پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں سنی صوفی اور بریلوی نسل کشی

 

11

پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں سنی صوفی اور بریلوی نسل کشی وطن عزیز پاکستان میں سنہ انیس سو اسی کے عشرے سے دیوبندی مسلک کے بطن سے جنم لینے والے انتہا پسند تکفیری، خارجی عناصر نے دہشت گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے – جہادی تنظیموں اور دیوبندی مدارس کی صورت میں ان کو سعودی وہابی امداد اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میسر آئی جس کی آڑ میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جند الله، طالبان اور احرار کے روپ میں نام بدل کر کام کرنے والے یہ دہشت گرد گروہ کھل کر معصوم اہلسنت خاص طور پر صوفی منش سنی اور بریلوی مسلمانوں کے خلاف بدعت، شرک، قبر پرستی کے بے بنیاد الزاموں کی ترویج کرتے رہے اور اپنے نفرت انگیز ایجنڈے پر عملدر آمد سنی صوفی اور بریلوی علما کو شہید اور سنی مسجد اور مزارت پر حملوں کی صورت میں کیا
ایک تخمینے کے مطابق براہ راست اور بالواسطہ طور پر کم از کم پینتالیس ہزار سے زائد سنی صوفی، بریلوی مسلمان ان دیوبندی تکفیری خوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں – تعمیر پاکستان کے سابق مدیر عبدل نیشاپوری نے پاکستان میں سنی صوفی نسل کشی پر نہایت عرق ریزی سے ایک تفصیلی فہرست یا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جس پر میڈیا اور اہل ارباب کو غور کرنے کی ضرورت ہے
بد قسمتی سے اس سنی صوفی نسل کشی میں ملوث دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (نام نہاد اہلسنت والجماعت ) کیسرپرستی بڑے نامی گرامی دیوبندی علما اور مفتی حضرات کرتے ہیں جبکہ سنی بریلوی اور صوفی مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے تکفیری فتاویٰ بھی ریکارڈ پر موجود ہیںپاکستان میں مزارات اولیاء اور پر امن سنی صوفی و بریلوی رہنماؤں، صوفیا کرام اور علما کو دیوبندی خوارج نے دہشت گردی کا متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔

Comments

comments