پاکستانی داعش کے خدوخال ۔ جماعت الاحرار ، لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان نے متحدہ تحریک طالبان پاکستان بنانے کا اعلان کردیا – صداۓ اہلسنت

پاکستانی داعش کے خدوخال ۔ جماعت الاحرار ، لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان نے متحدہ تحریک طالبان پاکستان بنانے کا اعلان کردیا – صداۓ اہلسنت

10355744_863631567029575_1884662587656094335_n

پشاور میں میڈیا دفاتر کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دیوبندی تکفیری طالبانی رہنماء احسان اللہ احسان نے خبر دی ہے کہ لشکر اسلام ۔ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی مولوی فضل اللہ گروپ نے باقاعدہ ایک دوسرے میں ضم ہوکر ٹی ٹی پی (متحدہ ) بنانے کا اعلان کردیا ہے اور اب یہ تینوں ایک تنظیم ٹی ٹی پی کے طور کام کریں گے ، زرایع نے خـر دی ہے کہ افغانستان میں ایک نامعلوم مقام پر مولوی فضل اللہ ، ابوعمر خالد خراسانی اور منگل باغ کے درمیان ملاقات ہوئی اور تینوں رہنماؤں نے ایک نظم کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا اور آئیندہ سے ان کے لوگ ٹی ٹی پی کے نام سے ہی کام کریں گے اور جلد ہی اس تںظیم کی مرکزی شوری کا اعلان کردیا جائے گا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان گروپوں کے ساتھ پہلے سے ہی جند اللہ ، لشکر جھنگوی رابطے ہیں اور خان سعید سجنا گروپ بھی جلد ہی ان سے آن ملے گا ، احسان اللہ احسان ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو پہلے سے داعش کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین میں داعش جیسے ماڈل کو لیکر القائدہ اور دیوبندی تکفیری دھشت گروپ الامارت خراسان قائم کرنے کی طرف جارہے ہیں اور اسلامک سٹیٹ آف برصغیر کے امکانات سامنے آرہے ہیں

یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے بارے میں ہماری سیاسی قیادت کا رویہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے ، وزیرداخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ داعش پاکستان کے لیے کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں ہے ، جبکہ وزرات خارجہ کے ترجمان اعزاز کہتے ہیں کہ داعش پاکستان کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے ، سابق سیکرٹری داخلہ کہتے ہیں کہ طالبان سمیت دیوبندی تکفیری دھشت گرد منتشر ہوچکے ہیں اور ان کے درمیان رابطوں اور ان کے منظم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بہت ہی کم بصیرت والا تجزیہ لگتا ہے ، نیچے ڈیلی ڈان کا یہ گراف ظاہر کرتا ہے کہ دیوبندی تکفیری طالبان اور القائدہ کے درمیان اور پھر طالبان اور دیگر چھوٹے چھوٹے دیوبندی تکفیری دھشت گرد گروپوں کے درمیان کیسے تعلقات ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ، یہ لینڈ سیکپ ہمیں پاکستانی ریاست کو دیوبندی تکفیری دھشت گردی سے

لاحق سنگین خطرات کی بھی بھرپور عکاسی کرکے دکھارہا ہےاس لینڈ سکیپ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے فٹ پرنٹس پنجاب کے اندر کس حد تک گہرے ہیں جبکہ پنجاب حکومت اس حوالے سے میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے ، خطرہ بہت تیزی سے قریب آرہا ہے اور ہمیں اس حوالے سے سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کے داعش کے حوالے سے انکشافات کو بھی زھن میں رکھنا چاہئيے