے میں آپ نے جو لکھا، یہ سب کچھ پاکستان میں بھی ممکن ہوتا اگر ہمارے ہاں ضیاء دور اور افغان جہاد کی برکتیں نہ نازل ہوئی ہوتیں۔ فرقہ پرستی اور مذہبی اکھڑ پن کو عروج اسی دور میں ملا ورنہ معاملہ بہت مخٹلف تھا۔

آخری پہلو سعودی ریال ہے۔ وہابی اور سلفی عقائد کی ترویج اور پھیلاو سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے اگر اس کے پیچھے سعودی دولت کار فرما نہ ہو۔ مثالا عرض کر دوں کے پاکستان میں اہلحدیث مکتب فکر کے کل تعداد ۴ یا پانچ فیصد سے زیادہ نہیں لیکن اسی مکتب فکر س تعلق رکھنے والے حفظ سعید کی ہماری خارجہ پالیسی میں کیا حیثیت ہے یہ اپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نظریاتی طور پر سلفیوں سے شدید اختلاف رکھنے والے دیوبندی، سعودی دولت کی وجہ سے سعودیوں کے زرخرید غلام بنے پھرتے ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کیلئے مین پاور کی کمی یہ ہی دیوبندی پوری کرتے ہیں، باوجود اس کے کے سعودی عرب میں ہندوستانی اور پاکستانی سلفی مولوی ان کی اور تبلیغٰ جماعت کی طبیعت کے ساتھ کھال اتارتے ہیں

Comments

comments