امریکی محقق پروفیسر کرسٹین فیئرکا دیوبندی دہشت گردی بارے اہم لیکچر – صدائے اہلسنت

امریکی محقق پروفیسر کرسٹین فیئرکا دیوبندی دہشت گردی بارے اہم لیکچر – صدائے اہلسنت

 10355744_863631567029575_1884662587656094335_n

نوٹ : کرسٹائن ایف فرئیر امریکہ کی ایک اہم ریسرچ سکالر ہے ، جس نے حال ہی میں امریکہ کے اندر وہاں کی انٹیلجنٹسیا کو یہ بتانا شروع کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے اندر بالعموم اور پاکستان ، ہندوستان اور افغناستان میں بالخصوص جہاد کے نام پر جو دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ان کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے اور دیوبندی ازم سے ان کا تعلق ہونے کی وضاحت کرسٹائن ایف فرئیر سے پہلے کسی نے اتنے واضح انداز میں نہیں کی
اگرچہ یہ ظاہر ہے کہ کرستائن ایف فرئیر کیونکہ ایک امریکی نیشنل ہے تو وہ امریکی سٹریٹیجک مفادات کو ہی اولیت دے گی اور اس حوالے سے وہ پاکستانی سٹریٹجک مفادات جہاں وہ امریکہ سے ٹکراتے ہوں گے ان کو اپنے ہی معنی پہنائے گی ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کرسٹائن ایف فرئیر کی بات کو سرے سے رد کردیں
پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت نے تحریک طالبان پاکستان اور اس کے ساتھ مل جانے والے جملہ دیوبندی عسکری گروپوں کے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے اور پاکستانی عسکری قیادت پاکستان کی قبائلی پٹی کو ان دہشت گردوں سے پاک کرنے میں مصروف ہے ہم اس پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو بطور پراکسی کسی بھی مسلک ، کسی بھی نسلی و قومیتی گروہ کے عسکری لشکر ترتیب نہیں دینے چاہیں کیونکہ اس عمل سے پاکستان کو آج تک کوئی فائدہ نہیں ہوا
ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ پاکستان کی ملڑی اسٹبلشمنٹ کو دیوبندی تکفیری اور وھابی و جماعتی عسکری لشکروں کو ختم اور ان کی جگہ اہلسنت بریلوی کے کسی لشکر کی تشکیل کے زریعے پر کرنی چاہئیے ، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کسی کو بھی پرائیویٹ لشکر بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے اور اس پر عمل زمین پر نظر آنا چاہئیے
کرسٹائن ایف فرئیر نے آئی ایس آئی پر الزام لگایا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے دھڑوں کی سپورٹ کرتی رہی ہے ، ہم کہتے ہیں کہ امریکی اس حوالے سے اپنے گریبان میں بھی جھانکیں سی آئی اے نے افغان جہاد کا ماڈل تیار کیا اور 9/11 کے بعد بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور شام کے اندر جو کچھ ہوا اور آج عراق میں جو ہورہا ہے یہ امریکہ ، اس کے یورپی اتحادیوں اور وھابی عرب حاکموں کے درمیان اتحاد سے جنم لینے والی نام نہاد جہادی پراکسی کا نتیجہ ہے اور ابھی تک اس دوھرے معیار میں بدلاو نہیں آیا ہے ، امریکہ کو چاہئیے کہ وہ خطے میں بھارت کی جانب سے مذھبی بنیادوں پر پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ منافرت کو تیز کرنے اور دیوبندی طالبانی تکفیری گروپوں کو استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے
ہم آج بھی ہر دیوبندی کو دہشت گرد نہیں کہتے اور نہ ہی تمام دیوبندیوں کو دہشت گردوں کا حامی کہتے ہیں لیکن ہم ابھی تک یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی دیوبندی عالم اور دیوبندی سیاسی تنظیم یا مدرسہ دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیموں اور ان کی قیادت سے اعلانیہ اعلان برات اور ان کے خارجی ہونے کا فتوی دیتا ہے کہ نہیں اور ان کو پاکستانی ریاست کا باغی قرار دیتا ہے کہ نہیں
ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ وفاق المدارس کی قیادت ہو کہ جے یوآئی کے تمام دھڑوں کے سربراہ ہوں اور دیوبندیوں کے نمائیندہ مدرسوں کے سربراہ ہوں ان میں سے ایک بھی دیوبندی دہشت گردوں کے خلاف برملا اعلان برات کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اپنی صفوں سے مولوی برقعہ ، احمد لدھیانوی ، اورنگ زیب فاروقی جیسے تکفیری خارجی دہشت گردوں کے نظریہ سازوں کو نکالنے پر رضامند ہیں
پاکستان کی موجودہ حکومت ، وزیراعظم نواز شریف ، پنجاب حکومت شہباز شریف سمیت ان سب قومی سیاسی رہنماوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئیے کہ پاکستان کو اگر عالمی برادری کا ایک معزز اور قابل فخر رکن بنانا ہے تو کالعدم تنظیموں سے اتحاد اور ان کی سرپرستی وقتی سیاسی مفاد کے لئے جو کی جاتی ہے ترک کرنا ہوگی ورنہ کرسٹائن ایف فرئیر دیوبندی تکفیریت اور دہشت گردی کے رشتے ناطے پاکستانی ریاست سے جوڑتے ہیں اس سے پیدا ہونے والی مشکلات پاکستان کے لئے دردسر بنی رہیں گی
ہم دیوبندیوں کی سیاسی مذھبی قیادت سے کہتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے مفادات اور سعودی عرب کے تزویراتی مفادات پر پاکستان کے مفادات قربان کرنے کی پالیسی ترک کردیں اور پہلے پاکستان کی پالیسی کو اپنائیں ، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے