آزادی اظہار رائے، شخصی آزادیاں اور ہماری ذمہ داری ۔ خرم زکی

 سوشل میڈیا پر الحادی فکر کے حوالے معروف اکاؤنٹ “بھینسا”نے ہمارے بلاگ “تعمیر پاکستان” اور المانہ فصیح کے حالیہ بیان (جس پر وہ معافی مانگ چکی ہیں) کے حوالے سے اپنے پیج پر اظہار خیال کیا اور مجھ سےمیری رائے طلب کی۔ اپنا جواب دینے سے پہلے ان کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں

Screen Shot 2015-06-16 at 15.01.47

میرا اس حوالے سے جواب درج ذیل ہے 

دیکھیں اس پر میں کئی جہتوں سے بات کر سکتا ہوں، سول سوسائٹی ایکٹوازم کے حوالے سے بھی، لبرل سیکولر پیراڈائم میں بھی۔ علمی اور تحقیقی پیراڈائم میں بھی اور خالصتا دینی حوالے سے بھی۔ مختصر عرض کرتا ہوں۔

مذہبی حوالے سے: شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان امام علی کی شخصیت متنازعہ نہیں اور دونوں ہی اہل بیت رسالت کے احترام کے قائل ہیں، چاہے دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں یا کوئی اور، تمام مکاتب فکر کے نزدیک اہل بیت رسالت سے دشمنی یا ان کو گالم گلوچ حرام ہے۔ اس لیئے جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کلیم کرتا ہے، آخرت کو مانتا ہے اس کے لیئے تو کوئی جواز ہی نہیں امام کو گالی دینے کا۔ اس حوالے سے اسلامی احکامات واضح ہیں۔

لبرل سیکولر پیراڈائم: لبرل پیراڈائم میں بھی امام علی یا ان کی والدہ کو گالی دینے کا کوئی جواز نہیں۔ لبرل ازم آزاد خیالی کو کہتے ہیں اور سیکولر ازم مذہب و ریاست کی علیحدگی کو لیکن دونوں میں سے کسی کی مراد یہ نہیں کہ مذہبی شخصیات کو گالی دی جائے۔ ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ لبرل سیکولر کنسٹرکٹ میں آزادی اظہار رائے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور کسی سے بھی اس کی بات کرنے کی آزادی نہیں چھینی جا سکتی تو پھر یہ حق دو طرفہ ہے یعنی جس طرح ایک طرف سے گالی دینے والے کو گالی دینے کی اجازت ہے تو پھر دوسری طرف جن کے جذبات مجروح ہوں ان کو احتجاج کرنے کی، کیمپین چلانے کی اجازت ہے۔ اب آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ گالی دینا تو آزادی اظہار رائے کے تحت روا ہے لیکن احتجاج نقصان پہنچنے کے اندیشہ کی بناء پر جائز نہیں کیوں کہ شخصی آزادیوں پر پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اس طرح کے احتمالات کے سبب اور اگر لگائی جا سکتی ہیں تو پھر پہلے گالی دینے والے پر بھی لگائی جا سکتی ہے نقص امن کے اندیشے کے سبب۔

دوسرا ہیٹ اسپیچ اور نسل پرستی پر مبنی ریمارکس آزادی اظہار رائے کے قوانین کے تحت دنیا کے کئی لبرل سیکولر قوانین میں کوئی تحفظ نہیں رکھتے۔ اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ لبرل سیکولر پیراڈائم آپ سے ملکی قوانین کے احترام کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر آپ ملکی قوانین کے احترام کی مطلقا نفی کرتے ہیں تو دوبارہ سے یہ حق ہر گروہ کو دیں کیوں کہ آپ کے افکار و خیالات دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ بھی اپنی راہ چننے میں آزاد ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اس پورے تنازعہ میں ہم نے کہیں بھی کسی پر تشدد رد عمل کی بات نہیں کی اور نہ ہی کافر کافر چلائے، نہ ہی بلاسفیمی لاء کو انووک کرنے کی بات کی۔ اگر اسی طرح کا کوئی کمنٹ ان محترمہ نے پاکستان کے اکثریتی مذہب کی کسی مقدس شخصیت کے حوالے سے کیا ہوتا تو اب تک کیا ہو چکا ہوتا آپ کو اندازہ ہو گا۔ اگر نہیں تو تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ ہم نے بطور مکتب اپنے اور ان جنونی تکفیری دہشتگردوں کے درمیان فرق کو عملی طور پر واضح اور ظاہر کیا ہے۔

انسانی حقوق و ایکٹوازم پیراڈائم: جو لوگ انسانی حقوق کے لیئے اور پرسیکیوٹڈ کمیونٹیز کے لیئے کام کر رہے ہیں وہ ایسی پرسیکیوٹد کمیونٹیز کے عقائد و علامات کا مذاق اڑانے سے گریز کرتے ہیں (اگر چہ بذات خود یہ روا ہی کیوں نہ ہو) تاکہ وہ کمیونٹی جو پہلی ہی نسل کشی اور قتل عام کا شکار ہے اپنے آپ کو مزید تنہا نہ محسوس کرے۔ اور یہ ایک انسانی جذبہ و احساس ہمدردی کے تحت ہے۔ جو گروہ پہلے ہی ریاست اور مذہبی طبقے کی زیادتیوں کا شکار ہے تو کوئی سینس نہیں بنتا کہ انسانی حقوق کے داعی بھی آ کر انہیں کے عقائد پر حملہ کر دیں۔

علمی و تحقیقی پہلو: میں اس ہی کو قبول کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ آپ کو ضرور اپنی بات کہنے کی اور تنقید کی اجازت ہے اگر وہ علمی حدود میں ہو اور شائستگی کے دائرے میں رہے۔ گالم گلوچ، لعن طعن سے گریز کرتے ہوئے اگر آپ نفس مضمون بیان کر دیں تو اس کا آپ کو پورا حق ہے۔ لیکن یہ کہ زیر حوالہ تھریڈ میں ایسا کوئی علمی حوالہ نہیں تھا بلکہ تمسخر اڑایا گیا اور مذاق ہی مذاق میں خواتین کے اپر نازیبا حملے کیئے گئے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ میں آزادی اظہار رائے کہ نام پر یہاں آپ کی والدہ کوگالی دے دوں تو کوئی بھی میرے رویہ کی حمایت نہیں کرے گا اور سب ہی اس کو مسترد کریں گے۔ اگر علمی تنقید ہو تو جواب علمی ہی ہونا چاہیئے۔

اب جہاں تک شیخین کی بات ہے میں ان پر گالم گلوچ کو جائز نہیں سمجھتا اور کبھی اس طرز عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ شیعہ مراجعین کا فتوی بھی اس حوالے سے واضح ہے۔ ہم ان پر علمی نقد و جرح کو، ان کے طرز عمل سے اختلاف کو، تاریخی واقعات کے اظہار کو صحیح سمجھتے ہیں لیکن ان پر گالم گلوچ و لعن طعن کو نہیں۔ تو میں اس حوالے سے کسی دہرے معیار کا بھی شکار نہیں۔

اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام اور نسل کشی کے لیئے توہین صحابہ ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے ہاتھ میں محض ایک بہانہ ہے ورنہ تو مفتی سرفراز نعیمی، مولانا حسن جان اور قاضی حسین احمد نے کون سی توہین صحابہ کی تھی جو اس تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ کالعدم اہل سنت والجماعت(سابقہ انجمن سپاہ صحابہ) نے بریلوی سنی اور معتدل دیوبندی مسلک کے ان ان رہنماؤں کو قتل کیا اور دہشتگرد حملے کیئے؟ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں نے کون سا کسی صحابی پر تبراء کیا تھا جو ان معصوم طالبعلموں او بچوں کو اس کالعدم دہشتگرد گروہ نے اس بے دردی کے ساتھ قتل و ذبح کیا؟ اور پھر مکتب دیوبند کے سرخیل اور بانی مولانا رشید احمد گنگوہی تو صاف اپنے فتوی میں کہ چکے کہ صحابہ پر لعنت ملامت کی وجہ سے کوئی کافر نہیں ہوتا تو اس کے بعد اس بہانے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

او ر پاکستان میں موجود اقلیتوں کے قتل عام میں بھی یہی تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ ملوث ہے۔ وہ اقلیتی برادری کے لوگ کب کہاں کسی صحابی کو گالم گلوچ نکالتے ہیں ؟ نہیں جناب بات صرف اتنی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس تکفیری خارجی فکر کو ہمارے اپر اس لیئے مسلط کر رکھا ہے کیوں کہ اس سے ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب رہے اور یہ دہشتگرد ٹولہ بزور طاقت ہمارے اپر اپنے انتہا پسندانہ افکار مسلط کر سکے۔ ہم شخصی آزادیوں کی حمایت کرتے ہیں اور تقریر و تحریر کی آزادی کے قائل ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ہر مسلک،  مکتب و مذہب کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے، اس کے اظہار اور اس کی تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیئےجیسا کہ آئین پاکستان بھی اس ضمانت دیتا ہے۔

باقی میرا تعلق ایک دیوبندی گھرانے سے ہے۔ کچھ لوگ مجھے وہابی کہتے ہیں، کچھ مقصر کہتے ہیں، کچھ شیعہ اور کچھ جہادی بھی سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں جس چیز کو عقل و دلیل کی روشنی میں صحیح سمجھتا ہوں کہ دیتا ہوں اس بات سے قطع نطر کہ آپ میرا کیا نام رکھتے ہیں۔

آخر میں جان کی امان پاؤں اور اس سوال کی پاداش میں ہمارے بلاگ کی خلاف دیسی کمرشل لبرلز مذید جھوٹا پراپیگینڈا نہ کریں تو ایک سوال میں بھی پوچھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ آپ جناب نے اپنی ایک پوسٹ میں ہمارے بلاگ پر یہ الزام لگایا کہ ہم نے یہ کہا ہے کہ امام علی عرب نہیں ایرانی تھے۔ میں آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ یہ ہم نے کہاں کہا ہے؟ آپ نے جس پوسٹ کو حوالہ دیا ہوا ہے وہ تعمیر پاکستان کی پوسٹ نہیں بلکہ المانہ فصیح اور علی زیدی کا مکالمہ ہے اور ان دونوں میں سے کسی کا بھی تعلق ہمارے بلاگ سے نہیں۔ آپ نے بغیر تحقیق ہم پر الزام لگایا، آپ کویہ الزام واپس لینا چاہیئے اور اس کی تصحیح کرنی چاہیئے۔ میں آپ کی پوسٹ کا اسنیپ شاٹ نیچے لگا دیتا ہوں تاکہ کوئی بھی دیکھ سکے کہ کس طرح تعمیر پاکستان بلاگ پر جھوٹے الزام لگا کر ہم کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

Screen Shot 2015-06-17 at 01.28.15

 یہ بھی بتا دوں کہ ہمارے بلاگ کا تعلق کسی خاص مسلک و مکتب سے نہیں بلکہ ہم ہر مظلوم اور پرسیکیوٹڈ کمیونٹی کے ساتھ ہیں، ہم ترقی پسند لبرل، پلورل اقدار کی حمایت کرتے ہیں، جب سارے کمرشل لبرلز جے سوئی چارلی بننے میں کوئی شرم و ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تو پاکستان میں شیعہ، سنی بریلوی، احمدی، صوفی، شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے پے در پے قتل عام کے بعد ہم بھی جے سوئی شیعہ، جے سوئی احمدی، جے سوئی بریلوی کہلانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

شکریہ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*