ہمیں عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو پورے نظام کو اکھاڑ پھینگے – الیکس کانکس

imperialist

مڈل ایسٹ اور سامراجیت
مارکسی دانشور الیکس کالنکیس سے انٹرویو
ترجمہ و تلخیص : عامر حسینی
سعودی عرب کے حوثی قبائل پر فضائی حملے بند کرنے کے سعودی دعوے کے باوجود حملے جاری ہیں – سعودی عرب کس چیز کے لیے لڑرہا ہے ؟
ہم سعودی شاہی خاندان کی مجموعی پوزیشس سے آغاز کرتے ہیں – وہ وہابی کنزرویٹو رژیم کی قیادت کرتے ہیں ، جو کہ گلف کیپٹل ازم کی مرکزی قیادت فراہم کرتی ہے ، اب وہ عالمی معشیت کا ایک اہم سنٹر بھی ہے ، جس کا سرمایہ عالمی سطح پر بھی سرگرم ہے اور بقی سارے مڈل ایسٹ میں بھی – لیکن ان کو کئی ایک خطرات کا سامنا ہے ، امریکہ میں شیل پروڈکشن کا ابھار سعودی عرب کی تیل کے سب سے بڑے پیداوار کرنے والے ملک کی پوزیشن کو خطرے میں ڈال رہا ہے
اسی طرح سے سعودی شاہی خاندان کو خطے کے اندر سے بھی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے – جیسے ایران ہے جوکہ نہ صرف جیو پولیٹکل طور پر آل سعود کے لیے خطرہ ہے بلکہ آئيڈیالوجیکل طور پر بھی تہران اس وقت آل سعود کے مقابلے میں ایک طرف تو خود شیعی اسلام کا علمبردار ہے (تو وہ دوسری طرف سنّی صوفی اسلام ، خطے میں بسنے والی دوسری مذھبی بلکہ بائیں بازو کی سیکولر و سوشلسٹ قوتوں کے لیے بھی جگہ فراہم کررہا ہے اور یہ زیادہ شماریت پسند ہے
Inclusive
ہے )
پھر تہران اس وقت کم از کم نعرے بازی کی حد تک تو سامراجیت مخالف ہے اور یہ عرب انقلابات کی حمایت کررہا ہے ، جیسے اس نے اخوان المسلمون کی مصر میں انقلاب کے وقت حمائت کی جن سے سعودی اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی وہ ایرانیوں سے کرتے ہیں کیونکہ اخوان المسلمون نے ایک تو مڈل ایسٹ میں ان کے وہابی اسلام کے واحد بڑے نمائندے ہونے کی حثیت کو چیلنج کیا تھا (دوسرا وہ سعودی عرب کی بجائے قطر و ترکی کے ساتھ زیادہ اٹیچ ہوگئی تھی ( اور شام میں بھی اس نے سعودی پراکسی لڑاکوں کی حمائت کرنے کی بجآئے قطر اور ترکی کی حمایت یافتہ لڑاکا فورس جیسے اسلامک جہاد وغیرہ تھیں کو سپورٹ کیا تھا اور یمن میں بھی اس کی پارٹی یعنی الاصلاح نے سعودیہ کے ساتھ مکمل جانے سے احتراز کیا )
امریکی حملے کے بعد جب سے صدام کو ہٹایا گيا ہے تب سے عراق کے اندر شیعہ – سنّی – کرد کولیشن حکومت بنی ہے ، اس میں شیعہ کو پہلی مرتبہ اکثریت ہونے کی وجہ سے نمائندگی ملی ہے اور یہ شیعہ اس سے پہلے بطور ایک پسی ہوئی مظلوم کمیونٹی کے طور پر عراق میں موجود تھے -ایک طرح سے عراق میں نئے سیٹ اپ نے سعودی عرب کے مفادات کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کے بدلے میں سعودی عرب نے شام میں بہار عرب انقلاب کو فرقہ پرستی کی طرف پھیر دیا اور انھوں نے مصر کے اندر ردانقلاب قوتوں کو سپورٹ کیا جس نے خاص طور پر اخوان المسلمون کو نشانہ بنایا -لیکن اس ساری کوشش کا ایک نتیجہ تو داعش ہے -اس نے پھر بشار الاسد کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ، جس کو ایران ، روس اور چین کی حمائت حاصل ہے -حال ہی میں ایک ایرانی ممبر پارلیمنٹ نے بیان دیا کہ
ایران اب عرب دنیا کے تین بڑے ملکوں کے دارالحکومت پر ایران اثر انداز ہوتا ہے – بیروت ، بغداد اور دمشق
