سراج الحق، ایم کیو ایم اور منافقت – خرم زکی
جماعت اسلامی پاکستان کا رہنما سراج الحق دیوبندی ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اعترافی بیانات پر ایم کیو ایم کے خلاف پابندی کا مطالبہ کرتا ہے لیکن یہی سراج الحق دیوبندی پہلے سے ہی کالعدم دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) کے سرغنہ لدھیانوی اور فاروقی کو گلے لگاتا ہے، اسی جماعت کا امیر منور حسن کالعدم دہشتگرد گروہ تحریک طالبان کے سرغنہ حکیم ﷲ محسود کو شہید قرار دیتا ہے، عالمی دہشتگرد گروہ القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو ہیرو قرار دیتا ہے
اور یہ وہ دہشتگرد ہیں جن کے ہاتھ نہ صرف شیعہ مسلمانوں، بریلوی سنیوں، صوفیوں، مسلح افواج، احمدی کمیونٹی، مسیحی برادری کے خون سے رنگین ہیں بلکہ یہ دہشتگرد تمام انسانیت کے دشمن ہیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ تو کیا صرف وہ دہشتگردی بری ہے جو ایم کیو ایم سے سرزد ہو ؟ اور یہی سراج الحق دیوبندی یہ نہیں بتاتا کہ کتنے ہی القاعدہ کے دہشتگرد ہیں جو جماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھروں سے برآمد ہوئے۔ کیا آپ نے سنا کہ اس سراج الحق دیوبندی نے آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کے قتل عام کے بعد، شکار پور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں شیعہ مساجد پر دوران نماز دہشتگرد حملوں کے بعد کوئی ایک بھی بیان کالعدم تحریک طالبان، کالعدم سپاہ صحابہ، لدھیانوی، فاروقی، لاہوری اور ملک اسحق کی مذمت میں دیا ہو؟
کوئی ایک بھی بیان جہاں ان تکفیری دہشتگردوں کے سرپرست نے ان دہشتگردوں کی نام لے کر مذمت کی ہو ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر سمجھ لیں کہ جماعت اسلامی ایم کیو ایم سے اپنی دیرینہ سیاسی مخاصمت نکال رہی ہے اور جماعت اسلامی کے یہ بیانات اس کے منافقانہ اور دہرے طرز عمل کی نشاندہی کرتے ہیں نہ کہ کسی اصولی مؤقف کی۔