رباب مہدی رضوی سے میری گفتگو کے سکرین شاٹس – عامر حسینی

12 11 13 1514

مئی کا مہینہ تھا ، تاریخ 24 اور سال 2014ء کا تھا جب پہلی اور آخری بار ملک غضنفر مہدی سے میری ملاقات ملک جمال لابر کی رہائش گاہ واقع دولت گیٹ پر ہوئی اور اس ملاقات میں محترم حیدر جاوید سید ، حسن رضا بخاری اور دیگر کئی احباب موجود تھے ، اس ملاقات کے دوران ملک غضنفر مہدی نے اپنی بہت سی یادوں کو آواز دی تھی ، انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے جنرل ضیاء الحق کو انھوں نے ” امام حسین کونسل ” کے تحت ” امام حسین کانفرنس ” میں بلوایا تھا

اور پھر انھوں نے مخدوم سجاد حسین ، نواب صادق حسین سے اپنے دیرنیہ تعلقات کا زکر کیا ، اور یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور لیگیوں سے بھی وہ تعلقات بڑھارہے ہیں ، انھوں نے اسلام آباد کسی صاحب کی تقریب رونمائی میں مولوی فضل الرحمان اور محمد احمد لدھیانوی کو بھی مہمان ہائے خصوصی کے طور پر بلوانے کا زکر بھی کیا تھا ، مختصر یہ کہ ان کی ساری گفتگو سرکار اور دربار سے تعلق اور مین سٹریم میں ان رہنے تک محدود تھی ، دوران گفتگو ایک زکر اقوام متحدہ میں رباب مہدی کی تقریر کا آیا تو مجھے بتایا گیا کہ رباب مہدی ان کی بیٹی ہے

حیدر جاوید سید نے مجھے بتایا تھا کہ غضنفر مہدی ملک ہیں اور رباب مہدی رضوی (سیدہ ) کے والد ہیں میں نے رباب مہدی کو فیس بک ان باکس میں میسج کیا اور ان سے اس دوران جو بات چیت ہوئی ، اس کے سکرین شاٹ میں اپنے اس بلاگ میں دے رہا ہوں

ان سکرین شاٹ سے مرے اس نوٹ کی تصدیق ہوتی ہے جو میں نے رباب مہدی کی المانہ فصیح اور بینا سرور کے حق میں کہے گئے جملوں کے ردعمل میں لکھے تھے اور ان کی جانب سے المانہ فصیح کی نازیبا گفتگو کرنے کی مذمت کرنے والوں کو “چو —-یا ” کہنے پر ردعمل دیتے ہوئے لکھے تھے

رباب مہدی میں خود شاید اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ براہ راست میری باتوں کا جواب دیتیں لیکن انھوں نے ایک شیعہ عزادار فیس بک آفیشل پیج کو مجھے برا بھلا کہنے کے لئے استعمال کیا ، جس کی وجہ سے میں مجبور ہوا کہ ان کی گفتگو کے سکرین شارٹ دوں جو میرے ساتھ ان کی ہوئی

میں ان کی انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور میں نے ابتداء میں کوشش کی کہ وہ شیعہ نسل کشی سمیت پاکستان میں مذھبی دھشت گردی کی شناخت کے سوال پر درست لائن رکھیں اور پل کا کردار بھی ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ، ان کے والد سے ہونے والی ملاقات کو میں نے قدرے مثبت انداز میں پیش کیا لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ کیسے لندن کے اندر ایک ” پیدا گیر کیمپ ” سے وابستہ ہیں اور ” مصلحت کے نام پر منافقت ” میں اپنے والد سے کم نہیں ہیں اور انھوں نے لندن میں پاکستان کے ان لوگوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لئے بینا سرور اینڈ کمپنی کو استعمال کیا جو پروجیکٹ سازی ، پاؤنڈ و ڈالر بٹورنے سے ہٹ کر سیاسی بنیادوں پر کام کو آگے لیکر جارہے تھے

مرے ایک انتہائی محترم مارکسسٹ دوست نے مجھے بتایا کہ لندن میں یہ موصوفہ کبھی بھی سنجیدہ حلقوں میں سنجیدگی سے نہیں لی جاتی ہیں اور ان کا تعلق پیداگیر کیمپ سے ہے انھوں نے مجھ سے اپنی گفتگو میں خود اعتراف کیا کہ جنرل ضیاء الحق کو امام حسین کانفرنس میں ان کے والد نے خود بلایا تھا اور وہ اس کی توجیح اور تعلیل بھی دیتی ہے ، میرے جواب کا سکرین شاٹ بھی موجود ہے

میں پاکستانی عورتوں کے ایکٹو ازم کو ہمیشہ سے سراہتا آیا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ ان کی فرو گذاشتوں کو نظر انداز کردیا جائے لیکن بعض اوقات ایسے کردار سامنے آتے ہیں کہ یہ تکلیف دہ امر سرانجام دینا پڑجاتا ہے

دانشوروں اور انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں میں کمرشل لبرل کرئریسٹ مافیا ایک ناسور ہے جو کسی بھی سماجی تحریک کو عملی طور پر ناکارہ بنادیتا ہے اور پاکستانی کمرشل لبرل تو دائیں بازو کی مغربی لبرل روائت کو زبردستی بائیں بازو بلکہ مارکسسٹ نقاب پہناکر پیش کرنے کے عادی ہیں ، ان جیسے بہروپیوں کو بے نقاب کرنا مجبوری بن جاتی ہے

2

1

2

3

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*