تو اب سعودی ، ایک نئے بادشاہ کے نیچے جس کا نام سلمان ہے جس نے حال ہی میں ولی عہد تبدیل کیا ہے اور کئی ایک وزیر بدل ڈالے ہیں ، وہ جوابی طور پر شدید حملے کررہا ہے – انھوں نے پہلے ہی تیل کی پیداوار کم کرنے سے انکار کیا ہے تاکہ تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں میں مزيد کمی کی راہ نہ روکی جاسکے – اب انھوں نے حوثی ملیشیا کی جیت روکنے کے لیے جوکہ شیعہ ہیں ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے ، سعودی ایرانی اثر پھیلنے کے بارے میں پاگل پن کی حد غصے میں ہیں اور ان کو یہ ڈر ہے حوثی تہران کے اشارے پر ناچتے ہیں -اور ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے سعودی نیشنل گارڑ نے 2011 ء میں بحرین کے انقلاب کو کچلنے کے لئے مداخلت کی تھی ، بحرین وہ ملک ہے جہاں شعیہ اکثریت جبر وظلم کے سائے میں زندکی بسر کررہی ہے

امریکہ ایک طرف تو حوثی ملیشیا پر سعودی حملے کی حمائت کررہا ہے ، اسی دوران وہ ایران سے اس کے نیو کلئیر پروگرام پر ڈیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور پھر وہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف لڑنے کے لئے ایرانی اتحادیوں پر انحصار کرتا ہے ، تو اس خطے میں امریکیوں کے سٹریٹجک مقاصد کیا ہیں ؟
اوبامہ جب صدر نہیں بنا تھا تو اس وقت سے وہ ایران سے ڈیل کی بات کررہا تھا ، اصل میں وہ عراق میں امریکہ کی ناکامی کے بعد سے مڈل ایسٹ میں امریکی قبضے کو دوبارہ سے مستحکم کرنے کی کوشش میں تھا -اس کی سٹریٹجی یہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جیسے ایران ، ترکی ، سعودیہ عرب اور اسرائیل ہیں کہ وہ مقامی کرائسز کو حل کرنے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کریں -لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کے مفادات آپس میں متصادم ہیں اور یہ بات امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ ان کو تقسیم کرو اور لڑاؤ کے تحت جہاں تک ہوسکتا ہے ایک حد ت رکھتا ہے اور کسی ایک کو مکمل طور پر خطے میں غالب نہیں آنے دیتا -لیکن یہ بہت زیادہ پیچیدہ بھی ہے -اور سب سے زیادہ پیچیدہ ایران ہے ، 2005 ء اور 2006ء میں جب بش اور ڈک چینی ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے تو یہ پینٹاگان تھا جس نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا تھا ، کیونکہ امریکہ پر ایران کا حملہ کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم تھے ، کیونکہ عراق کے برعکس ایک تو یہ گنجان آبادی کا ملک ہے اور پھر یہاں جو رجیم برسراقتدار ہے وہ ابھی سماجی بنیاد رکھتا ہے
اوبامہ کا متبادل تہران سے نیو کلئیر ڈیل کرنا ہے – لیکن ہنری کسنجر اس کیس میں ایک اصطلاح ” لنکیج ” استعمال کرتا ہے وہ کمزور ہے ، یعنی ایران سے امریکہ کی ایٹمی پروگرام پر جو ڈیل ہے وہ دوسرے ایشوز پر تعاون پر منتج ہوگی ؟ اس بارے میں اشارے کمزور ہیں، تو ایران اپنا ایجنڈا چلارہا ہے جب وہ بشار الاسد کی شام میں حمائت کرتا ہے اور عراق میں داعش کے خلاف لڑتا ہے – عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ اور ایران کا اشتراک بنتا ہے لیکن اس سے اتحاد کا راستہ نہیں نکلتا -امریکی دائیں بازو کے مبصرین جب یہ کہتے ہیں کہ اس وقت داعش کے خلاف جو عراقی شیعہ ملیشیا سے لڑرہی ہیں انھوں نے امریکہ کے عراق پر قبضے کے دوران امریکی سپاہیوں کو قتل کیا تھا
