شہید سلمان تاثیر تیری عظمت کو سلام ۔ از نور درویش

شہید سلمان تاثیر تیری عظمت کو سلام.

سلمان تاثیر نے اس معاشرے میں ایک مظلوم بے گناہ مسیحی عورت کیلئے آواز اٹھائی جہاں توہین رسالت کا الزام لگا میاں بیوی کو اینٹوں کی بھٹی میں پھینک دیا جاتا ہے. توہین کا نعرہ لگا کر پوری جوزف کالونی جلا کر راکھ کر دی جاتی ہے. سلمان تاثیر کو شہید کہنے پر اعتراض کرنے والے دوغلے اور منافق لوگوں سے سوال ہے کہ کونسی گستاخی کی تھی سلمان تاثیر نے؟ آخری انٹرویو تک یہ کہتا رہا کہ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے دوبارہ غور کر لیں، وہ قانون جو ضیاء الحق کے دور میں بنا تھا ایک انسان کا بنایا ہوا قانون ہے جس میں بہتری لائی جا سکتی ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا سد باب ہو سکے. سلمان تاثیر نے بارہا کہا کہ وہ توہین رسالت کا تصور بھی نہیں کر سکتے. بس اس بات کو توڑ مروڑ کر توہین رسالت کا شور بلند کر دیا گیا. عباد ڈوگر دیوبندی نامی سپاہ صحابہ کے سابق عہدیدار نے سلمان تاثیر کے قتل پر ایک کروڑ انعام کا اعلان کر دیا. عباد ڈوگر کو بعد ازاں نون لیگ نے قومی اسمبلی کا ٹکٹ بھی بطور انعام دیا. سب جانتے ہیں کہ بطور گورنر پنجاب سلمان تاثیر شہباز شریف اور نون کی آ نکھوں میں کتنا کھٹکتا تھا. دوسری طرف ایک کروڑ کے انعام کی لالچ میں سلمان تاثیر سیکیورٹی پر معمور ملک ممتاز نامی ایلیٹ فورس کے اہلکار نے سلمان تاثیر کو شہید کر دیا اور اب پھانسی کے خلاف اپیلیں کرتا پھر رہا ہے. سلمان تاثیر کی حفاظت پر معمور یہ ذہنی مریض حکومت سے جس کام کی تنخواہ لے رہا تھا اسی فرض کی خلاف فرضی کا مرتکب ہوا.

احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں وہ لوگ جو حنیف قریشی نامی ایک مولوی کی ایک تقریر کو اس قتل کی وجہ سمجھتے ہیں. یہ سب ایک کروڑ روپے کا کمال تھا.

سلمان تاثیر کی ذاتی زندگی کیا تھی، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں. ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ سلمان تاثیر ایک مظلوم غریب مسیحی عورت کے حق میں بولنے کی وجہ سے نا حق قتل ہوا اور انسانیت اور حق کی راہ میں جان قربان کرنے والا شہید ہوتا ہے.

Comments

comments