واہ خودکش بمبار کوثر دیوبندی لال مسجد کا طالب علم اور سپاہ صحابہ کا کارکن تھا – تحقیقاتی ادارے

1 3
2

ٹیکسلا: ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رواں ہفتے منگل کو واہ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑانے والا خودکش حملہ آور کوثرعلی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد کا طالب علم تھا۔ ڈان اخبار اور دیگر پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کوثر اور لال مسجد کی دیوبندی شناخت کو چھپایا گیا جبکہ کالعدم تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ سے اس کے تعلق کی خبر بھی سنسر کر دی گئی – یاد رہے کہ لال مسجد کے مولوی عبد العزیز، جمیعت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمن، سپاہ صحابہ کے احمد لدھیانوی، وفاق المدارس کے حنیف جالندھری اور دیگر دیوبندی علما اور تنظیمیں طالبان اور سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں – حالیہ خود کش حملہ اسی مخالفت کا شاخسانہ ہے

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے میں ملوث ہونے کے شک میں جمعرات کو سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے متعدد دیوبندی شر پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار شدگان کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، جن میں سے دو واہ خود کش حملہ آور کے بھائی بتائے گئے۔ دونوں بھائیوں کو رات گئے فتح جنگ کے قریب ان کے آبائی گاوں جبی کسراں سے گرفتار کیا گیا۔

خودکش حملہ آور کوثر علی کی بیوی، تین بھائی اور بہن فیصل آباد میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ اس کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ کوثر تین ماہ قبل گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا جس کے بعد اس نے اپنی بیوی سمیت گھر کے کسی فرد سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ پولیس کے مطابق کوثرعلی کا ایک بھائی قتل کے جرم میں اٹک جیل میں قید ہے۔ اس کے دو بھائی مزدوری کرتے تھے، جبکہ ایک رکشہ چلاتا تھا – دوسری جانب حملہ آورکوثر دیوبندی کی لاش کو ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے لیے سرد خانے منتقل کردیا گیا۔

یاد رہے کہ منگل بیس جنوری کو جی ٹی روڈ پر واہ کے قریب تکفیری خود کش حملہ آور کوثر دیوبندی نے پولیس کے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پشاور سے راولپنڈی آنے والی بس میں سوار تھا، جی ٹی روڈ پر واہ چیک پوسٹ کے قریب پولیس کے روکے جانے پراس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ واقعے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ فضل الرحمن، ملک اسحاق، لدھیانوی، رفیع عثمانی، مفتی نعیم، حنیف جالندھری، عدنان کاکا خیل، سراج الحق اور ان تمام طالبان پرست دیوبندیوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ دیوبندی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں

http://www.dawnnews.tv/news/1015684

http://www.dawn.com/news/1158882/

wah

Comments

comments

Latest Comments
  1. kamran khan
    -