اوبامہ ایران سے ڈیل کرکے سعودی کو مزید ناراض کررہا ہے اور وہ پہلے ہی ان کو سخت غضے میں مبتلا کرچکا ہے تو یمن میں سعودی جارحیت کو سپورٹ کرنے کا مقصد دوھرا ہے کہ داعش اور القائدہ کو یمن سے دور رکھا جائے اور سعودی کو بھی یقین دلائے کہ وہ اب بھی ان کے ساتھ ہے -لیکن یہ جو بمباری ہے سعودی جارحیت کی اس کا اثر کم ہے اور سعودی چاہتے تھے کہ زمینی حملہ کیا جائے ، سعودی جانتے ہیں کہ 1960ء میں جمال عبدالناصر نے ان سے یمن میں پرکسی جنگ لڑی تھی جس نے جمال عبدالناصر کی خطے اور خود مصر میں اثر کو کمزور کردیا تھا تو سعودی کئی دوسری ریاستوں کو زمینی حملوں کے لیے راضی کرنا چاہا ، جیسے پاکستان ، ترکی اور مصر ہیں لیکن ان سب نے انکار کردیا ، امریکی جانتے ہیں کہ سعودی یمن میں بہت بڑی تباہی اور خرابی کو جنم دے چکے ہیں لیکن وہ ان کو سختی سے چیلنج کے زریعے مزید ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں
کیا عظیم تر مڈل ایسٹ میں امن کے لئے یہ سٹریٹجی کارآمد ہوگی ؟
نہیں ! لیکن ہمیں اتنا سادہ نہیں ہونا چاہئیے کہ ہم یہ خیال کرنے لگیں کہ امریکہ امن میں دلچسپی رکھتا ہے – آخر کا اوبامہ نے بھی ہمیشہ پیٹی مضحکہ خیز امن پروسس کو ترک کردیا ہے جو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان شروع کیا گيا تھا – سارا کھیل اب عالمی معشیت میں بنیادی اہمیت کے حامل حظے میں امریکی سامراجیت کے غلبے کو برقرار رکھنے کا ہے – اور اس کھیل سے چاہے جتنی اموات ہوں ، جتنی مشکلات ہوں ، جتنی بری حالت ہو ، اس سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں ہے -اوبامہ شام میں ان فورسز کے ساتھ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے جن کو وہ پسند نہیں کرتا چاہے وہ اسد ہو یا داعش – اور وہ یہ لڑائی جیتنا چاہتا ہے
یمن ، شام اور عراق سے لیکر یوکرائن یا حتی کہ مالی تک سب جگہ لڑائی ہورہی ہے -کیا عالمی سطح تک یہ تصادم جائے گا ؟ اگر ایسا ہے تو کیوں ؟
ہاں تصادم کی سطح بلند ہورہی ہے ، اگرچہ شام کو چھوڑ کر اموات کی تعداد وہ نہیں ہے جو سرد جنگ کے دنوں میڑ کوریا ، ویت نام ، ایران ، عراق اور افغانستان وغیرہ میں ہوئیں اور اس کی وجہ 1930ء کے بعد کیپٹل ازم کو پیش آنے والا کرائسز ہے جس نے امریکی غلبے و تسلط کو کسی حد تک کمزور کردیا ہے اور ہم اس کا نظارہ مڈل ایسٹ میں کرسکتے ہیں جہاں پہلے سے موجود سیاسی سیٹ اپ کو دو بڑے ہتھوڑے پڑے ہیں ، پہلا عراق پر امریکی حملہ اور اس کی شکست اور دوسرا 2011ء کے انقلابات

بلکہ یوکرائن کے کیس میں بھی پیوٹن نے اگرچہ دفاعی انداز میں یورپ اور نیٹو یو روس کی سرحدوں تک آنے سے روکا ، اس کا بڑھا ہوا اعتماد بھی امریکی زوال کے سبب ہے -مثال کے طور پر اس نے کس قدر کامیابی سے ستمبر 2013ء میں اسد کی جانب کیمکل اٹیک کے بعد اوبامہ کے فضائی حملے کرنے کی دھمکی کو غیر موثر بنادیا تھا
اس سارے معاملے میں چین کے دوسری بڑی معشیت اور دنیا کے سب سے بڑے ایکسپورٹر ، مینوفیکچرر کے طور پر ابھرنے سے جو سٹرکچرل تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے – پھر یہ بات بھی ہے کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جو اتحاد بنائے تھے بیجنگان سے الگ رہا اور اب وہ ایشیا پیسیفک میں امریکی فوجی غلبے کو کم کرنے کی سٹریٹجی پر عمل پیرا ہے ، اور امریکی سامراجیت کے لیے یہ زیادہ پریشانی کا باعث معاملہ ہے ، مڈل ایسٹ اور یوکرائن کے کیس میں تصادم زیادہ ڈھکے چھپے تھے ، لیکن ایشیا سامراجی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا زون بنتا جارہا ہے اور اس میں صرف امریکہ اور چین ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ ہندوستان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، ویت نام اور دیگر بھی ملوث ہیں
آج کی جو پیش رفت ہے یہ ہمیں پہلی جنگ عظیم سے پہلے عظیم طاقتوں کے درمیان بڑھنے والی کشاکش کی یاد دلاتی ہے اور اس کا نتیجہ عالمی جنگ تھا – کیا آج بھی یہ حقیقی خطرہ ہے ؟ اور ہمیں اسے روکنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں ؟
وہاں 1914ء سے بہت سی مماثلت ہے -پہلی مماثلت کہ جیو پولیٹکل مسابقت میں اضافہ ہورہا ہے -اور 20 ویں صدی میں جیوپولیٹکل اور اکنامک مسابقت دوبارہ سے ابھر کر سامنے آئی : جرمنی اور امرکہ برطانہ کے انڈسٹریل اور نیول غلبے کو چیلنج کررہے تھے اور برطانیہ کو مجبور کیا کہ وہ ایک کو شکست دینے کے لیے دوسرے سے اتحاد کرے ، تو اسی طرح چین بھی ایک بڑے معاشی چیلنجر کے طور پر امریکہ کے مقابل ہے اور وہ مغربی پیسفک میں امریکی نیول غلبے کے خاتمے کے لئے اپنی فوج تعمیر کررہا ہے
لیکن ہمیں ان مماثلتوں میں مبالغہ آرائی سے کام لینا نہیں چاہئیے ، اگست 1914ء سے پہلے یورپ دوطاقتور ترین بلاک میں بٹ چکا تھا اور آج ویسی صورت حال نہیں ہے – امریکہ کمزور ہوسکتا ہے ، لیکن امریکہ اب بھی سب سے زیادہ مضبوط سرمایہ دار ریاست ہے اور اہم ترین سرمایہ دار ریاستوں کے نیٹ ورک کا مرکز ہے اور یہ کافی دیر تک چین کو الگ کرنے یے لئے ایشیا میں تقسیم کرو اور لڑاؤ کا اصول اپنا کر سرگرم رہ سکتا ہے – چین کی قیادت بھی امریکی ہاتھوں میں کھیلی ہے جب اس نے جنوبی چین سمندر کے اندر تنازعوں میں چھوٹی پاورز کو زخم خوردہ کیا ہے
مجھے ابھی چینی کمیونسٹ پارٹی اندرونی معاملات میں گرفتار لگتی ہے جیسے معشیت کی سست روی ، بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل اور پرسنل غلبے کی ڈرائیو جیسے کرپشن کے خلاف مہم ، ہوسکتا ہے مستقبل میں ڈومیسٹک کرائسز بیجنگ کو فارن پالیسی میں جارحانہ عنصر کو سامنے لائے لیکن ابھی یہ ان کا ایجنڈا نظر نہیں آتا
یوکرائن کا کرائسز جس تیزی سے انٹر امپریلسٹ تصادم کے امکانات کو لیکر سامنے آیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی تک ” جنگ مخالف تحریک ” کی تعمیر کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایسا کسی ایک امپرلیسٹ پاور کی دوسرے کے خلاف سائیڈ لینے کے ساتھ نہیں کرنا چاہئیے
جب ہم کسی ایک کیمپ میں جاتے ہیں ، جیسے چین اور روس کو امریکہ کے خلاف پروگریسو کاؤنٹرویٹ کے طور پر دیکھنا ، اس حقیقت کو فراموش کرتا ہے کہ سامراجیت مسابقاتی سرمایہ دار طاقتوں پر مشتمل ایک نظام ہے اور ایک حریف طاقت کی سپورٹ کا مطلب آزاد لیفٹ پالٹیکس کو ترک کرنا ہوتا ہے ، پہلی جنگ غظیم کے دوران لینن اور روزا لکسمبرگ نے جو موقف اپنایا ہمیں اس کی روح کو اپنا ہے ، جب انھوں نے کسی ایک سامراجی اتحاد کے ساتھ جانے کے تصور کو رد کردیا ، ہمارا مقصد ایک ایسی عوامی تحریک کی تعمیر ہونا چاہئیے جو پورے سسٹم کو اکٹھے ہی اٹھا کر پھینک دے

   Source :http://voiceofaamir.blogspot.com/2015/06/interview-with-alex-callincos-on-middle.html

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*